Baseerat Online News Portal

آپ کے شرعی مسائل

مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی

شَکوریاشُکور ؟
سوال:- اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں ایک نام ’’ شکور ‘‘ (شین کے زبر کے ساتھ ) ہے ، ہمارے احباب میں ایک دوست کا نام عبدالشکور (شین کے پیش کے ساتھ ) ہے ، ان کو سبھی حضرات شکور (شین پر پیش ) کہہ کر پکارتے ہیں ، کیا اس طرح کرنا دوست ہے یا انھیں شُکور کہہ کر پکارنا چاہیے ؟ (ابواحمد ، مغلپورہ )
جواب :- عربی گرام کے مطابق شکور فَعُوْل کے وزن پر ہے ، اور شین کے زبر کے ساتھ ہے ، جس کے معنی شکر گذار اور قدرداں کے ہیں ، اللہ کے شکور ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے اعمال کو قبول فرماتے ہیں ، اور اس کی اس طور پر قدر کرتے ہیں کہ اسے اجر سے نوازتے ہیں ، اس لئے شکور شین کے پیش کے ساتھ درست نہیں ، خاص کر جب اس لفظ کے ساتھ عبد لگا دیا گیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عبدالشکور میں شکور اللہ تعالیٰ کا نام نامی ہے ، اور اللہ تعالیٰ کے ناموں میں کسی قسم کی تبدیلی جائز نہیں — دوسری قابل توجہ بات یہ ہے کہ جب کسی کا نام عبدالشکور ، عبدالرحیم ، عبدالرزاق وغیرہ ہو تو ان کو پورے نام سے پکارنا چاہئے ، یہ نہ ہوکہ صرف شکور صاحب ، رزاق صاحب کے لفظ سے ان کو مخاطب کیا جائے ، یہ اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ بے ادبی ہے اور انسان کو اللہ تعالیٰ کے نام سے پکارنا ہے ، جس کا غلط ہونا ظاہر ہے ۔
بہو کے ساتھ زیادتی
خلاصۂسوال:- اگر میں بیمار پڑ جاتی ہوں تو ساس مجھے طعنہ دیتی ہے ، اپنی مرضی سے کپڑے پہننے نہیں دیتی ، گھر کا کام زیادہ ہونے کی وجہ سے نندوں کو مدد کے لئے کہو تو کہتی ہے کہ بہو اس لئے لائے ہیں کہ وہ ساس ، سسر ، نندوں اور شوہرکا کام کرے ، مجھ پر غلط الزامات لگاتی ہے ، غلط ثابت ہوجائے تو مجھ سے معافی نہیں مانگتی ، میرے شوہر کہتے ہیں کہBPکے مریض ہیں ، اس لئے چھوڑدو ، یہاں تک کہ میرے سسرنے مجھے مارا ، میں نے الگ مکان کا مطالبہ کیا ، تو ساس کہتی ہے کہ میں بیٹے سے چھوڑا دونگی ، ان لوگوں کے رویہ کی وجہ سے میں مجبوراً ماں باپ کے گھر آگئی ، تو نہ میرا خرچ دیتے ہیں نہ بچی کا ؛ بلکہ یہاں آنے پر مجھے مارتے اور گالی دیتے ہیں ، اور کہتے ہیں کہ بلااجازت آگئی ہے ۔ (شاہانہ بیگم ، سنتوش نگر)
جواب :- آپ نے جو باتیں لکھی ہیں ، اگر واقعی درست ہیں تو یہ ان کی زیادتی ہے ، شوہر اور ساس سسر کی خدمت اخلاقی واجبات میں ہے ، اور اگر گھر میں کوئی دوسرا خدمت گار مہیانہ ہو اور کوئی خادم بھی مہیانہ ہوتو ایسی خصوصی حالت میں خدمت کرنا قانوناً بھی واجب ہو جاتا ہے ، اور یہ صرف بہو سے متعلق نہیں ہے ؛ بلکہ اگر بیٹیاں گھر پر موجود ہوں تو ان پر بہو سے بڑھ کر اس کی ذمہ داری ہے ، اس لئے تمام خواتین کو مل جل کر باہمی رضامندی سے اُمور خانہ داری کو انجام دینا چاہیے ، یہ بات بھی درست نہیں کہ سسر اپنی بہو پر ہاتھ اُٹھائے ، تادیب کا حق شوہر کو ہے نہ کہ ساس سسر کو ، اگر شوہر کے اہل خانہ سے مزاج کی موافقت نہ ہو تو ایسے وقت خاص کر جب کہ گھر میں بیٹیاں بھی موجود ہوں اور وہ ان کی دیکھ ریکھ کر سکتی ہوں ، عورت کا حق ہے کہ اس کے لئے علاحدہ مکان فراہم کیا جائے ؛ البتہ اس کے شوہر کا فریضہ ہے کہ بیوی کے حقوق ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے ماں باپ کی دیکھ ریکھ بھی کرتا رہے ، اور اپنے اوقات کا ایک حصہ ان کے ساتھ گذارے ، اگر واقعی آپ کے ساتھ وہ زیادتیاں ہوئی ہوں ، جن کا آپ نے ذکر کیا ہے تو ظلم سے بچنے کے لئے آپ کا اپنے میکہ آجانا جائز ہے ۔
بدکاری کا الزام
سوال:- ایک مسجد کے امام زنا کے مرتکب ہوئے ہیں اور عورت کے گھر والے اس کی تردید نہیں کر رہے ہیں ، یہ بات محلے میں عام ہے ، گھر کے لوگ اس مسجد کو جانا تر ک کر دیئے ہیں ، کیا ایسے امام کے پیچھے نماز کی اقتداء ہو سکتی ہے ؟ کیا اس امام سے روابط رکھے جاسکتے ہیں ؟ کیا اس عورت کا نکاح اس کے شوہر کے ساتھ باقی ہے ۔ (نظام الدین ، ملک پیٹ )
جواب :- جب تک شرعی اُصولوں کے مطابق کسی شخص کے بارے میں یہ بات ثابت نہ ہوجائے کہ اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہے ، اس کی طرف زنا کی نسبت کرنا صحیح نہیں ہے ، قرآن مجید میں زنا کے ثبوت کے لئے چار گواہ ضروری قراردیا ہے ، اور وہ بھی آنکھوں دیکھی گواہی ہونی چاہیے ، اس لئے کسی شخص کو زنا سے متہم کرنے میں بے حد احتیاط کرنی چاہیے ، اگر اسلامی حکومت ہوتو ایسے شخص کے لئے اسّی (۸۰) کوڑے کی سزا ہے ، جو کسی پر زنا کا الزام لگا ئے اور اس کو ثابت نہ کر پائے ( سورۃ نور ، آیت نمبر : ۴ ) اس لئے جن لوگوں نے امام صاحب پر اس گناہ کا الزام لگا یا ہے وہ سوچ سمجھ کر ایسی بات کریں ، دوسرا پہلو یہ ہے کہ خود امام صاحب کو تہمت کے مواقع سے بچنا چاہیے ، اور ایسی صورت ِحال پیدا نہیں ہونے دینی چاہیے ، جس سے لوگوں کو شبہ پیدا ہو ؛ چنانچہ رسول اللہا نے ارشاد فرمایا : ’’اتقوامواضع التہم‘‘ (کشف الخفاء : ۱ ؍ ۴ ۴ ) ، وباللہ التوفیق ۔
نو مولود کے کان میں اذان واقامت
سوال:- کیا بچہ کی پیدائش پر بچہ کے کان میں اذان و اقامت کہنا صحیح ہے ، اگر صحیح ہے تو کس کان میں اذان اور کس کان میں اقامت کہیں گے ؟ (محمد شرف الدین ، موہن نگر )
جواب :- نومولود بچہ کے کان میں اذان و اقامت کے الفاظ کہنا حدیث سے ثابت ہے ، رسول اللہ ا نے اپنے نواسوں کے کان میں اذان دی ہے ، اسی لئے فقہاء نے اس عمل کو مستحب قرار دیا ہے ، دائیں کان میں اذان کے کلمات کہے جائیں گے اور بائیں کان میں اقامت کے : ’’یستحب للوالد أن یؤذن فی أذن المولود الیمنٰی وتقام الصلاۃ فی الیسریٰ حین یولد‘‘ ۔ (الفقہ الاسلامی وادلتہ : ۳ ؍۶ ۳ ۶)
گردہ فروشی
سوال:- زید ایک مفلس اور پریشان حال شخص ہے ، گذر اوقات روزانہ کی کمائی پر منحصر ہے ، اورکمائی بھی کچھ زائد نہیں ، بمشکل گذر بسر ہوتی ہے ، دو لڑکیاں ہیں ، ایک کی شادی ہو چکی ، ایک باقی ہے ، اولاد نرینہ نہیں ہے ، اس نے ایک شناساکو کڈنی ہبہ کیا تو اسے ساڑھے پانچ لاکھ روپے حاصل ہوئے ، اس رقم سے اس کا مقصد کوئی مناسب کاروبار کرنا ہے ؛ تاکہ جب عالم ضعف میں ہاتھ پیر جواب دیں تو کچھ سہارا حاصل ہوجائے ، یا اس رقم کو بینک میں فکس ڈپازٹ کرکے جو رقم زائد ملے ، اس سے زندگی گذاری جائے ، اس ضمن میں چند سولات ہیں :
(۱ ) کیا بینک میں رکھی اس رقم پر جو زائد پیسے ملے تو اس کو کھانے پینے میں استعمال کیا جاسکتا ہے ؟
(۲ ) کیا اس رقم پر ہر سال زکوٰۃ اداکرنی ہوگی ؟
(۳ ) کیا زید اور اس کی بیوی پر حج فرض ہے ، پہلے حج کرے یا عمرہ ؟ (محمد عبدالمتین دیشمکھ ، اورنگ آباد )
جواب :- اگر زید نے کسی کو کڈنی دی اور اس سے معاوضہ کے طور پر پیسے لئے تو یہ جائز نہیں ہے ، انسان کے جسم میں جو اعضاء ہیں ، وہ انسان کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے ، انسان اس امانت کا محافظ ہے ، وہ اس کا مالک نہیں ہے ، اس لئے اس کو حق نہیں ہے کہ وہ اپنے جسم کے کسی عضو کو فروخت کردے ، یہ اللہ کی امانت میں خیانت بھی ہے اور انسان جیسی اشرف المخلوقات کی بے توقیری اور تذلیل بھی ، اسی لئے فقہاء نے انسانی اعضاء کی خریدو فروخت کو ناجائز قرار دیا ہے :’’ کما بطل بیع … شعر الإنسان لکرامۃ الآدمی‘‘ (الرد مع الدر: ۵ ۴ ۲ ) اس لئے زید کو یہ رقم واپس کر دینی چاہیے ؛ البتہ ایک انسان کی جان بچانے کے لئے اس نے جو ایک گردہ دیا ، یہ ایثار ہوگا ، اور اس کو اس کا اجر حاصل ہوگا ، ہاں اگر زید کے اور اس کے درمیان معاوضہ کی کوئی بات طے نہیں تھی ، اور زید نے واضح کردیا کہ میں ایک گردہ اپنے بھائی کی جان بچانے کے لئے دے رہاہوں ، مجھے اس کا قطعاً کوئی عوض نہیں چاہیے ، پھر بھی جس شخص کو گردہ دیا گیا ، اس نے اپنی رضامندی سے کسی جبرو دباؤ کے بغیر کوئی رقم بطور ہدیہ کے دیدی ؛ تاکہ جو احسان زید نے کیا ہے ، اس کی کچھ تلافی ہو سکے تو اُمید ہے کہ یہ صورت جائز ہوگی ۔
رہ گیابینک میں رقم جمع کرنا اور اس پر زائد پیسہ لینا تو یہ زائد پیسہ سود ہونے کی وجہ سے حرام ہے ، اگر کوئی شخص حلال رقم بینک میں ڈپازٹ کردے تو اس پر ہر سال زکوٰۃ واجب ہوگی ، اور اگر اتنی رقم ہو کہ جس سے حج کا سفر کیا جاسکتا ہو تو زید پر حج فرض ہوگا اوراس کی بیوی پر بھی ، اسے حج کرنا چاہیے ، عمرہ کرنا مسنون ہے ، واجب نہیں ، اور اگر آدمی حج کے لئے جائے تو حج کے ساتھ ساتھ عمرہ بھی کر سکتا ہے ۔
بیٹیوں کو میراث سے محروم کرنا
سوال:- میرے والد صوم وصلوٰہ کے پابند ایک بڑے عہدہ پر کارگذار رہے ہیں ، وہ صاحب ِجائیداد بھی ہیں ، ان کے ایک بیٹا دوبیٹیاں ہیں ، بیٹا ایک بڑی کمپنی میں کام کرتا ہے ؛ لیکن لاولد ہے ، میرے والد اپنی جائداد میں دونوں لڑکیوں کو ترکہ دینا نہیں چاہتے ، اور ہمارے درمیان کوئی اختلاف بھی نہیں ہے ، اس کے باوجود صرف ترکہ سے بچنے کے لئے اپنی ساری جائیداد اپنے اکلوتے لڑکے کے نام کر دینا چاہتے ہیں ، پوچھنے پر کہتے ہیں یہ میری مرضی ہے ، شریعت کی نظر میں ان کا یہ عمل کیسا ہے ؟ (ایک خاتون ، محبوب نگر )
جواب:- حضرت انس ص سے روایت ہے کہ رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا کہ جو اپنے وارث کا حصہ کاٹ دے ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جنت میں اس کا حصہ کاٹ دیں گے : ’’ من قطع میراث وارثہٖ قطع اﷲ میراثہٗ من الجنۃ یوم القیامۃ‘‘( ابن ماجہ ، کیاب الوصایا ، حدیث نمبر : ۰ ۳ ۷ ۲ ) اس لئے بیٹے کو اپنے ترکہ میں سے دینا اور ایسی شکل پیدا کرنا کہ بیٹیاں محروم ہوجائیں ، ایک جاہلانہ رسم ہے ، اور یہ درست نہیں ہے ؛ البتہ اگر باپ کسی وارث کے خصوصی حالات کی وجہ سے دوسرے ورثہ کے مقابلہ اسے کچھ زیادہ ہبہ کردے تو اس کی گنجائش ہے ، تا ہم اگر باپ زندگی میں اپنی جائداد کے کچھ حصہ ورثہ کو ہبہ کر دے تو وہ اس کے مالک ہو جائیں گے ، گو اس کا یہ عمل ناپسندیدہ ہے اور اس میں گناہ اندیشہ ہے ۔
ناپسندیدہ چیزیں فروخت کرنا
سوال:- میں ایک تاجر ہوں میری دکان میں کُم کُم ، گلا ل ، بیٹری ، گٹکا ، راکھی ، پٹاخے ، یہ سب چیزیں ہیں ، میرے لئے ان چیزوں کا فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں ، اور ایسی چیزیں فروخت کرنا جو جائز نہیں ہے ، یا پھر ایک مسلمان کے لئے مناسب نہیں ہے ، قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیں ۔ (محمد فیاض احمد سنسار اسٹور ، یا دگیر )
جواب :- اللہ تعالیٰ نے گناہ کے ارتکاب ہی سے منع نہیں فرمایا ہے ؛ بلکہ گناہ میں تعاون سے بھی منع فرمایا ہے :’’وَلاَ تَعَاوَنُوْا عَلَی الإِثْمِ وَالْعُدْوَان‘‘ (المائدۃ : ۲ ) لہٰذا کسی ایسی چیز کو بیچنا جس کا خاص گناہ ہی کے لئے استعمال ہوتا ہو ، گناہ کے کام میں تعاون کرنا ہے ، اس اُصول کے تحت آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ کُم کُم، گلال ، اور راکھی برادران وطن کے مذہبی افعال و رسوم کا حصہ ہیں ، اس لئے ان کا بیچنا جائز نہیں ، یہ کفر کے کام میں تعاون ہے ، بیٹری اور گٹکا صحت کے لئے سخت نقصان دہ ہونے کی وجہ سے اور پٹاخے فضول خرچی او ر عام لوگوں کے لئے باعث مضرت ہونے کی بنیاد پر مکروہ تحریمی ہے ، اس لئے ان چیزوں کو بیچنا مکروہ ہے ۔
(بصیرت فیچرس)

You might also like