شمع فروزاںمضامین ومقالات

… کہ آشیانہ کسی شاخِ گُل پہ بار نہ ہو !

مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی
کہا جاتا ہے کہ انسان ایک سماجی حیوان ہے ، یعنی وہ تنہا نہ ایک خوشگوار زندگی گزار سکتا ہے اور نہ تنہا اپنی ضروریات پوری کرسکتا ہے ، وہ نہ صرف بیوی بچوں کا محتاج ہوتا ہے ؛ بلکہ اس کو خاندان اور سماج کی بھی ضرورت ہوتی ہے ، اسی ضرورت سے باہمی تعلقات وجود میں آتے ہیں ، پڑوسیوں سے تعلق ، مقامی تاجروں سے ارتباط ، زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے استفادہ ، سفر کرتے ہوئے سفر کے ساتھیوںکالحاظ ، گاڑی چلاتے ہوئے ان دوسرے لوگوں کا خیال جو ہمارے ساتھ رواں دواں ہیں ، معالج اور مریض ، تاجر اور گاہک ، آجر اورمزدور ، استاذ اور طالب علم ، حکومت کے نمائندے اور رعایا ، غرض کہ زندگی کے ایک ایک لمحہ میں انسان گھر سے لے کر باہر تک ایک دوسرے سے تعلقات رکھنے پر مجبور ہیں ، جیسے بجلی کا ایک بلب روشنی دینے میں کرنٹ کا محتاج ہے ، اسی طرح انسان مختلف ضرورتوں کو پوری کرنے میں کتنے ہی انسانوں ، جانوروں مشینوں اور مادی وسائل کا ضرورت مند ہے ۔
اب اگر وہ اس ضرورت کو خوشگوار طریقہ پر پورا کرنا چاہتا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ جیسے وہ چاہتا ہے کہ اس کا خیال و لحاظ رکھا جائے ، اسی طرح وہ خود دوسروں کا بھی خیال و لحاظ رکھے ، رسول اللہ ا نے اس کے لئے بڑی خوب تعبیر اختیار فرمائی ہے کہ مسلمان ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے لئے جس چیز کو پسند کرتا ہے ، اپنے بھائی کے لئے بھی وہی چیز پسند کرے : ’’ یحب لأخیہ مایجب لنفسہ‘‘ ( صحیح بخاری ، کتاب الایمان ، حدیث نمبر : ۲۱) اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا بھائی جس کیفیت سے دوچار ہو ، انسان غور کرے کہ اگر اس وقت وہ اس کیفیت سے دوچار ہوتاتو وہ اپنے ساتھ کس سلوک کا خواہش مند ہوتا ؟ وہی سلوک اس کے ساتھ کرنے کی کوشش کی جائے ، آپ بس میں بیٹھے ہوئے ہیں ؛ حالاںکہ نوجوان اور صحت مند ہیں ، اگر کھڑے بھی ہوجائیں تو کوئی بڑی دشواری نہ ہو ، آپ کے بازو میں ایک بزرگ شخص کھڑے ہوئے ہیں ، ہاتھوں میں عصا ، کمر جھکی ہوئی ، قدموں میں لڑکھڑاہٹ ، ہاتھوں میں لزرش اور جسم لا غر ، کسی چیز کو تھامے ہوئے ، اب غور کریں کہ اگر آپ اس عمر میں ہوتے تو کیا سوچتے ؟ یہی کہ کوئی نوجوان اُٹھ کر آپ کو اپنی جگہ بٹھادے ، ایسے وقت میں اگر آپ کھڑے ہوجائیں اور اپنی جگہ پر ان بزرگ کو بٹھادیں تو آپ کو ان سے بغیر کسی خواہش اور طلب کے ڈھیر ساری دُعائیں ملیں گی اور آپ کا عمل رسول اللہ ا کی اس ہدایت پر ہوگا کہ جو اپنے لئے پسند کرتے ہو ، وہی دوسروں کے لئے پسند کرو ۔
ٹرین میں بہت سی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ آپ کو نیچے کی برتھ مل گئی اور کسی خاتون کے حصہ میں اوپر کی برتھ ہے ، اس کے لئے خود ہی اوپر چڑھنا دشوار ہے اور اگر اس کے چھوٹے بچے بھی ہوں تو پھر تو یہ عمل دشوار تر ہوجاتا ہے ، اگر اس وقت آپ کی فیملی اور آپ کے بچے ہوتے تو یقینا آپ چاہتے کہ آپ ان کے لئے نیچے کی برتھ کا انتظام کریں ، اب اگر آپ یہاں تھوڑی سی مشقت کو انگیز کرلیں اور اپنی اس انسانی بہن کو اپنا برتھ حوالہ کردیں تو سوچئے کہ اس کے دل میں کس قدر شکر کے جذبات موجزن ہوں گے ؟
سفر و حضر میں کتنے ہی مواقع آتے ہیں ، جب ایسے عمل کی ضرورت پڑتی ہے ، یہ طرز عمل انسان کو لوگوں کی نگاہ میں محبوب بنادیتا ہے اور جو انسانوں کے درمیان محبوب ہوتا ہے ، اس کو اللہ کی محبت حاصل ہوتی ہے ، حضرت ابوسعید خدریؓ سے رسول اللہ ا کا ارشاد منقول ہے کہ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ محبوب وہ شخص ہے ، جو لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہو اور اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ مبغوض و ناپسندیدہ وہ شخص ہے جو لوگوں کی نظر میں ناپسندیدہ ہو :’’ إن احبکم إلی اﷲ احبکم إلی الناس الخ ‘‘ (المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر : ۶۰۱۹) ایک اور حدیث میں رسول اللہ انے بیان فرمایا کہ ’’ ایمان والے کا مزاج یہ ہوتا ہے کہ وہ خود محبت کرتا ہے اور وہ اس لائق ہوتا ہے کہ اس سے محبت کی جائے ، اور اس شخص میں خیر نہیں ہے جو نہ خود محبت کرتا ہو اور نہ اس سے محبت کی جاتی ہو ‘‘ اسی لئے آپ انے حسن اخلاق کی بڑی تاکید فرمائی ہے ، آپ نے فرمایا کہ قیامت کے دن تم میں سے وہ شخص مجھ سے قریب ہوگا ، جس کے اخلاق بہتر ہوں گے ، اور مجھ سے سب سے دُور وہ شخص ہوگا ، جس کے اخلاق خراب ہوں گے : ’’ إن احبکم إلی وأقربکم منی فی الآخرۃ محاسنکم أخلاقاالخ‘‘ ۔ (مسند احمد ، حدیث نمبر ۱۷۷۳۲)
یہ تو اخلاق کا ایک پہلو ہے کہ دوسروں کے کام آیا جائے ، اپنے آپ پر دوسروں کو ترجیح دی جائے ، خود نقصان اُٹھاکر دوسروں کو فائدہ پہنچایا جائے اور خود مشقت برداشت کرکے دوسروں کے لئے راحت و آرام کے مواقع پیدا کئے جائیں ، یہ اخلاقی احکام بعض حالات میں واجب بھی ہوجاتے ہیں ؛ لیکن زیادہ تر مستحب کے درجہ میں ہیں ، اخلاق کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ آپ کے کسی عمل سے دوسرے کو نقصان نہ پہنچ جائے ، یہ شرعاً واجب ہے ، قرآن و حدیث میں اس کی جزوی تفصیلات اتنی وضاحت سے ذکر کی گئی ہیں کہ عبادات کے سوا کسی اور شعبۂ زندگی میں اتنی زیادہ تفصیل کا ذکر نہیں ملتا ؛ چنانچہ آپ انے تو کسی ایسے عمل کو بھی پسند نہیں فرمایا ، جس سے جانور کو تکلیف ہو ، آپ نے جانور کے چہرہ پر مارنے اور اس کو برا بھلا کہنے کی بھی ممانعت کی ’’ ینھیٰ عن لطم خدود الدواب ‘‘ ( مسند احمد ، حدیث نمبر : ۱۷۱۸۰) لوگ جانوروں کو کھڑا کرکے اس پر بیٹھا کرتے تھے اور اس کو کرسی کی طرح استعمال کیا کرتے تھے ، یہ عمل ایک تو بے ضرورت ہے ، دوسرے جانور کو چلتی ہوئی حالت میں مشقت کا احساس کم ہوتا ہے اور ٹھہری ہوئی حالت میں مشقت کا احساس زیادہ ؛ اس لئے آپ نے اس سے منع فرمایا : ’’ لا تتخذوھا کراسی‘‘ (مسند احمد ، حدیث نمبر : ۱۵۶۳۹) آپ نے اس بات سے بھی منع فرمایا کہ ایک جانو پر تین تین آدمی سوار ہوں : ’’ نہی عن أن یرکب ثلا ثۃ علی دابۃ‘‘ (المعجم الاوسط ، حدیث نمبر : ۷۵۱۲) گویا اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہوگیا کہ سواری چاہے جانور کی شکل میں ہو یا کسی مشین کی شکل میں ، اس پر اس کی طاقت و صلاحیت کے لحاظ سے ہی بیٹھنا چاہئے ، اگر اس کی رعایت نہ کی گئی تو حادثات پیش آسکتے ہیں ، جو خود ان کے لئے بھی نقصان کا باعث ہوسکتا ہے اور دوسرے راہ گیروں کے لئے بھی ؛ اس لئے ایسا عمل نہ صرف قانوناً درست نہیں ہے ؛ بلکہ شرعاً بھی درست نہیں ۔
آج اگر ہم اپنی عملی زندگی میں دیکھیں تو کتنے ہی مواقع پر ہم ایسا عمل کرتے ہیں ، جو دوسروں کے لئے تکلیف دہ ہوتا ہے ، اور لطف یہ ہے کہ ہم ایسے کاموں کو اپنی عقلمندی اور ہوشیاری باور کرتے ہیں ، مثلاً بہت سے لوگ استعمال شدہ پانی کے اخراج کے لئے نالیاں سڑک پر نکال دیتے ہیں ، آنے جانے والوں کو دقت ہوتی ہے ، تعفن پھیلتا ہے ، کپڑے خراب ہوتے ہیں ؛ لیکن ہمیں اس کی پرواہ نہیں ، قانون کے مطابق تو ہمیں گھر بناتے وقت اپنی زمین کا کچھ حصہ چھوڑنا چاہئے ؛ لیکن ہمارا حال یہ ہے کہ زمین کا کچھ حصہ چھوڑنا تو کجا ہم سڑک کے حصہ میں سیڑھیاں ، چبوترے اور چھجے بنالیتے ہیں اور ہم ذرا بھی غور نہیں کرتے کہ اگر اس طرح ہم نے کوئی زمین غلط طریقہ پر اپنے استعمال میں لے لی تو ہم نے ایک ہی فرد کو تکلیف نہیں پہنچائی ؛ بلکہ ہزاروں افراد کو تکلیف و مشقت میں مبتلا کیا اور ان کی حق تلفی کی ، اس طرح ہم اجتماعی طورپر زمین غصب کرنے کے گنہگار ہوں گے ، محلوں میں یہ بات عام ہے کہ اپنے گھروں کا نکلا ہوا کچڑا راستہ پر یا کسی کے گھر کے سامنے ڈال دیا ، اسی طرح ایک عام مزاج یہ ہے کہ راستہ میں گاڑیاں ٹھہرادیں ، جہاں پارکنگ نہیں ہے ، وہاں گاری کھڑی کردی ، اس کی وجہ سے ٹریفک جام ہوتی ہے ، کتنے ہی ضرورت مند لوگ وقت پر اپنی منزل تک نہیں پہنچ پاتے ، منٹوں کا سفر طے کرنے میں گھنٹے لگ جاتے ہیں ، فلائٹیں ، ٹرینیں اور بسیں چھوٹ جاتی ہیں ، اس کے نتیجہ میں ٹکٹ ضائع ہوجاتا ہے ، مریض وقت پر ہاسپٹل نہیں پہنچ پاتا ، یہاں تک کہ ایمبولنس کو بھی لوگ راستہ دینے کو تیار نہیں ہوتے ، کتنے ایسے واقعات ملیں گے کہ مریض کے ہاسپٹل پہنچنے سے پہلے ہی اس کی موت ہوگئی ، بظاہر یہ ایک چھوٹا سا فعل معلوم ہوتا ہے ؛ لیکن غور کیجئے کہ یہ کتنے سارے لوگوں کی مشقت کا سبب بن جاتا ہے اور مشقت بھی انتہائی درجہ کی ؟
رسول اللہ ا نے دوسروں کے باعث تکلیف بننے والے عمل کو بڑی تاکید کے ساتھ منع فرمایا ہے ، آپ نے فرمایا کہ یہ ایمان کا ایک درجہ ہے کہ راستہ سے ’’ اذی‘‘ کو ہٹا دیا جائے : ’’ وأدناھا إما طۃ الأذی عن الطریق‘‘ ( صحیح مسلم ، کتاب الایمان ، حدیث نمبر : ۵۸) ’’ اذی ‘‘ کے معنی گندگی کے بھی ہیں اور تکلیف دہ چیز کے بھی ؛ اس لئے اس میں وہ ساری چیزیں شامل ہیں ، جو راستہ چلنے والوں کے لئے تکلیف دہ ہو ، راستہ پر پیشاب پاخانہ کرنا ، کچڑا پھینکنا ، جسمانی نقصان پہنچانے والی چیزوں کو راستہ پر ڈال دینا ، راستہ کے کچھ حصہ کو اپنے استعمال کے لئے مخصوص کرلینا ، گاڑی اس طرح کھڑا کرنا کہ ٹریفک جام ہوجائے ؛ اسی لئے رسول اللہ انے راستہ پر بیٹھنے سے بھی منع فرمایا : ’’ إیاکم والجلوس علی الصعدات‘‘ ( مسند احمد ، حدیث نمبر : ۲۷۱۶۳) گویا راہ گیروں ، پڑوسیوں اور محلہ کے لوگوں کو تکلیف سے بچانا بھی ایمان میں داخل ہے ۔
اور صرف راستہ کی رکاوٹ پر ہی موقوف نہیں ، کوئی بھی ایسا عمل جس سے کسی کی حق تلفی ہو ، یا جو کسی کے لئے تکلیف یا خوف و دہشت کا باعث ہوجائے ، اس کو کر گزرنا اس ممانعت میں شامل ہے ، جیسے بے موقع تھوک اور بلغم پھینکنا ، یہاں تک کہ آپ انے فرمایا کہ ’’ اگر کوئی شخص بلغم پھینکے تو اسے زمین میں دفن کردے ، یا ایسی شکل اختیار کرے کہ یہ کسی انسان کے بدن یا کپڑے میں نہ لگے : ’’ إذا تنخم أحد فلیغیب نخامتہ الخ‘‘ (مسند احمد ، حدیث نمبر : ۱۱۲۷) عام طورپر لوگ دائیں طرف سے چلا کرتے تھے ، آپ انے فرمایا کہ دائیں طرف تھوک نہ پھینکو ، اگر بائیں طرف کوئی نہ ہوتو بائیں طرف تھوکا کرو اور اگر بائیں طرف لوگ ہوں تو اپنے سامنے نیچے تھوکا کرو : ’’ فلا تبزق عن یمینک ولکن عن یسارک الخ‘‘ ۔ (کنز العمال : ۴۱۶۴۳)
عوامی حق تلفی کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ ٹرینوں یا بسوں میں دوسرے کی سیٹ پر آپ بلا اجازت بیٹھ جائیں ، یا جو کوچ یا جو سیٹیں خواتین اور معذوروں کے لئے مخصوص ہوں ، ان پر دوسرے لوگ قابض ہوجائیں ، ایسا تو بہت ہوتا ہے کہ حکومت کی طرف سے جو بیت الخلاء عوامی مقامات پر معذورین کے لئے بنائے گئے ہیں ، ان میں اچھے خاصے صحت مند اور تنو مند لوگ چلے جاتے ہیں اور بے چارے بوڑھے اور معذور لوگ انتظار میں کھڑے رہتے ہیں ، ریلوے پلیٹ فارم اور ٹرین کی جنرل بوگیوں میں بینچیں لوگوں کے بیٹھنے کے لئے رکھی گئی ہیں ؛ لیکن بعض لوگ ان پر ایسی بے فکری کے ساتھ سوجاتے ہیں کہ گویا انھوںنے اس بینچ کا ریزرویشن کرا رکھا ہو ۔
تکلیف ہی پہنچانے کی ایک صورت رہائشی علاقوں میں غیر قانونی طورپر ایسی صنعتوں کا قائم کرنا ہے ، جو دوسروں کے لئے تکلیف دہ ہوں ، اور جن سے صنعتی فضلات ، گیسوں اور دھوؤں کا اخراج ہوتا ہو ، آپ انے تو اس بات سے بھی منع فرمایا کہ رات کو سوتے وقت چراغ جلتا ہوا چھوڑ دیا جائے : ’’ اطفئوا سراجکم‘‘ ( سنن ابی داؤد ، ابواب النوم ، حدیث نمبر : ۵۲۴۷) یہ ممانعت کئی مصلحتوں کو شامل ہے ، ایک تو بلا ضرورت چراغ کے جلانے میں ایندھن کا ضیاع ہے اور ایندھن اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے ، دوسرے : اس سے نکلنے والا دھواں انسان کے لئے نقصان دہ ہے ، تیسرے : اس سے آگ لگنے کا اندیشہ ہے ، اسی حکم میں ایسی گاڑیاں ہیں ، جن میں ناقص ایندھن استعمال کیا جائے اور اس کی وجہ سے بڑی مقدار میں دھویں کا اخراج ہو ؛ کیوںکہ یہ ماحول کے لئے نقصان دہ اور صحت کے لئے تباہ کن ہے ۔
گاڑیوں میں ہارن چلنے والوں کو متنبہ کرنے کے لئے ہوتا ہے ؛ لیکن آج کل کچھ لوگ کتے کی آواز یا کسی اور جانور کی آواز یا چھوٹے بچہ کی آواز کا ہارن استعمال کرتے ہیں ، ایسا بھی ہوتا ہے کہ دو پہیوں والی گاڑی میں ٹرک اور لاری کا ہارن لگادیا ، اس طرح کی آوازیں چلنے والوں کو گھبراہٹ میں مبتلا کردیتی ہیں اور آدمی بسااوقات توازن کھودیتا ہے ، یہ بظاہر چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں ؛ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس سے ہمارے مزاج اور طرز فکر کی عکاسی ہوتی ہے ، جو شخص مومنانہ اخلاق کا حامل ہو ، جس کے دل میں انسانیت کی محبت اور دوسرے انسانوں کا لحاظ ہو ، وہ ہرایسی بات سے بچتا ہے ، جو دوسروں کے لئے تکلیف کا باعث ہو ، وہ ایک چیونٹی کا بھی خیال کرتا ہے کہ بلا ضرورت اسے مارا نہ جائے ، وہ ایک بلی کا بھی خیال رکھتا ہے کہ وہ بھوک سے مر نہ جائے اور اس کو ایک کتے کا بھی پاس و لحاظ رہتا ہے کہ وہ پیاسا نہ رہ جائے ، اسے یہ بات بے قرار کرتی ہے کہ اس کا کوئی عمل دوسروں کے لئے تکلیف و مشقت کا سبب ہوجائے ، بقول شاعر :
تمام عمر اسی احتیاط میں گزری
کہ آشیانہ کسی شاخِ گُل پہ بار نہ ہو
اور جس انسان کا دل دوسرے انسانوں کی تکلیف سے دُکھتا نہ ہو ، وہ دوسروں کا حق مار کر چند لمحوں کی راحت حاصل کرنے کو اپنی عقلمندی وہوشیاری باور کرتا ہے ۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker