ہندوستان

اے بی وی پی کی ہنگامہ آرائی روکنے میں پولس کی ناکامی کے خلاف احتجاج

عمرخالد اور شہلا راشد کا پروگرام درہم برہم کئے جانے کے خلاف مظاہرے

نئی دہلی،۲۳؍ فروری (یو این آئی)اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد(اے بی وی پی) کے طلبہ کے ذریعہ رام جس کالج میں کی گئی مبینہ ہنگامہ آرائی کو روکنے میں پولیس کی ناکامی کے خلاف بائیں بازو کی طلبہ تنظیم آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) نے آج یہاں پولیس ہیڈکوارٹرکے بارے زبردست مظاہرہ کیا۔طلبہ پولیس اور اے بی وی پی کے خلاف نعرے لکھے پوسٹر اور تختیاں ہاتھوں میں اٹھائے تھے ۔ وہ ‘اتیاچار سے آزادی ‘پولیس سے آزادی اور ‘آپ کا راشٹرپریم ہماری آزادی سے بڑا نہیں جیسے نعرے لگارہے تھے۔صبح سے ہی بڑی تعداد میں طلبہ پولیس ہیڈکوارٹر کے باہر جمع ہونے لگے تھے جس کی وجہ سے آئی ٹی او پر کافی جام ہوگیا ۔پولیس کو مظاہرین کو قابو میں کرنے کے لئے کافی مشقت کرنی پڑی۔اس دوران پولیس کمشنر دیپیندر پاٹھک نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ پولیس رام جس کالج کی صورت حال پر سخت نگاہ رکھے ہوئے ہے۔ طلبہ سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی گئی ہے۔ اس بات کا دھیان رکھا جارہا ہے کہ مستقبل میں ایسی صورت حال دوبارہ پیدا نہ ہونے پائے۔رام جس کالج میں طلبہ کے درمیان ہوئی جھڑپ کو روکنے میں پولیس کے رول کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ اس دوران کچھ پولیس اہلکاروں ین اپنی ڈیوٹی مناسب طریقے سے نہیں نبھائی۔ مسٹر پاٹھک نے کہا کہ اس سلسلے میں انکوائری کی جارہی یہ اور رپورٹ آنے پر قصوروار وں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔رام جس کالج میں 21تاریخ کو ایک ادبی پروگرام کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں جے این یو کے اسٹوڈنٹس لیڈر عمر خالد اور شہلا راشد کو لکچر دینے کے لئے بلایا گیا تھا۔ اے بی وی پی کے طلبہ نے اس پر سخت اعتراض کے اتھا جس کے بعد آئیسا اور اے بی وی پی کے طلبہ کے درمیان زور دار جھڑپ ہوئی تھی۔ہنگامہ کی وجہ سے پروگرام منسوخ کردینا پڑا تھا۔ رام جس کالج میں آئیسا کے طلبہ نے اے بی وی پی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کل مظاہرہ کیا اور موریس نگر تھانے تک احتجاجی مارچ کیا ۔ اس موقع پر بھی اے بی وی پی کے طلبہ کے ساتھ ان کی جھڑپ ہوگئی جس کے بعد صورت حال پر قابو پانے کے لئے بڑی تعداد میں پولیس تعینات کردی گئی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker