مضامین ومقالات

کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے

رب العالمین زلزلوں سے روئے زمین پر بسنے والے انسانوں کو جھنجھوڑتاہے
عبدالرافع رسول
’’کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے‘‘بے شک نظام ہستی چلانے والی ہستی اسی وحدہ لاشریک کی ہے جو زلزلوں سے زمین کو جھٹکا دیتاہے اورروئے زمین پر بسنے والے انسانوں کو جھنجھوڑتاہے کہ موت کسی بھی لمحے ان کے دروازے پر دستک دے سکتی ہے اس لئے اپنا احتساب کریںاور حقوق اللہ اورحقوق العبادکی ادائیگی میں جٹ جائیںاورلوگوں کے حقوق غصب کرنے اور نا انصافی سے اپنا دامن آلودہ نہ کریں۔ رب العالمین نے جس طرح نے طبعی قوانین وضع کئے ہیں اسی طرح اس نے تنبیہ اور توجہ کا نظام بھی وضع کر رکھا ہے ۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو تنبیہ پر متوجہ ہوتے ہیں اور اپنی انفرادی واجتماعی زندگی میں بڑی خوشگوار تبدیلی لے آتے ہیں ۔سوموار26اکتوبر2015کوجوشدیدترین زلزلہ آیاریکٹرسکیل پراسکی پیمایش8.2تھی یعنی یہ زلزلزلہ 2005کے تباہ کن زلزلے جسکی ریکٹرسکیل پرپیمایش 7.6تھی اس طرح سوموارکوآنے والازلزلہ2005 سے کہیں زیادہ شدید تھاچونکہ2005کامرکززمین میں محض15کلومیٹرتھاجبکہ سوموارکوآئے زلزلے کامرکز زمین کے اندر اسکی گہرائی 195کلومیٹرتھی جس کی وجہ سے بالائی زمین پربسے والے انسانوں کورب العالمین نے بچالیااوراس بارمقصودبھی یہی لگ رہاتھاورنہ 8.2تباہ کن حدتھی۔ بھونچال آیانفسا نفسی کا عالم تھا۔ ایک دوسرے سے بے تعلقی ،لاتعلقی ایسی نظر آئی کہ الامان الحفیظ۔والدین ، اولاد ، بہن بھائی ، دوست احباب ایک دوسرے سے لاتعلق ، ہر بندہ اپنی زندگی کی حفاظت پر مامور ہو چکا تھا۔زمین عالیشان عمارتیں جو ایک عرصہ سے مضبوط حفاظت گاہیں متصورہوتی ہیں،آرام گاہیں ، اقامت گاہیں،مکانات جھولاجھول رہے تھے ۔دفاتر،ر تجارتی پلازے محمود وایاز کو اگل، باہر پھینک رہے تھے۔ سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دفاتر خالی ، خوف وہراس کی چلتی پھرتی بھاگتی دوڑتی تصویر چار سوتھی۔لیکن ہم بڑی دل چسپ قوم ہیں ہم جب کسی آفت میں گرفتار ہوتے ہیں تو فورا جزع فزع کرتے ہوئے رب العالمین کوپکارنے لگتے ہیں،مسجدوں کی طرف رخ کرتے ہیں ،ایک دوسرے کورب العالمین کی بے پناہ قوت کااحساس دلاتے ہیں لیکن آفت ٹل جائے اورہم بھی اپنی ڈگرپرواپس جانے میں کوئی دیرنہیں لگاتے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا واقع ہواہے اور خود اس کا گواہ ہے اور وہ مال ودولت کی محبت میں بری طرح مبتلا ہے۔ سورہ القارعہ میں صاف بتادیاگیاہے کہ جب لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنکے ہوئے اون کی طرح بن جائیں گے سوموارکوزمین اس شدت سے دہل گئی،اشارہ تھاکہ رب العالمین کی نشانیوں پر غور بھی ہوگااور رب العالمین سے کئے وعدے ایفا کرنے کی فکر بھی ہوگی۔اور زلزلے،سونامی اور قدرتی آفات کے باب میں یہ اس الہامی ہدایت کا مقدمہ ہے جو اللہ کے رسول لے کر آتے ہیں۔پیغمبروں کی دعوت اصلا قیامت کی تذکیر اور تنبیہ ہے۔ انسان بھول جاتاہے کہ قیامت برپا ہونی ہے اور اسے اپنے رب کے حضور میں پیش ہو نا ہے۔اس دن کی یاد دہانی کے لیے،کبھی زمین ہلتی اور کبھی سمندر کی لہریں بے قابو ہو جا تی ہیں۔یہ بات تو یقینی ہے کہ اللہ تعالی وقتا فوقتا متنبہ کرتا ہے مگر؟؟؟
زمین کا دہلنابلکل اسی طرح کہ جس طرح کہ سورج یا چاند کا گہنا جانا یا کوئی اور کائناتی واقعہ رب العالمین کی قدرت کی ایک نشانی ہے۔ جو اس دنیا کے زوال کی جانب سمجھ داروں کیلئے غیرمعمولی اشارہ کر جایا کرے۔ ایسے اشارے پا کر خوفزدہ ہو جانا اور خدا کے آگے گریہ اور استغفار کرنا اور ایسی سنجیدگی کا آدمی پر طاری ہو جانا کہ حالت غیر ہونے لگے، خدا کی تعظیم کی علامت ہے اور بصیرت کا مقیاس اور سنت کی بہترین تطبیق بھی یہی ہے۔قدرتی آفات اللہ کی طرف سے ہوا کرتی ہیںجن سے تحفظ بھی صرف رب کائنات ہی فراہم کرسکتا ہے۔ ان کا تدارک یا مقابلہ انسانی بس میں ہوتا تو امریکہ جیسے ممالک میں کترینا اور ریٹا جیسے طوفان آتے اور نہ سینکڑوں انسان ان کی نذر ہوتے رہتے۔ قدرتی آفات کو ٹالنا کل انسان کے بس میں تھا اور نہ آج وہ اسے ٹال سکتا ہے ۔یہ آفات اور یہ زلزلے، یہ بحران اور یہ بھونچال اور یہ سب مصائب جہاں ہمیں خوفزدہ کرنے کیلئے ہیں اور خدا کی ہم پر گرفت کی ایک امکانی صورت، جس پر ہمیں اپنے آپ کو اور اپنی بد اعمالی کو ہی مورد الزام ٹھہرانا ہے۔زمین لرزتی ہے تو آدمی کو اپنی ہستی کی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ کوئی کسی اور وقت کتنا بھی تصنع کرلے اس وقت ہر آدمی بے بسی کے ساتھ ہر انداز سے ہاتھ پائوں مارتا ہے اور بچا ئوکیلئے جس حد تک ہو سکے بھاگ دوڑ یا ہائے دہائی کرتا ہے اور رب کو بھی آواز دیتا ہے۔ آندھیاں ،طوفان، سیلاب، زلزلے، آتش فشاں، وبائیں، نئے قسم کے متعدی امراض، جن کانام تک ماضی میں کسی نے نہ سناہو،جنگیں، آفتیں، قحط یہ وہ بلائیں ہیں جو پچھلے کچھ عرصہ سے دنیا کے اندرروز بروز بڑھنے لگی ہیںاور درحقیقت رب ان بلائوں اور آفتوں کے ذریعے اپنے بندوں کو ڈرا دینا چاہتا ہے اور ان کو اپنی قوت اور سطوت کی یاد دلادینا چاہتا ہے ،اور ان کو انکی اوقات بھی یاد دلا دینا چاہتا ہے کہ وہ اس کے سامنے کس قدر عاجز اورلاچار اور محتاج ہیں اور یہ کہ بندے اگر اس کے امر اور اس کی شریعت کا پاس نہیں کرتے تو اس کو بھی پرواہ نہ ہوگی کہ وہ کس حال میں مرتے ہیں۔مخلوق جب ایک بڑے پیمانے پر خدا کی شریعت اور خدا کی تنزیل کو سنا ان سنی کردینے لگے اور فساد اور سرکشی میں سرپٹ چلی جانے لگے تو پھر وہ رب کی نگاہ میں کوئی بھی تو اہمیت نہیں رکھتی!
ایک مسلمان کو ہمیشہ یہ بات محل نظرہوکہ ہمیں اصل خطرہ اپنے اعمال بدسے ہے ، اس پس منظرمیں ہمارے اپنے اعمال کی وجہ سے ہی ہم پرظالم اورجابر حکمران بھی مسلط ہوجاتے ہیں۔تاہم اصل اوربنیادی بات جوان سانحات کاسبق ہوتاہے کہ ہمیں اب اپنی تمام تر توجہ اپنی اصلاح پر مرکوز کرلینی چاہئے ۔ خوف اور خود ترحمی کی جو لہر پھوٹی ہے ، وہ ازل سے آدمی کے ساتھ ہے ۔ جب وہ اس خاک دا ں میں اتارا گیا،اس کے چاروں طرف جنگل اور بیابان تھے۔ شب اترتی تو درندے دھاڑتے اور خوف زدہ کرنے والی ہوائیں سرسراتیں ۔ آدم زاد کا زیاں اندازِ فکر میں ہوتاہے، طوفانوں اور زلزلوں سے وہ سنبھل جاتاہے ۔ وقت گزرنے کے ساتھ زخم مندمل ہو جاتے ہیں ، بستیاں پھر سے آباد ہوتی ہیں ، آبگینوں میں ہنستے ہوئے ہاتھوں والے بچے کھلکھلاتے اور آئندہ امکانات کی نوید دیتے ہیں۔
زلزلے کے مابعد اثرات دیکھ کر ہر شخص ایک سنسنی اور سراسیمگی محسوس کرتا ہے۔ ہر شخص وہاں سنجیدہ ہوجاتا ہے۔ مگر ایک صاحب ایمان کی سنجیدگی بالکل اور طرح کی ہوتی ہے۔ زمین کی دہل ایک واقعے کے طور پر ہی اس کو نہیں ڈراتی بلکہ اس کے دل پر خدا کی ہیبت کے ہتھوڑے بھی برساتی ہے۔ وہ اس وقت صرف اس واقعے کے ساتھ نبرد آزما نہیں ہورہاہوتا۔ اس وقت وہ رب کی عظمت اور جبروت اور اس کی پکڑ کی شدت کے ایسے ایسے اشارے بھی دل پر محسوس کررہا ہوتا ہے جن کا بیان زبان کر ہی نہیں سکتی ۔ استغفار، توبہ، انابت، تضرع اور خشیت کے ساتھ رب العزت کی جانب بار بار رجوع کرتاہے۔ زلزلے کے اثرات کو وہ کسی اخباری انداز سے نہیں دیکھتا۔ نہ ہی اس کا ذکر وہ اس انداز میں کرتا ہے جس انداز سے عام طور پر مجلسوں اور بیٹھکوں میں ان واقعات یا ان کے مابعد اثرات کے چشم دید گواہ اپنی حیرانی و سراسیمگی کے اظہار میں کرتے ہیں اور جس میں خوف اور دہشت تو بے تحاشا جھلکتی ہے، کیونکہ یہ ایک طبعی انسانی رد عمل ہے اور اس میں کوئی بھی معیوب بات نہیں، مگر اس کا خلاصہ کیا جائے
تو یہ ایک واقعے کی دہشت ہوتی ہے نہ کہ رب کی ہیبت۔ ایک صاحب ایمان کے خوف میں اور ایک غیرمسلم کے خوف میں بس یہی فرق ہے۔ عین اس وقت رب کا ڈر بھی پوری شدت اور ہیبت کے ساتھ آتا ہے اور دنیا پر شام پڑنے کی فکر بھی لاحق ہوتی ہے۔وہ رب کی عظمت اور کبریائی میں لرزتے ہوئے اس کی تعظیم کے جس قدر کلمات کہہ سکتا ہے بے ساختہ کہتا جاتا ہے اور انابت و استغفار کے جن پیرایوں پہ قدرت رکھتا ہے والہانہ ادا کرنے لگتا ہے۔ پھر رب کے آگے طویل سجدے کرکے اس کی عافیت کا سوال ہوتا ہے۔
اعمال میںفساد کی بیرونی صورتیں بھی ضرور ہم تک پچھلی صدی ڈیڑھ صدی سے پہنچتی رہی ہیں مگر پہلے پہل یہ ہمارے خواص تک محدود تھیں ۔زیادہ سے زیادہ یہ پڑھے لکھے طبقے تک ہی پہنچ پائی تھیں جو کہ اکثریت نہیں۔کچھ نہ کچھ شعور بھی پڑھے لکھے طبقے میں بہرحال پایا جاتا ہے۔مگر اب جوبیرونی تاثیر یہاں دیکھنے میں آرہی ہے اس کا ہدف یہاں کا سب سے بے شعور، سب سے ان پڑھ اور سب سے پسماندہ طبقہ ہے اور جو کہ معاشرہ کی ایک بڑی اکثریت پر مشتمل ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس کو دیکھنے سے ہی ہول آنے لگتاہے۔خدا نخواستہ جب یہ مکمل حقیقت کا رخ دھار لے گا تو اعمال ،کی بدترین فساد کی بدترین صورت کہلائے گا۔ہمارے معاشروں میں بداعمالی روز بڑھتی جارہی تھی اوربستیوں کی بستیاںان کی لپیٹ میں آچکی ہیں اس میں دیہات اورشہروں میں کوئی تخصیص نہیں البتہ یہ کہہ سکتے ہیں بداعمالی کے طریقوںمثلاََچھپے یااعلانیہ اورشرح میں انیس بیس کافرق ہوگالیکن رب کی بغاوت ہرجگہ ہورہی ہے۔ بستیوں کی بستیاں ایسی پائی جانے لگی تھیں اور ہیں جہاں امر بالمعروف ونہی عن المنکر کی صدا ئیںعجیب وغریب معلوم ہوتی ہے۔ اذان کی پانچ بارصدا اٹھتی ہے تو بہت کم لوگوں کو اپنی جگہ سے اٹھا پاتی ہے۔پھر وہ جو اذان کی صدا پر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں وہ اپنی نمازکے مغزعبادت، فلسفے اغراض ومقاصدسے پوری طرح بے خبرہیں اور معاشرے میں جاری فساد کاحل مساجد میں موجودہے لیکن نمازیوں کواسے کوئی سروکارنہیں۔بستیوںکی بستیاں گزر جائیے آپ کو خواتین کے پردہ سے کم ہی کہیں واسطہ پڑے گا۔ عورتوں کا دین سے اور رب کی حدوں کو جاننے سے گویا کوئی رشتہ ہی نہیں۔ منکرات کی یہی بنیادی جڑہے اورفتنے کایہ نقطہ آغازہے ۔
طہارت،پاکیزگی ،نجاست اورگندگی کی پہچان ہمارے معاشروں میں بالعموم مفقودہے۔ عورت کا شیاطین صفت پیروں اور ملنگوں اور گھنڈہ فروشوں کے ہاں پھیرا رکھنا سمجھ میں آسکتا ہے البتہ رب کے گھروں میں جاکر رب کا دین سیکھ کر آنا اور رب کے عبادت گزاروں میں نام لکھوانا تعجب کے ساتھ دیکھنے کی چیز لگ رہی ہے۔یعنی خرافات کا استقبال کہیں زیادہ گرمجوشی کے ساتھ ہو سکتاہے البتہ شرک سے پاک عقیدہ گمراہی کا مترادف سمجھا جاتا۔ میلوں اورٹھیلوں،زندہ باد،مردہ بادمیں مسلمانوں کی بے تحاشا شرکت ہماری بستیوں کی ویران مسجدوں کو شرما دینے کیلئے کافی ہیں۔حقوق اللہ روپوش ہوئے تو حقوق العباد کی پھر کیا اہمیت۔ معاشرے کے ضعیف اورکمزوراس قدر معاشرے کے دھتکارے ہوئے ہیں کہ اسفل السافلین کی زندگی گذارنے پرمجبورہیں۔بدمعاملگی، ہرطرح کی بددیانتی، ہرطرح کی خیانت ،ظلم اور زیادتی اگر کہیں نہیں ہوتی تو اس کا سبب زیادہ تر یہ نہیں کہ رب کے سامنے جوابد ہی کا خوف ہے۔اس کا سبب زیادہ تر بس نہ چلنا ہے۔ حقوق العباد جس میں کسی بھی
بھلائی سے پہلے ظلم صریح کے ارتکاب سے باز رہناہے لیکن ظالم بننا تو یہاں بڑے فخر کی بات ہے۔ اس کے بغیر تو ووٹ تک نہیں ملتے اس کا موقعہ تو ہر کسی کو کب ملتا ہے!یہاں ظالم کم اور مظلوم زیادہ ہیں تو اس بات کا رشتہ کسی اخلاقی پابندی کے ساتھ بہت کم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زیادہ تر مظلوم ظالم بننے کی قدرت ہی نہیں پاتے؟ تصور تو کیجئے ایک معاشرہ جہاں سب ایک دوسرے کا استحصال نہیں کرتے تو اس لئے کہ سب اس بات کی طاقت ہی نہیں پاتے!
زلزلوں اورآندھیوں اور طوفانوں اور آتش فشائوں کی بابت بھی کئی نکتہ رسوں نے طبعی قوانین پر مبنی وضاحتیں فراہم کرنے کی پوری کوشش کی ہے جن کی رو سے یہ بھی بس قدرت کا کرنا تھا…. پھر بھی بلاشبہ یہ دنیوی عذاب کی ایک انتہائی اور واضح ترین صورت رہی ہے۔ مگر دنیا میں خدائی عقوبت کی یہ واحد صورت بہرحال نہیں۔ ہر وہ واقعہ جو بستیوں کی بستیاں دہلا دے، خواہ وہ انسانوں کے اپنے کئے کا براہ راست نتیجہ ہو مثلا جنگیں اور وبائیں وغیرہ اور خواہ قدرت کا کرنا مثلا قحط، سیلاب، بھونچال اور آتش فشاں وغیرہ اس کو نافرمانوں پر خدا کی پکڑ جاننا چاہیے اور خدا کے فرمانبرداروں پر آزمائش اور بلندی درجات کا باعث اور سب کے سب انسانوں کیلئے خدائی تنبیہ اور اصلاح کا پیغام۔نقمت اور عذاب کی یہ صورت بہرحال متعدد شرعی نصوص سے ثابت ہے۔ ہر دور میں ہی امت کے معتبر اہل علم کی یہ روش رہی ہے کہ وہ زلزلے اور بھونچال اور طوفانی آندھیوں وغیرہ ایسے واقعات کو دیکھ کر امت کو توبہ کی طرف راغب کرتے تھے اور لوگوں کو وہ بڑے بڑے گناہ اور برائیاں یاد دلاتے جو معاشرے میں تیزی کے ساتھ پنپ رہی ہوں اور ان کو ڈراتے تھے کہ ان گناہوں کے باعث یہ خدا کی پکڑ کی ایک صورت ہو سکتی ہے۔آج بھی خدا نے امت کے بہت سے اہل علم کو یہ توفیق دی ہے۔ ان کی صدا ئوںکو لوگوں میں عام کرنا ہر شخص پر حسب استطاعت لازم ہے کہ یہاں توبہ اور اصلاح احوال کی ایک عام منادی ہو اور اس واقعہ
کو نافرمانی کے راستے بند اور تنگ کردیئے جانے کا ذریعہ بننے دیا جائے تاکہ رب العالمین ہمارے اس نقصان کا ہمیں بہترین صلہ دے اور ہمیں اپنی رحمت کی پناہ دے۔وہ بات جو امت کے اہل علم واہل تقویٰ کے ہاں عام پائی جائے اخباری بحثوں کی نذر ہرگز نہیں ہو جانی چاہیے…. ان بحثوں اور خصوصا ایسے مواقع پر الجھنابھی نہیں چاہیے۔
دنیا میں جو کچھ فساد رونما ہوتا ہے اس بارے میں اللہ رب العزت کا واضح ارشاد موجود ہے: ظہر الفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس۔ بر و بحر میں فساد لوگوں کے اپنے کرتوتوں کا کیا دھرا ہے۔جبکہ جامع ترمذی میں روایت ہے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر مایا کہ جب مال غنیمت کو گھر کی دولت سمجھاجانے لگے ۔ثانیاََامانت؛ غنیمت سمجھ کر دبالی جائے۔ثالثاََزکوات کو تاوان سمجھا جانے لگے۔رابعاََدینی تعلیم دنیا کے لئے حاصل کیجائے۔خامساََانسان اپنی بیوی کی اطاعت کرنے لگے اور ماں کو ستائے۔سادساََدوست کو قریب کرے اور ماں باپ کو دور کرے۔سابعاََانسان کی عزت اس لئے کی جائے تاکہ وہ شرارت نہ پھیلائے۔ثامناََگانے بجانے والی عورتیں اور گانے بجانے کے سامان کی کثرت ہو جائے۔تاسعاََشرابیں پی جانے لگیں۔عاشراََاور بعد میں آنے والے لوگ امت کے پچھلے لوگوں پر لعنت کرنے لگیں۔تواس زمانہ میںسرخ آندھیوں اور زلزلوں کا انتظار کرو،زمین میں دھنس جانے اور صورتیں مسخ ہوجانے اور آسمان سے پتھر برسنے کے بھی منتظر رہواور ان عذابوں کے ساتھ دوسری ان نشانیوں کا بھی انتظار کرو جو پے در پے اس طرح ظاہر ہوں گی جیسے کسی لڑی کا دھاگہ ٹوٹ جا ئے اور لگاتار اس کے دانے گرنے لگیں۔
رحمت للعالمین کے سامنے جب کوئی ایسی نشانی رونما ہوتی تو آپ پر رب العالمین کے خوف اور اسکی ہیبت جلال اور تعظیم اور خشیت و انابت کی بے حدکیفیت طاری ہوتی حضرت ابوبکرہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ کے پاس تھے کہ سورج کو گرہن لگ گیا۔ آپ اٹھے آپ اپنی بالائی چادر زمین پر کھینچتے ہوئے جارہے تھے یہاں تک کہ مسجد میں داخل ہوئے۔ لوگ بھی ہر طرف سے آپ کے پاس پہنچنے لگے (بخاری )عبداللہ بن عمرو بن العاص کی حدیث میں ہے کہ اس روز آپ قیام میں کھڑے ہوئے تو گویا رکوع کا نام نہ لیتے تھے۔ رکوع کیا تو اٹھنے کانام نہ لیتے تھے۔رکوع سے اٹھے تو سجدے کو جانے کا نام نہ لیتے تھے۔ پھر آپ نے سجدہ کیا تو سجدے سے اٹھنے کا نام نہ لیتے تھے پھر سجدے سے سر اٹھایا تو گویا دوبارہ سجدے میں جانے کانام نہ تھا۔ پھر سجدے میں گئے تو دوبارہ اٹھنے کا نام نہ تھا۔ پھر آپ سجدے سے اٹھے اور دوسری رکعت میں ویسے ہی کیا۔ پھر آپ نے سجدے کے آخر میں یوں سانسیں بھریں: اف اف پھر آپ سجدے میں یہ کہتے سنے گئے خدایا کیا تونے مجھے وعدہ نہیں دیا کہ میرے ان میں ہوتے ہوئے تو ان کو عذاب نہ دے گا اور یہ کہ تو ان کو عذاب نہ دے گا ۔ رحمت للعالمین کے اسوہ پرعمل کرنے سے ہی رب العالمین کے غضب ،اسکی ناراضگی اوراسکے غصے کوٹھنڈاکیاجاسکتاہے اورآفات کے وقت اوراسے نجات پانے کے بعدصرف اورصر ف اسکے سامنے اپنی پیشانیوں کوجھکائے رکھناہے۔
ماہر ارضیات پروفیسر سے پوچھا کہ زلزلے کیوں آتے ہیں تو وہ بتاتے ہیں کہ دراصل ہماری زمین اوپر سے نیچے تک ٹھوس گولہ نہیں بلکہ یہ مختلف تہوں پر مبنی ہے۔
سطح زمین سے کوئی 100کلومیٹر نیچے تک تو یہ ٹھوس ہے مگر پھر تقریبا ڈھائی سوکلو میٹر تک پگھلی ہوئی چٹانوں کی صورت میں موجود ہے۔ گویا ہماری زمین کا ٹھوس حصہ زمین کے نچلے حصے میں بہنے والے گرم مائع پر تیرتا ہے اور جب نیچے ابلنے والا لاوا اوپر کی طرف بڑھتا ہے تو پھر زمین کی پلیٹیں یا تو ایک دوسرے سے دور بھاگتی ہیں یا ایک دوسرے سے ٹکرا جاتی ہیں۔ موجودہ زلزلہ بھارتی اوریوریشین پلیٹوں کے ٹکرانے سے برپاہوا۔ اگرچہ 2015کا زلزلہ ریکٹر ا سکیل پر 8.1تھاجبکہ 2005والے زلزلے کی شدت 7.6تھی۔ 2005میں آزادکشمیرمیںتقریبا 80ہزار افراد لقمہ اجل بنے۔ جبکہ موجودہ زلزلے کے نتیجے میںپاکستان کے شمالی علاقہ جات وآزادکشمیراورپنجاب میں جاںبحق ہونے والوں کی تعداد اعدادو شمار کے مطابق تادم تحریر 275تجاوزکرچکی ہے۔ جبکہ شمالی علاقہ جات میں ہزاروں مکانات منہدم ہوچکے ہیںاگرچہ تادم تحریرکئی علاقے اتنے دورہیں کہ دشوارپہاڑی راستوں سے جہاں رسائی ممکن نہ ہوسکی،ریاست جموں وکشمیرمیں تین لوگوں کی اموات رپورٹ ہوچکی ہے اس سب کے باوجود مقام شکرہے کہ اس زلزلے سے زیادہ تباہی نہیںہوئی ۔
المیہ یہ ہے کہ مسلمان اورصاحب ایمان ہونے کے باوصف بھی کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ زلزلے قدرتی قوانین کے مطابق آتے ہیں ان کا کسی خدائی تنبیہ سے کوئی تعلق نہیں۔ افسوس یہ ہے کہ مسلمان ملک کامیڈیابھی خداخوفی کااحساس دلانے کے بجائے زیادہ تر یہی فلسفہ بگارتارہا۔ان لوگوں کا خیال درست نہیں کیونکہ اللہ تعالی قرآن پاک میں بار بار انسان کو نفس وآفاق پر غور وفکر کی دعوت دیتا ہے اور قوموں کو قدرتی آفات سے سبق سیکھنے کی تلقین کرتا ہے۔اسی طرح بعض لوگ اس کو محض سائنس کا ہی کرشمہ تصور کرتے ہیں اور اس کے اسباب کو سائنسی وجوہات کے زاویے سے ہی پرکھتے ہیں جبکہ اہل اسلام کا اس بارے نظریہ وہی ہے جو قرآن و سنت سے ماخوذ ہے، سائنسی وجوہات کا دارومدار بھی اللہ احکم الحاکمین حکم کے پر ہے۔ اس لیے محض سائنسی وجوہات تک محدود رہنے کی بجائے اس کے آگے اللہ رب العزت کے حکم اور ارادہ کو اثر انداز ماننا چاہیے۔ سیدنا عمر بن الخطاب کے زمانہ خلافت میں زلزلہ کے جھٹکے محسوس ہوئے توزمین کی طرف مخاطب ہوئے ،فرمانے لگے ابھی عمرزندہ ہے اورتمہاری پشت پرانصاف موجودہے اس لئے ٹھرجا۔پھرآپ لوگوں سے مخاطب ہوئے فرمایا اے لوگو! یقینا تمہارا رب تم سے ناراض ہو چکا ہے اور اپنی رضامندی چاہتا ہے ، تم اسے راضی کرو اور اسی کی طرف رجوع کرتے ہوئے توبہ کرو، وگرنہ اسے یہ پروا نہ ہوگی کہ تم کس وادی میں ہلاک ہوتے ہو۔
حاصل کلام یہ ہے کہ زلزلے،سونامی اور قدرتی آفات کے باب میں یہ اس الہامی ہدایت کا مقدمہ ہے جو اللہ کے رسول لے کر آتے ہیں۔پیغمبروں کی دعوت اصلا قیامت کی تذکیر اور تنبیہ ہے۔ انسان بھول جاتاہے کہ قیامت برپا ہونی ہے اور اسے اپنے رب کے حضور میں پیش ہو نا ہے۔اس دن کی یاد دہانی کے لیے،کبھی زمین ہلتی اور کبھی سمندر کی لہریں بے قابو ہو جا تی ہیں۔یہ بات تو یقینی ہے کہ اللہ تعالی وقتا فوقتا متنبہ کرتا ہے ۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker