ہندوستان

مخلص اورباصلاحیت استاذکی وفات بڑاعلمی خسارہ:مولانامحمدولی رحمانی

مونگیر،24؍فروری
جامعہ ر حمانی کے سنیئراستاذحدیث اورناظم تعلیمات مولانامفتی عارف رحمانی انتقال کرگئے۔اناللہ واناالیہ راجعون۔آپ کوکل دیرشام ہارٹ اٹیک آیااوراچانک جاں بحق ہوگئے۔تفصیل کے مطابق انہوں نے طلبہ کواسباق بھی پڑھائے،عصرکے بعدبازارسے لوٹے اورمغرب کی نمازپڑھی اوراپنے گھرگئے۔وہ مونگیرمیں ہی اہل خانہ کے ساتھ قیام پذیرتھے۔ان کے انتقال کے بعدصف ماتم بچھ گئی۔طلبہ واساتذہ اورمونگیرکے افرادکاتانتالگ گیا۔دیررات جامعہ کے اساتذہ اورخانقاہ رحمانی کے کارکنان ،مولاناکبیرالدین رحمانی ،مولانا خالدرحمانی ،قاضی رضی احمداورحافظ امتیازرحمانی ان کے اہل خانہ کے ساتھ ان کے جسدخاکی کولے کران کے آبائی گاؤں گھورن ضلع سپول روانہ ہوئے جہاں آج بعدنمازعصرنمازجنازہ ہوئی جس میں اطراف واکناف سے ان کے شاگردوں کی بڑی تعداداورعوام نے شرکت کی۔علاوہ ازیں جامعہ رحمانی سے طلبہ واساتذہ کی ایک بڑی جماعت صبح سپول کے لیے روانہ ہوئی۔اس موقعہ پرسرپرست جامعہ رحمانی اورسجادہ نشیں خانقاہ رحمانی امیرشریعت مولانامحمدولی رحمانی نے گہرے رنج وغم کااظہارکرتے ہوئے فرمایاکہ آپ کاانتقال جامعہ رحمانی کابڑاخسارہ ہے۔دارالعلوم سے فراغت کے بعد32برسوں سے مسلسل جامعہ رحمانی میں اہم کتابیں پڑھاتے رہے۔جن میں ترمذی شریف،بیضاوی شریف،الفوزالکبیر،ہدایہ جیسی اہم کتب آپ سے متعلق رہیں۔اس سے قبل ابتدائی تعلیم سے علیادرجات تک جامعہ رحمانی میں تعلیم حاصل کی ۔مولانانعیم رحمانی کی علالت کے بعدبخاری شریف جلدثانی آپ کے ذمہ تھی،آپ ایک عرصے تک نائب ناظم تعلیمات رہے اورتقریباََپانچ برسوں سے ناظم تعلیمات بھی تھے۔آپ ایک بہترین اورباصلاحیت مدرس کے ساتھ ساتھ شاندرامنتظم بھی تھے۔آپ کے انتقال سے ایک بڑاخلاپیداہوگیا ہے۔ملک بھرمیں موجودان کے شاگردوں پریہ خبربجلی بن کرگی۔واضح ہوکہ چندماہ قبل جامعہ ہی کے بزرگ ترین استاذ،استاذالاساتذہ حضرت مولاناظاہرقاسمیؒ نے داعی اجل کولبیک کہاتھا۔جن سے مسلم شریف،ہدایہ ثالث جیسی اہم کتابیں متعلق تھیں اوردوبرس قبل حضرت مولاناحاذ ق القاسمی ؒ نے انتقال فرمایا۔ یہ تینوں اساتذۂ حدیث جامعہ رحمانی میں تدریسی فرائض انجام دے رہے تھے۔مولاناظاہرقاسمیؒ اورمولاناحاذق القاسمیؒ اسباق پڑھاکر تعطیل میں گھرتشریف لے گئے اوراگلے ہی دن انتقال کی خبرآئی۔مفتی عارف رحمانیؒ کاانتقال بھی اسی طرح اچانک یہی ہوااورعلم حدیث کی خدمت کرتے ہوئے اپنے دونوں بزرگوں سے جاملے۔خانقاہ رحمانی میں قرآن خوانی وایصال ثواب کااہتمام جاری ہے نیزجامعہ ا زہرمصر،المعہدالعالی الاسلامی حیدرآباد،مدرسہ رحمانیہ نوادہ ،مدرسہ رشیدیہ مونگیرسمیت دیگرمدارس میں بھی دعاء اورایصال ثواب کااہتمام کیاگیا۔ اس موقعہ پردارالعلوم وقف کے اساتذہ مولاناشمشادرحمانی ،مولانانوشادنوری کے علاوہ مولاناعارف رحمانی،مولاناظفرعبدالرؤف ،مولانامظفراحسن رحمانی ،شاہ عمران حسن،مولانامنظرقاسمی،مولاناابوطالب رحمانی،مولانااکرم رحمانی،مولانارضاء الرحمان رحمانی،مولاناعبدالسلام رحمانی،مولانارضی احمدرحمانی،حافظ احتشام،مولاناافتخاررحمانی،حافظ امتیازرحمانی،مولانافضل الرحمن ازہری، مولاناضیاء الدین مظاہری،مولاناکوثرکلام اشرف،مولانا قاصدالاسلام،مولاناامجدبلیغ،مولاناجوہرنیازی،قاضی فخرالدین،مولاناریحان الاسلام،مولاناشاداب شمیم،مولانامحبوب صہیب قاسمی ،مولاناسرفراززیدی،مولانانظام الدین،مفتی ابوشاہد،مولاناجلال الدین،مولاناشہاب الدین،مولانااعجازقاسمی،مولاناعمران رحمانی سمیت ان کے شاگردوں اورمتعلقین نے اظہارتعزیت کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker