ہندوستان

ویاپم گھوٹالے میں 634طلبا کو سپریم کورٹ سے جھٹکا، اجتماعی نقل کے مجرم طلبا کے داخلے منسوخ

نئی دہلی،13؍فروری

سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش کے مشہور ویاپم گھوٹالے سے منسلک ایک معاملے میں اپنا فیصلہ سنادیا ہے۔کورٹ نے ان تمام طلبا کو راحت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ہائی کورٹ کے فیصلہ کو برقرار کرتے ہوئے اجتماعی نقل کے مجرم طالب علموں کے داخلے منسوخ کر دئیے گئے ہیں۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ کو یہ طے کرنا تھا کہ اجتماعی نقل کے مجرم 634طالب علموں کو راحت دی جائے یا نہیں؟اس سے پہلے 268طلبا کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی دو ججوں کی بنچ نے ایک دلچسپ فیصلہ سنایا تھا، معاملہ کی سماعت کر رہی بنچ نے دو الگ الگ فیصلے سنائے۔سماعت کر رہے جسٹس جے چیلامیشور نے تمام فریقوں کی دلیلوں کو سننے کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عوام کے مفادات کو ذہن میں رکھتے ہوئے تمام 634طلبا کو گریجویشن مکمل ہونے کے بعد پانچ سال تک ہندوستانی فوج کے لیے بغیر کسی تنخواہ کے کام کرنا پڑے گا۔پانچ سال پورے ہونے پر ہی انہیں ڈگری دی جائے گی، اس دوران انہیں صرف گزارہ بھتہ دیا جائے گا۔وہیں جسٹس ابھے منوہر اسپرے نے ہائی کورٹ کے داخلہ منسوخ کرنے کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے طالب علموں کی اپیل کو مسترد کر دیا۔اس کے بعد معاملے کوتین ججوں کی بنچ کو سپردکیا گیا۔واضح رہے کہ ویاپم گھوٹالہ میں اجتماعی نقل کی بات سامنے آنے پر 2008-2012 بیچ کے طلبا کے داخلے منسوخ کر دئیے گئے تھے۔اس کے بعد سبھی طالب علموں نے کورٹ سے اس معاملے میں مداخلت کی اپیل کی تھی۔

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker