مضامین ومقالات

جانبدار کو غیر جانبدار بنائیں

مدثراحمد
ایڈیٹر روزنامہ آج کاانقلاب شیموگہ،کرناٹک:۔9986437327
موجودہ دورمیں میڈیاوہی اہمیت رکھتا ہے جتنا کہ جنگ کے میدان میں تلوار یا بندوق کی اہمیت ہوتی ہے،آج کل تو میڈیا اٹم بم سے زیادہ طاقتور اور خطرناک ہے،جس کی وجہ سے دنیا ایک طرح سے خوفزدہ ہے۔میڈیا جنتا مفید ہے اتنا ہی نقصاندہ ہے او ریہ نقصاندہ اس وقت بن جاتا ہے ا سکا استعمال غلط افراد کے ذریعے سے کیا جانے لگے۔فی الوقت ہم میڈیا کو غیر جانبدارانہ شعبہ نہیں کہہ سکتے کیونکہ اس شعبے کے ذریعے سے سچائی،حقیقت اور صحیح خبروں کی ترجمانی کم ہورہی ہے اور مفاد پرستی،مخصوص طبقے کی ترجمانی،کسی خاص طبقے کو نشانہ بنانے کیلئے میڈیا کا استعمال ہورہا ہے۔میڈیا کا مطلب صرف خبریں پہنچانے والے ذرائع نہیں ہیں بلکہ وہ تمام ذرائع جو کسی طرح کا پیغام پہنچاتے ہیں وہ میڈیا کہلاتا ہے۔آج کے دور میں فلموںکی بات کریں یا پھر سیریلوںکی،نغموںکی بات کریں یا پھر نیوز چینل کی ،یہ تمام کسی نہ کسی طریقے سے جانبدارانہ رُخ رکھتے ہیں۔سب سے پہلے ہم اگر فلموںکی بات کریں تو ہمارے سامنے پندرہ بیس سالوںمیں آنے والی فلموںکی ایسی مثالیں ہیں جو ایک خاص طبقے کو نشانہ بنا رہے ہیں۔جن میں فلم بارڈر،غدر،ر ئیس،خاکی اوربجرنگی بھائی جان جیسی فلمیں ہیں جن میں مسلمانوںکی مخالفت کیلئے ہر طرح کا حربہ استعمال کیاگیا ہے اور ان فلموں میں مسلمانو ںکو ویلن بنایا گیا ہے۔اسی طرح سے سیریلس کی بات کریں ،ہر ایک سیریل میں مثبت یعنی(پازیٹیو) پیغام دینے کے بجائے اس طرح کے نگیٹیو یعنی(منفی) پیغام دئیے جارہے ہیں،جس سے نہ صرف اسلام کے اصولوںکی مخالفت ہورہی ہے بلکہ ایک مہذب سماج ،پاکیزگی،اخلاقی کردار کی دھجیاں بھی اڑ رہی ہے۔ہر ایک سیریل میں ایک عورت کے تین تین شوہراور ناجانے کتنے ناجائز رشتے ،ہرمرد کے رشتے اتنی لڑکیوں کے ساتھ رہتے ہیں کہ انہیں یاد بھی نہیں رہتا کہ وہ اس کے ساتھ تعلقات رکھتا ہے یا نہیں۔آج اینٹرٹینمنٹ میڈیا اس قدر بداخلاقی اور بدکرداری کو بڑھاواد ے رہا ہے کہ لوگ اسے فیشن سمجھ رہے ہیںاور ان سیریلوں کے حوالے دیکر اپنی زندگیوں کو تباہ کررہے ہیں۔فلم میڈیا اور اینٹرٹینمنٹ میڈیا کے بعد سب سے اہم میڈیا جسے ہم اور آپ نیوز میڈیا کہتے ہیںوہ تباہی کا سامان بن چکا ہے اور ہر اچھی چیزکو بُری ثابت کرنا اور بُری چیزوں کو اچھا ثابت کرنا اس کا شیوا بن چکا ہے۔نیو زمیڈیا جسے جمہوری نظام کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے اور اسے جمہوری نظام میں واچ ڈاگ آف ڈیموکرسی کہا جاتا ہے وہ میڈیا آج بکائو میڈیا بن چکا ہے۔خبروں کوتوڑ مروڑ کر پیش کرنا اور کسی خاص طبقے کو بدنام کرنے کیلئے گھنٹوں تک تبصرے و مباحثے کرنا ہندوستانی ویہودی میڈیا کا اہم حصہ بن چکا ہے۔جب بھی کوئی مسلمان کسی معمولی معاملے میں گرفتار ہوجاتا ہے یا پھر پولیس اپنی شان میں اضافہ کرنے کیلئے دہشت گردی کے نام پر کسی مسلمان کو گرفتار کرتی ہے تو یہ میڈیا بریکنگ نیوز کے طو رپر اُس بے گناہ کودنیا کے سامنے پیش کرتی ہے کہ دنیا والے اسے واقعی میں خطرناک سمجھنے لگتے ہیںاور یہ بے گناہ عدالتوں میں برسوں تک اپنی بے گناہی ثابت کرتا رہتا ہے اور آخر میں اس کی رہائی ہوتی ہے تو میڈیا میں اس کی بے گناہی کی خبر بالکل بھی دکھائی نہیں جاتی۔گجرات کے مفتی عبدالقیوم کی بات کریں جنہیں اکشردھام مندر پر حملے کا ملزم بنایا گیا تھا اور قریب 15 سال کی لمبی قانونی لڑائی کے بعد بے گناہ قرار دیا گیا۔جس وقت مفتی عبدالقیوم کو حراست میںلیا گیا تھا اُس وقت انہیں دنیا کی جتنی بڑی طاقتور دہشت گردتنظیمیں تھیں ان سے جوڑ کر دکھایا گیا۔جب ان کی رہائی ہوئی تو کسی بھی نیوز چینل یا اخبارمیں ان کے نام کی ہیڈ لائن نہیں آئی۔اسی طرح سے ہندوستان کے مختلف مقامات پر مسلمانوں کوگرفتار کیا جاتا ہے اور جب رہائی کا وقت آتا ہے تو کسی بھی میڈیا میں یہ طاقت یا وقت نہیں رہتا کہ ان کی بے گناہی کے تعلق سے دنیا کو باآوار کیا جائے۔موجودہ میڈیا نہ صرف مسلمانوں کادشمن ہے بلکہ ہر پسماندہ،غریب،دلت اور پچھڑے طبقے کا دشمن ہے۔امبانی کی بیوی دن بھر میں کیا کرتی ہے،کتنے لاکھ کی ساڑی پہنتی ہے،کتنے لاکھ چپل پہنتی ہے ،کونسی واچ کو پہننا وہ پسند کرتی ہے اس پر میڈیا میں ایک گھنٹے کا پروگرام دکھایا جاتا ہے۔وہیں ہندوستان کے مختلف مقامات پر بھوکے مررہے غریبوں اور سوکھے سے متاثر ہوکر خودکشی کررہے کسانوں کے درد کو بیان کرنے کیلئے میڈیا کے پاس وقت نہیں ہے۔اتنا ہی نہیں ملک کے موجودہ وزیر اعظم جنہیں میڈیانے ہی چائے والا بنایا ہے ان کے تعلق سے ایک سچ یہ بھی چھپایا گیا ہے کہ وہ بچپن میں چور تھے اور ان کی چوری کی وجہ سے انہیں گھر سے بے دخل کیا گیا تھا۔محض الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میںسنگھ پریوار کے نمائندے موجود ہونے کی وجہ سے ایک چور کو غریب ماں باپ کا بچہ اور غربت سے بڑھ کر ترقی کرنے والا نوجوان قرار دیتے ہوئے انہیں اس ملک کے وزیر اعظم کا درجہ دیا گیا ہے۔اسی وزیر اعظم کی قیادت میں سال2002 میں گجرات میں جو خونی کھیل کھیلا گیا ہے وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے،لیکن آج وزیر اعظم نریندرمودی کو غریبوں کا مسیحا ،دلتوں کا رہبر اور نہ جانے کن کن الفاظ سے مخاطب کرتے ہوئے میڈیا نے انہیںبابائے قوم مہاتما گاندھی کے برابر بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ایسی بات نہیں ہے کہ میڈیا میں ہر ایک فرد سنگھ پریوار کا ہے یا پھرا نسانیت مخالف صحافی وہاں کام کررہا ہے،وہاں کچھ اچھے لوگ بھی ہیں جیسے کلدیپ نیئر،برکھا دت،رویش کمار،عزیز برنی،یوسف انصاری،شاہد صدیقی،معصوم مراد آبادی اور لنکیش جیسے صحافیوںنے اس ملک کی سالمیت اور جمہوریت کو باقی رکھنے کیلئے کام کئے ہیں۔آج اگر ہمیں میڈیا کو غیر جابندارانہ بنانا ہے تو خود آگے بڑھ کراس میں کام کرنے کی ضرورت ہے،اپنے آپ کو میڈیا کی جنگ میں ایک وفادار سپاہی پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ہماری نسلوںمیںمیڈیا کی اہمیت اور ضرورت کاعلم نہ ہونے کی وجہ سے میڈیا میں جانبدرانہ لوگ اورمخصوص طبقے کے لوگ ہی کام کررہے ہیں۔یہ اس وجہ سے ہی ہورہا ہے کہ نیک نیتی اور حق بیانی کرنے والی ہماری نسلیں میڈیا کے میدان سے دور ہورہی ہیں،اگر ہمیںمیڈیا کو اس کے معنوں کے مطابق دوسروں تک پہنچانا ہے تو خود کو اس کا حصہ بنانا چاہیے۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker