مضامین ومقالات

17 مہینے پہلے اور آج کا فرق

حفیظ نعمانی
یہ بات تو سب کو یاد ہوگی کہ شری نریندر بھائی مودی نے 26 مئی 2014 ء کو وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا تھا۔ لیکن یہ کم لوگوں کو یاد ہوگا کہ ان کی حکومت کے پہلے پارلیمنٹ کے اس اجلاس کو جس میں دونوں ایوانوں کے ممبر موجود تھے۔ صدر جمہوریہ شری پرنب مکھرجی نے جو خطاب کیا تھا اس میں کن کن باتوں پر زیادہ زور دیا تھا؟
صدر محترم نے سب سے پہلا جملہ مہنگائی اور بدعنوانی کو روکنے کے متعلق کہا تھا اور کہا تھا کہ حکومت کی اوّلین ترجیح ان دونوں کا خاتمہ ہوگا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ حکومت خواتین کے خلاف تشدد، دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف سخت پالیسی اپنائے گی۔ حکومت اقلیتوں میں جدید تکنیکی تعلیم کے فروغ کے لئے مؤثر قدم اٹھائے گی۔ حکومت غربت کو جڑ سے ختم کرنے کے پروگراموں کے ساتھ آگے بڑھے گی۔ انہوں نے کہا حکومت تمام اقلیتوں کو برابر کا شریک کار بنانے کے لئے عہدبند ہے۔ صدر محترم نے مزید کہا کہ حکومت پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں خواتین کو 33 فیصدی ریزرویشن دینے اور ان کے خلاف تشدد کو قطعی برداشت نہ کرنے کی پوری طرح پابند ہے۔ یہ عہد کا ہی نمونہ ہے کہ دوسری مرتبہ بھی پارلیمنٹ کی اسپیکر ایک خاتون کو بنایا ہے۔
صدر نے پھر کہا کہ مہنگائی پر قابو پانے کی حکومت کی اوّلین ترجیح بتاتے ہوئے ذخیرہ اندوزوں اور کالا بازاری کرنے والوں کے خلاف مؤثر قدم اٹھائے جائیں گے۔ وغیرہ وغیرہ یہ کون نہیں جانتا کہ یہ تقریر صدر محترم کی زبان سے ضرور نکلی لیکن اس کا ایک ایک لفظ وہ ہے جو مودی صاحب نے اپنے سکریٹری سے لکھوایا اور بار بار خود پڑھ کر اسے صدر صاحب کو دے دیا کہ اب آپ اسے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں سنا دیجئے۔
صدر صاحب کے منھ سے نکلی ہوئی مودی صاحب کی اس تقریر کو 17 مہینے ہوگئے۔ جو مہنگائی اوّلین ترجیح تھی اس کا حال ہم کیا بتائیں۔ اس کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ جو مودی بھائی کے بابا ہیں جو ہر موقع پر ان کی کشتی کو پار لگانے کے لئے کاندھے پر چپو ّ لے کر آجاتے ہیں انہوں نے کہہ دیا کہ دال آدمی کو موٹا کرتی ہے اس لئے پتلی دال کھانا چاہئے اس سے مہنگائی بھی کم ہوگی اور مودی حکومت کی کھنچائی بھی کم ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ جو سبزی بازار میں سستی ہو وہ کھائو سبزی زیادہ فائدہ کرتی ہے۔ مودی صاحب کی اوّلین ترجیح مہنگائی تھی اس میں یہ وضاحت صدر صاحب نے بھی نہیں کی تھی کہ مہنگائی کم کرنا تھی یا مہنگائی بڑھانا تھی۔ 200 روپئے کے قریب سب دالوں اور ہزاروں کروڑ ٹن ذخیرہ اندوزوں سے دال برآمد کرکے 160 روپئے کلو کے حساب سے اعلیٰ افسروں کی نگرانی میں سونے چاندی کی طرح فروخت کرانے سے تو اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی اوّلین ترجیح مہنگائی بڑھانا رکھی تھی اور ہم مبارکباد دیتے ہیں کہ وہ اس میں پوری طرح کامیاب ہیں۔ انہوں نے صدر صاحب کے منھ سے بار بار اقلیتوں یعنی مسلمانوں اور عیسائیوں کے بارے میں اپنے عزائم کا ذکر کرایا ہے۔ عیسائی بھی دیکھ رہے ہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہوا اور مسلمانوں کے ساتھ تو جو ہوا اس کے بارے میں ہم کیا کہیں۔ ملک میں چوٹی کے ہندو ادیبوں، دانشوروں اور آفتاب و ماہتاب کی طرح چمکنے والے قلمکاروں نے اپنے اعزاز اور انعام حکومت کے منھ پر مارکر جتا دیا کہ اب وہ ان حرکتوں سے اپنا دامن داغدار نہیں کرسکتے۔
بیشک مودی صاحب نے ایک خاتون کو اسپیکر بنوا دیا لیکن اسے خاتون نوازی نہیں کہا جاسکتا۔ یہ انتخاب اس لئے ہوا ہے کہ ایک شریف ہندو خاتون کی رگوں میں فرمانبرداری اور اطاعت گذاری خوف بن کر دوڑتی ہے۔ وہ اپنے گھر میں ماں باپ کی سسرال میں شوہر کی اور باہر اس کی جس نے اسے بنایا ہے حکم عدولی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی۔ رہا ان کے خلاف جنسی تشدد تو اگر ان کا دفتر ان کے اقتدار کے 17 مہینوں اور ان سے پہلے کے 17 مہینوں کے اعداد و شمار جمع کرکے انہیں دکھادے تو شاید وہ اس مسئلہ پر آئندہ زبان نہ کھولیں۔ ہم بڑے ممنون ہوں گے اگر ہمارا وہ مضمون جو 28 اکتوبر کو چھپا ہے اس فہرست میں شامل کردیا جائے۔
مسٹر ارون شوری، سابق اداکار مسٹر شتروگھن سنہا کے مقابلہ میں بہت بڑے ہیں۔ وہ اپنی فکر کے اعتبار سے ایک اسکول ہیں اور بی جے پی کے ایسے شیدائی ہیں کہ شاید وہ زندگی میں بی جے پی کے علاوہ کسی پارٹی سے وابستہ نہیں رہے۔ اپنے دَور میں اٹل جی نے انہیں اپنی کابینہ میں شامل کیا تھا۔ اس لئے نہیں کہ وہ ضرورتمند تھے بلکہ اس لئے کہ وہ ان کے علم و دانش سے فائدہ اٹھانا چاہتے تھے۔ انہوں نے کل ایک کتاب کی رونمائی کرتے ہوئے مودی سرکار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ بے راہ روی کا شکار ہے۔ اس کی کوئی سمت ہے نہ رفتار، لہٰذا اس سے کسی بھی قسم کی امیدیں وابستہ کرنا ٹھیک نہیں ہیں۔ مسٹر شوری نے کہا کہ پی ایم او میں کوئی ایک آدمی بھی ایسا نہیں ہے جو کسی بھی طرح کی مہارت رکھتا ہو یا کسی بھی شعبہ کا ماہر ہو۔ اس کا نتیجہ ہے کہ اب تک کے سربراہوں میںمودی سب سے کمزور وزیر اعظم ہیں۔ ہم نہیں سمجھ سکے کہ مسٹر شوری کو کیوں تعجب ہے؟ انہیں تو معلوم ہوگا کہ ملک میں جو اقربا اور احباب نوازی کی پرانی بیماری ہے مودی اس کے سب سے زیادہ مریض ہیں۔ مگر اس فرق کے ساتھ کہ ان کے سارے عزیز اور احباب آر ایس ایس کے پرچارک اور سیوک ہیں۔ وہ ہریانہ میں کھٹر ّ جیسے پھوہڑ کو وزیر اعلیٰ بناکر بھگت رہے ہیں کہ وہ کس کس طرح بدنام کررہے اور ہورہے ہیں۔ مگر مالک کا حکم ہے کہ تم ان ہی کو حکومت کرنا سکھائو تاکہ آنے والے دَور میں یہی ہندو راشٹر کے رکھوالے بنیں۔
مسٹر ارون شوری نے یہاں تک کہہ دیا کہ مودی حکومت پرانی حکومت کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔ اس نے بھی اس میں گائے کو جوڑ دیا ہے اور یہی اس کی سوچ ہے اور بس انہوں نے یہ کہہ کر تو غضب ڈھا دیا کہ مودی حکومت جس انداز سے کام کررہی ہے۔ اس کی وجہ سے ملک اب ڈاکٹر منموہن کو یاد کرنے لگا ہے۔ مسٹر شوری کا یہ کہہ دینا اتنی بڑی بات ہے کہ بی جے پی کے تیسرے درجہ کے نیتائوں کو یہ کہنا پڑا کہ مسٹر شوری نے چھ سال کے بعد جو اپنی رکنیت کی تجدید کرائی جاتی ہے وہ نہیں کرائی اس لئے وہ اب بی جے پی کے ممبر نہیں ہیں ان سستے نوکروں کو یہ نہیں معلوم کہ مسٹر شوری کے لئے ممبر ہونا کیا، وزیر ہونا بھی ان سے بڑا نہیں ہے؟
شتروگھن سنہا ہوں، ممبر پارلیمنٹ آر کے سنگھ ہوں یا مسٹر ارون شوری اور وہ جنہیں پیدا کرنے والے نے عقل بھی دی ہے ضمیر بھی دیا ہے شرم و حیا بھی دی ہے اور اپنی بات کا پاس ان سب کو مودی صاحب کے بہار کا الیکشن شری لالو، رام ولاس پاسوان اور جیتن مانجھی کی طرح لڑاتا ہوا دیکھ کر شرم آرہی ہے۔ ان 17 مہینوں میں سیکڑوں بار کہا گیا ہے کہ مودی ملک کے وزیر اعظم ہیں بی جے پی کے نہیں۔ اور مودی ہر دن صبح سے رات تک ثابت کررہے ہیں کہ وہ بی جے پی کے بھی نہیں سنگھ کے وزیر اعظم ہیں۔ وہ ایک سب سے بڑے جمہوریہ ملک کے سربراہ کی حیثیت سے نہیں نکڑ ّ سبھا میں محلہ کے لڑکوں کی زبان میں بھاشن دے رہے ہیں۔ کیا یہ حد نہیں ہے؟ کہ لالو نے میرے چانٹے مارے اور میں نے لالو کے مارے؟ اور پانچ منٹ تک اتنی ہی گری ہوئی زبان بول کر وہ سب سے کہلوا رہے ہیں کہ مودی کو اپنی عزت خطرہ میں نظر آرہی ہے۔
مسز اندرا گاندھی کے ایک غلط فیصلہ کی بناء پر 1969 ء سے ملک میں ہر سال کہیں نہ کہیں صوبہ میں الیکشن ہوتا ہے۔ اندراجی کے زمانہ میں بھی ہوئے جنتا پارٹی کے زمانہ میں بھی جنتادل کے زمانے میں بھی اور بی جے پی کے زمانہ اور پھر کانگریس کے زمانہ میں۔ کیا پوری بی جے پی میں کوئی ایسا نہیں ہے جو وزیر اعظم مودی کو بتائے کہ ایسے موقع پر اٹل جی کا طریقہ کیا تھا اور ڈاکٹر منموہن سنگھ کا کیا تھا؟ راجیو گاندھی کا کیا تھا اور وی پی سنگھ کا کیا تھا؟ ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں تھا جس نے اپنے کو وزیر اعظم کے منصب سے نیچے اترکر صوبہ کے وزیر اعلیٰ سے دو بہ دو الیکشن لڑا ہو اور پوری دنیا کو یقین دلادیا ہو کہ وہ ملک کے نہیں پارٹی کے نام کے تو وزیر اعظم ہے ورنہ آج بھی پرچارک ہیں۔ اس کے بعد شکایت کا کسے حق رہ جاتا ہے؟
فون نمبر: 0522-2622300
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker