مضامین ومقالات

سبیل الفلاح پر حملہ ایک لمحہ فکریہ

عبدالخالق القاسمی
بسنت کی جانب جانے والی شاہراہ لب روڈ جہاں شہرت یافتہ عظیم ادارہ دارالعلوم سبیل الفلاح جالے میں اتوار کے دن 4بجکر 30منٹ پر ایک ایسی وحشتناک خبر سننے کو ملی جس نے دل کو دہلادیا،ایک خاص فرقہ پرست خاندانوں اور گھرانوں کے ذریعہ دارالعلوم سبیل الفلاح کے طلباء اور اساتذہ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا،اور اس کو مکمل اور منظم پلاننگ کے ساتھ انجام دیا گیا،حد تو یہ ہیکہ ان بے رحم فرقہ پرست عناصر نے ان چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کو ،لاٹھی،ڈنڈے،اور پتھر سے قاتلانہ حملہ کرکے جالے اور اس کے گردو نواح کے لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کرکے یہاں کی فضاء کو مکدر بنانے کی کوشش کی ہے،بتایا جاتا ہے دربھنگہ ضلع کا زرخیز اور مردم خیز علاقہ جالے جو محتاج تعارف نہیں،جہاں بڑے بڑے علماء ،صلحا.صوفیاء پیدا ہوئے اور ایسے ایسے کارہائے نمایا انجام دیا ہے جسے لوگ رہتی دنیا تک فراموش نہیں کرسکتے ،اگر راقم الحروف سے اگر کوئی یہ پوچھے کہ تم نے اپنی زندگی میں اپنی آنکھوں سے کس انسان کو سب سے بہتر دیکھا،اور کس کو سب سے اچھا ماہر فقیہ ،اور سب سے اچھا ماہر حدیث،اور سب سے اچھا متکلم،اور سب سے اچھا انشا پرداز کس کو پایا تو میں یہی عرض کرونگا جالے کےحضرت مولانا قاضی مجاہدالاسلام صاحب القاسمی اور کسی کو میرے اس رائے سے اختلاف نہیں ہوگا،تاریخ میں ایسی کئی ہستیاں ہیں جن کی شخصیت نے غیر محسوس طریقہ سے ایسا انقلاب لایا جس کا اندازہ کرنا محال ہے ،ایسی ہر شخصیت قابل احترام ہے،ایسی شخصیت کے کارہائے نمایاں قابل ستائش اور انسانوں کی ترقی کے لئے میل کے پتھر ہیں،جالے ایسی کئی شخصیات پیدا ہوئیں ان میں ایک حضرت قاضی مجاہدالاسلام القاسمی اور دوسرے مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ان کی سرگرمیوں کا خاص مرکز ہندوستان ہی نہیں بلکہ اس کے علاوہ بیرون ممالک میں بھی اپنی علمی قدوکاوش سے فرزندان امت مسلمہ کو سیراب کر رہے ہیں اللہ ان بزرگوں کا سایہ تادیر قائم فرمائے،
جالے دربھنگہ ضلع کا ایک ایسا قصبہ ہے جو تاریخ کے ہر دور میں تہذیب تمدن کا گہوارہ رہا ہے،یہ خصوصیت بہت کم خطوں اور قصبوں کو نصیب ہوتی ہے،جالے قصبہ بزرگان دین،علماء اور باکمالوں کا مسکن رہا ہے،اور ان بزرگوں کے صدقہ طفیل یہ قصبہ اس قدر مضبوط ہے کہ زمانے کے سرد گرم کے باوجود بھی اس کی خصوصیت باقی ہے،جالے اکثریت کا ایک چھوٹا سا قصبہ ہے،لیکن اپنی گوناں گوں صفات اور خصوصیت کے اعتبار سے اسے ہرگز نظر انداز نہیں کیا جاسکتا،یہاں کی سڑکیں چوڑی چکلی،پختہ گلیاں،پرشکوہ عمارتیں،چوک چوراہا بڑے شہر اور صدر مقام کی عکاسی کرتی نظر آتی ہے ،جو لوگ گاڑیوں پر چلتے ہیں وہ سڑکوں پر چلنے والوں کو پکار پکار کر سلام کرتے ہیں،یہاں کی فضاء معطر اور خوشبودار نظر آتی ہے،یہاں کے لوگ ایک دوسرے کے دکھ درد میں بغیر کسی بھید بھاو کے شریک ہوتے ہیں،مگر حالیہ اندہناک واقعات و حادثات نے اس کی ساری خصوصیات ختم کر ڈالی،آنا فانا لوگ اپنے ڈربوں میں سمٹ کر رہ گئے،کسی کو ایک دوسرے کے بارے میں کچھ خبر نہیں،کہ اس پر کیا بیت رہی ہے،
مدرسہ سبیل الفلاح جالے کے قیام کو کئی سال گزر گئے اس قلیل مدت میں اس عظیم ادارہ نے جو بیش بہا خدمات انجام دیں ہیں ،ان سے صرف خطہ بہار ہی نہیں بلکہ اس ملک کا چپہ چپہ اور کونہ کونہ واقف ہے،جو رہتی دنیا تک روشنی کے مینار کے طور پر کام کریگا
مگر افسوس صد افسوس آج دارالعلوم سبیل الفلاح جس نازک دور سے گزر رہا ہے اس سے ہر انسان واقف ہے،دشمن فرقہ پرست عناصر نے اس مدرسہ کو مٹانے کے درپہ ہے جو امت مسلمہ کے لئے عموما اور خصوصا جالے اطراف میں زندگی گزر بسر کرنے والوں کے لئے بڑا چیلینج اور گلے کی ہڈی بن کر ابہر رہی ہے،،فرقہ پرست طاقتیں متحد ہو کر دارالعلوم سبیل الفلاح مدرسہ اور مسجد. میں گھس کر جس بے رحمی اور ظالم بربریت کا ننگا ناچ ناچا اور اساتذہ اور طلبہ پر قاتلانہ حملہ کر کے وہاں کی آب ہوا کو مکدر کیا ،اور مقدس کتاب قرآن کریم کی بے حرمتی کی جسے منظم سازش کے تحت انجام دیا گیا،جو قابل افسوسناک ہے ،حکومت اس کے خاطی افراد کو گرفتار کرکے سخت سزا دے تاکہ فرقہ وارانہ ماحول بنانے کی شرپسندوں کے سازش ناکام ہو جائے،قرآن کریم اللہ کی مقد کتاب ہے اور مسجد روئے زمین پر اللہ کا مبارک گھر ہے،جس کو ہر مذہب کے لوگ عقیدت اور احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں،شرپسندوں کی جانب سے مقدس کتاب اور مسجد کی بے حرمتی اور اساتذہ اور طلبہ پر قاتلانہ حملہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں ہے،بلکہ منظم طریقہ سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہونچانے اور بھڑکانے کی سازش کا نتیجہ ہے،تاکہ ریاست میں فرقہ وارانہ ماحول بنے،حکومت کو اس طرح کے واقعہ کو نظر انداز نہیں کرنی چاہیے،بلکہ اسے سنجیدگی سے لیتے ہوئے قصورواروں کو بے نقاب کرکے کیفر کردار پہونچانا چاہیے،
معتبر ذرائع کے مطابق اس منظم حملے میں زخمی استاد مولانا نصیرالدین القاسمی کی تحریر پر دس خاتون سمیت کل بیس افراد کے خلاف ایف آئی آر کے لئے درخواست دی گئی ہے،تھانہ کو دئے تحریر میں1 راجیش داس2چھپتن داس3پربھو داس4ٹنکو داس5راجکمار رائے6راجکشور رائے7نندہ رام8منجو دیوی 9چنیا دیوی10پہول کماری 11دیوی موہن12نگینہ دیوی13میٹھرن داس14نندی داس سمیت 26افراد پر دھاردار ہتھیار سے مدرسہ کے طلبہ اور اساتذہ پر جانلیوا حملہ ،مسجد میں داخل ہوکر مقدس کتاب کی بے حرمتی کرنا،کچن شیڈ میں توڑ پہوڑ اور بنا ہوا کھانے کو پھینک دینے کے علاوہ اور کئی سنگین الزامات لگائے گئے ہیں،جو منظم سازش کا نتیجہ ہے،جو مسلمانوں کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے،اب دیکھنا ہے کہ حکومت کی طرف سے ایف آئی آر پر کوئی نوٹس لی جاتی ہے اور واقعہ میں ملوث افراد پر کاروائی کرکے مجرمین کو سبق آموز سزا دی جاتی ہے کہ نہیں،اس سلسلے میں ہم مسلمانوں کو ہوش کا دم بہرنا چاہیے،سوچنا اور سمجھنا چاہیےاور غور کرنا چاہیے کہ آج مدارس و مکاتب اور مساجد ،علماء طلباء کے ساتھ کیا ہو رہا ہے،ہمارے دینی تشخص کو پامال کیا جارہا ہے،پورے دنیا کے کفار و مشرکین ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو چکے ہیں،یہ ملک کے امن امان کے لئے خطرہ بن چکا ہے،پوری دنیا میں رہنے والے کفار و مشرکین کی ذہنیت ایک ہو چکی ہے،ان سب کا مقصد مسلمانوں کی تباہی و بربادی ہے اور مدارس و مساجد کی پامالی ہے،یہ فرقہ پرست کفار و مشرکین ہمارے مدارس و مساجد کو تباہ و برباد کرنے کے درپے ہیں،
مگر افسوس صد افسوس کہ مسلمان اپنے مفاد میں اتنے اندھے ہوگئے کہ قومی مفاد کو بھول گئے،ملی مفاد کو فراموش کرگئے،آج مسلم قوم ایک مٹھی بیری اور سگریٹ پر بکنے والی قوم ہوگئی،اپنے مفاد کے خاطر ہر بغاوت پر تیار ہوکر اپنے دینی تشخص کو پامال کردیتی ہے،آج مدارس و مکاتب کے خلاف علم بغاوت بلند کیا جارہا ہے،اے مسلم قوم تم ہو کہ تمہاری رگ حمیت نہ بھرکی ،کیا آج ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا چودہ سو سال پہلے دیا ہوا پیارا سبق بھول گئے،کیا یہ مدارس اسلامیہ صفہ کی شاخ نہیں؟یہ مساجد اللہ کا محبوب گھر نہیں؟یہ علماء نبی کے وارث نہیں،یہ مدارس اسلامیہ اور مکاتب دینیہ کے طلباء مہمان رسول نہیں؟کیا تم اللہ کے رسول کا فرمان بھول گئے کہ مسلمان تو مسلمان کا بھائی ہے ،اگر دوسرے مسلمان کو تکلیف پہونچتی ہے تو ایسا لگے کہ تمھارے جسم کے کسی حصہ میں چوٹ آئی ہو،یہی کھیل اتوار کی شام فرقہ پرست عناصر نے مقامی تھانہ کے جالے بسنت روڈ میں عالمی شہرت یافتہ عالم دین مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کے لگائے ہوئے باغیچہ علم دارالعلوم سبیل الفلاح جالے کے نونہالوں کے ساتھ ہوا ،طلبہ اور اساتذہ پر جان لیوا حملہ جو منظم طریقہ سے انجام دیا گیا جس میں اساتذہ سمیت طلبہ بھی زخمی ہوئے جن کا علاج جالے ہاسپیٹل میں چل رہا ہے،جو بڑا ہی افسوسناک،اندوہناک اور بدبختانہ واقعہ ہے جسے سن کر کلیجہ منھ کو آتا ہے،
ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنے اندر اتحاد اتفاق پیدا کریں،جو لوگ مسلمانوں اور ان کے مذہبی ادارے اورمساجد کو سازش کا نشانہ بنا رہے ہیں،وہ مسلمانوں اور ان کے مذہبی ادارے اور مساجد الہیہ کے دشمن ہیں،مسلمانوں کو دور حاضر میں اللہ سے اپنا رشتہ قائم کرنی چاہیے،پورے ملک میں فسادات کا دور جاری ہے،ان تمام فسادات میں سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں کا ہوا ہے اور ہورہا ہے،فسادات کے سبب ہی مسلمانوں کا شیرازہ بکھر چکا ہے،اس کے باوجود مسلمان خواب غفلت میں پڑے ہوئے ہیں،اپنے اندر بیداری پیدا کرنا نہیں چاہتے،مسلمان اپنے اندر بیداری اور شعور پیدا کریں،شریعت کے پابند بنیں،آج پورے ملک کی فضاء مکدر بنی ہوئی ہے،ملک میں مسلمانوں کو تقسیم کرنے اور ان کے مذہبی ادارے کو مٹانے کی سازش جاری ہے،آج مسلمانوں کو مسلک کے نام پر برادریوں کے نام پر انہیں مختلف تنظیموں کے نام پر تقسیم کیا جارہا ہے،تاکہ مسلمان ایک پلیٹ فارم پر نہ آئے،جس دن مسلمان یکجا ہوجائینگے وہ ملک کا نقشہ بدل دینگے،فرقہ پرست طاقتوں کا پنجہ مرور دینگے،حکومت کو لوہے کا چنا چبوانے ہر مجبور کر دینگے،اسلام ہمیشہ فرقہ پرستی کے خلاف رہا ہے،جولوگ مسلمانوں اور ان کے دینی ادارے اور مساجد و مکاتب کو نقصان پہونچارہے ہیں،وہ مسلمانوں کے کھلے دشمن ہیں،کیونکہ اسلام اخوت و محبت کا پیغام دیتا ہے،اللہ کے نزدیک سب انسان برابر ہے،وقت اور حالات کو ضرورت ہے کہ مسلمان اپنے اندر اتحاد اتفاق کے ساتھ حسن و اخلاق پیدا کریں،متحد ہوکر ہی ہم اپنے حقوق کو حاصل کرسکتے ہیں،اپنی طاقت کا فرقہ پرست جماعتوں کو احساس کرا سکتے ہیں
جہاں بہت سارے علماء،ملی رہنما،اور سماجی مسلم وغیر مسلم کارکنوں نے اس شرمناک واقعہ کی شدید مذمت کی،وہیں بہار کے مشہور و معروف عالم دین مدرسہ طیبہ منت نگر کے سرپرست امارت شرعیہ کے قاضی شریعت مولانا قاسم مظفرپوری نے بھی اس اندہناک حادثہ کی مذمت ہی نہیں کی بلکہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ انسانیت کو شرمشار کرنے والے اس مکر فریب میں شامل افراد کو کیفر کردار تک پہونچانے میں انتھک جد و جہد کرے،نیز مدرسہ طیبہ کے اساتذہ مولانا تقی احمد القاسمی.مولانا امتیاز صاحب سابق استاد حدیث دارالعلوم بالاساتھ مولانا بلال صاحب مظاہری،حافظ منت اللہ رحمانی،مولانا اسرار عالم مظاہری،ماسٹر جاوید نے بھی پرزو لفظوں میں اس واقعہ کی مذمت کی اور سب کے سب دست بہ دعا ہیں کہ اللہ تعالی امت مسلمہ اور دینی ادارے مساجد و مکاتب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے،، آمین
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker