مضامین ومقالات

دینی مدارس کا نصاب تعلیم

اور
حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتویؒ

محمد شکیب قاسمی
ڈائریکٹرحجۃ الاسلام اکیڈمی و استاذ دارالعلوم وقف دیوبند
اس بات کو قطعی طور پر مبالغہ آرائی پر محمول نہیں کیا جا سکتا کہ آج برصغیر میں اگر دینی شعور باقی ہے تو وہ مدارس اسلامیہ کا ہی رہین منت ہے، تاریخ کے سینہ میں مسلمانوں کے عروج و زوال ،حکومت و محکومیت ، ترقی و تنزل، عزت وذلت کے لاتعداد واقعات محفوظ ہیں، ہر زمانے میں مسلمانوں کو جن جاں گسل حالات سے گزرنا پڑا تاریخ پر سرسری نظر رکھنے والا شخص بھی بہتر طور پر جانتا ہے، اسلام کے دشمنوں نے انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی، سرکاری پیمانے پر بھی اور غیر سرکاری طریقے پر بھی اسلام کے وجود کو عدم میں تبدیل کردینے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا؟
غرض مسلمانوں پر تباہ کن حالات کہ ایسی قیامتیں گزریں کہ اگر وہ کسی دوسری قوم کو چھو کر بھی گزر جاتیں تو اس کے ظاہری و باطنی نظام کو درہم برہم کر کے رکھ دیتیں؛ مگر اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ جب کبھی بھی ملت اسلامیہ پر برے حالات نے گھیرا تنگ کیااور ناسازیٔ حالات کی تیز و تند آندھیوں نے اسلام کے وجود کو چیلنج کیا تو اللہ رب العزت نے ملت اسلامیہ کی پاسبانی کے لیے اپنے چیدہ اور چنیدہ بندوں کی ایسی جماعت کو میدان میں اتار دیا کہ جس نے ہر محاذ پر اور ہر میدان میں دین اسلام کے تشخص کی بقاء اور مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کے لیے عدیم النظیر خدمات انجام دیںاور ان کے ہاتھوں سے وجود میں آنے والے تعلیمی ادارے اور دینی مدارس آج بھی حفاظت دین کا کار عظیم انجام دے رہے ہیں۔
یہ بات تو ہر خاص و عام جانتا ہے کہ دارالعلوم محض ایک دینی ادارہ نہیں بلکہ بانی ٔ دارالعلوم حجۃ الاسلام الام محمد قاسم الناناتوی قدس سرہ العزیز کی ایک عالمگیر تحریک کا حصہ ہے، اس پہلو پر آگے بات کی جائے گی مگر یہاں یہ ذکر بھی بے محل نہیںہوگا کہ حضرت نانوتوی ملک کے پرآشوب حالات اور اسلام سے لوگوں کی دوری کو لے کر نہایت فکر مند تھے، اسی لیے انھوں نے تعلیمی تحریک چلائی تاکہ بڑے پیمانے پر ایسا انقلاب رونما ہو جو انقلاب تعلیمی ہو اور اس میں دینی بیداری کا رنگ شامل ہو۔
انیسویں صدی عیسوی میں جب ہندوستان مکمل طور سے مغربی طاقتوں کے خوفناک سایے میں آچکا تھا اور انگریز ہندوستان پر مکمل تسلط جما چکے تھے، یہ بات واضح طور پر کھل کر سامنے آچکی تھی کہ صرف مشرقی تہذیب و ثقافت میں نہیں بلکہ دینی و اسلامی علوم کو بھی ختم کردینے اور پوری قوم کو مسیحیت و عیسائیت کے رنگ میں رنگ دینے کے لیے ’’باطل طاقتیں‘‘ نہ صرف متحد ہو چکی ہیں بلکہ اس سمت میں عملی اقدامات شروع کردیئے گئے ہیں ، اسلامی اقدار اور دین شعور کو ذہنوں سے کھرچ پھینکنے کے ناپاک منصوبے تیار کئے جانے لگے ہیں اور اس مد میں غاصب حکومت اپنے بھر پور وسائل اور تدبیروں کے ساتھ ساتھ کافی سرمایہ اور جد و جہد صرف کرنے کے لیے سنجیدہ طور پر پر سرگرم نظر آنے لگی ہے۔
ایسے پر آشوب حالات میں کہ جب فتنۂ ارتداد اپنے پاؤں پھیلا رہا تھا اور اسلامی تہذیب و تمدن کو بے راہ روی اورلا دینیت کی اندھیری کوٹھری میں قید کرنے کی عملی کوششیں کی جاری تھیں، تو اس وقت کے زندہ دل اورفکر و الی اللہی کے حامل علماء نے اسلامی تشخص کی تھا، اور اسلامی تہذیب کی حفاظت کے لیے حجۃ الاسلام الامام محمد قاسم النانوتوی قدس سرہ العزیز کی قیادت میں چھوٹے سے قبصہ ’’دیوبند‘‘ میں ایک خالص دینی تعلیم کی درسگاہ کی داغ بیل ڈالی۔
حضرت نانوتوی اور ان کے رفقاء کے اس بروقت اقدام، اور ان کی دینی حمیت کے حوالے سے مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کا یہ اقتباس دیکھئے:
’’انہوں نے اس کی فکر شروع کی کہ دینی جذبہ، اسلامی روح، اسلامی زندگی کے مظاہر اور تہذیب اسلامی کے جتنے بچے کھچے آثار باقی رہ گئے ہیں ان کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی جائے اور اسلامی تہذیب اور ثقافت کے لیے قلعہ بندیاں کرلی جائیں اور پھر ان قلعوں میں (جن کو عربی مدارس کے نام سے موسوم کیا گیا ہے) مبلغ اور داعی تیار کئے جائیں‘‘ (مسلم ممالک اور مغربیت کی کشمکش: ۸۸)
حضرت مولانا ابوالحسن ندوی نے مزید لکھا کہ:
’’اس عظیم اصلاحی اور تعلیمی تحریک کے (جس کا آغاز ۱۲۸۳ھ مطابق ۱۸۶۶ء میںہوا) سر براہ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی بانی دارالعلوم دیوبند تھے‘‘۔
اب غور طلب امر یہ ہے کہ بانی ٔ دارالعلوم نے اس دور میں جو نصاب تعلیم منتخب کیا تھا وہ کیا تھا؟ حضرت نانوتوی اور ان کے رفقاء کہ جو نہ صرف یہ کہ خانوادہ والی اللہی سے نسبت رکھتے تھے بلکہ وہ دہلی کالج کے بھی تعلیم یافتہ تھے، معقولات سے گہری مناسبت اور ذوق انھیں علمائے خیر آباد سے حاصل ہوا تھا اس کے ساتھ ان میں سے بعض حضرات کو سرکاری اداروں میں تدریس کا بھی تجربہ تھا، لہٰذا انھوں نے اپنے مدرسہ کے لیے جو نصاب تعلیم مرتب کیا اس میں مذکورہ تمام نسبتوں اور علم کے چشموں سے استفادہ کا خیال رکھا۔
حضرت نانوتوی کے منتخب کردہ نصاب تعلیم کی جامعیت اور معنویت کا صحیح طور پر اندازہ کرنے کے لیے قیام دارالعلوم سے قبل ہندوستان کے مراکز علم کے تعلیمی نظاموں کا سرسری جائزہ لینا ناگزیر ہے۔آئیے تیرہویں صدی ھجری کے نصاب تعلیم پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
یہ وہ زمانہ تھا کہ جب تمام علوم عقلیہ و نقلیہ کی تعلیم ہندوستان میں باضابطہ دی جارہی تھی مگر اس وقت جو تعلیمی مراکز تھے ان میں کسی خاص علم کو ہی بنیادی طور پر سامنے رکھا جاتا تھا اور ہر تعلیمی مرکز کسی ایک علم پر ہی اپنی کامل توجہ اور بھر پور ترکیز رکھتا تھا۔
ہندوستان میں اسلامی علوم کی تعلیم و تدریس اور ترویج و اشاعت میں تین شہروں کو مرکزی حیثیت حاصل تھی، دہلی، لکھنؤ اور خیرآباد، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے خانوادے نے اپنی علمی خدمات کو تفسیر و حدیث تک محدود کر لیا تھا، کتاب و سنت کو ہی انھوں نے اپنا مجال عمل متعین کر لیا تھا، ان کے یہاں دیگر علوم کی حیثیت صرف ثانوی درجہ کی تھی۔
لکھنؤ کے علمی کارنامے فقہ اور اصول فقہ کے گھیرے میں قید تھے، فرنگی محل کی علمی فضا میں خالص فقہ کا رنگ غالب تھا، علمائے فرنگی محل ماواراء النہر کے ساتویں صدی والے قدیم طرز سے علحیدگی کو نہ صرف ممنوع سمجھتے تھے بلکہ اپنے محدود دائرۂ عمل سے ایک قدم بھی باہر آنے پر قطعی طور پر آمادہ نہیں تھے، یہ تسلیم کہ علمائے فرنگی محل نے اپنے میدان میں عدیم النظیر خدمات پیش کیں مگر یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ دیگر علوم کی جانب جو توجہ ہونی چاہیے تھی نہ ہو سکی، تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے یہاں تفسیر میں جلالیں اور بیضاوی کی تدریس کو تفسیر سے مناسبت کے لیے کافی سمجھا جاتا تھا، اور حدیث میں مشکاۃ المصابیح کے علاوہ اور کچھ داخل نہیں تھا۔
علوم اسلامیہ کے تینوں عظیم مراکز اپنے اپنے میدان میں اپنی منفرد حیثیت رکھتے تھے وہ اپنے دائرۂ کار میںاپنی مثال آپ تھے مگر زمانہ برق رفتاری سے آگے بڑھ رہا تھا، علوم اسلامیہ کی تحصیل کے لیے طویل اسفار کرنا، مشقتیں برداشت کرنا اور طلب علم کے لیے دردر کی خاک چھاننے کا جذبہ کم ہوتا دکھائی دے رہا تھا، حصول علم کے سخت ترین مراحل طے کرنے اور اس کی دشوار گزار راہوں پر چلنے سے ہمتیں جواب دینے لگی تھیں، دوسری طرف مالی اخراجات اور دیگرزندگی کے ظروف زیادہ وقت تعلیم میں صرف کرنے کی اجازت نہیں دے رہے تھے اور ایک ایسی درسگاہ کے قیام کا شدت سے انتظار کر رہے تھے، جو تمام علوم پر یکساں توجہ اور یکساں اہمیت دیتے ہوئے علوم اسلامیہ کے تینوں اہم مراکز کی خصوصیات کو نہ صرف جامع ہو بلکہ ان تینوں مراکز کے مناہج کا ایک حسین امتزاج ہو، جس کے نصاب تعلیم میں تینوں مراکز کے علوم کو یکساں مقام حاصل ہو، تاکہ طالبان علوم نبویہ کو کم از کم وقت میں زیادہ سے زیادہ استفادہ کا موقع فراہم ہو، اور تمام ہی علوم پر یکساں عبور حاصل ہو نیز تعلیم، رہائش اور دیگر اخراجات کے تکفل کی بھی کوئی سبیل نکلے کہ جس سے طالب علم مکمل یکسوئی کے ساتھ طلب علم میں مشغول رہ سکے۔
پھر حضرت حجۃ الاسلام الامام محمد قاسم الناناتوی قدس سرہ العزیز کے مبارک ہاتھوں دارالعلوم دیوبند کا قیام ہوا جس سے کہ امت مسلمہ ہند کی ایک دیرینہ آرزو کی تکمیل ہوئی، دارالعلوم دیوبند نے دیگر مراکز علم کی طرح کسی خاص علم اور خاص فن کو مرکز نگاہ نہیں بنایا بلکہ وقت کے رائج مراکز علوم کے نصابوں کو سامنے رکھ کر ایک ایسا نصاب تعلیم تشکیل دیاجو ایک طرف دہلی لکھنؤ اورخیرآباد کی خصوصیات کو جامع تھا دوسری طرف وقت کے تقاضوں اور چیلنجز سے بھی ہم آہنگ تھا۔
دارالعلوم دیوبند کے ابتدائی نصاب تعلیم میں جہاں عربی، فارسی اور اسلامی علوم (قرآن، حدیث اور فقہ وغیرہ) کو بڑی اہمیت کے ساتھ شامل کیا گیا وہیں ریاضی (Mathematics) ہندسہ (Geometry) علم ہیئت (Astronomy) بھی شامل نصاب تھے۔
بانیٔ دارالعلوم حجۃ الاسلام الامام محمد قاسم النانوتویؒ نے ۱۲۹۰ھ مطابق ۱۸۷۴ء میں دارالعلوم کے سالانہ اجلاس میں ان مدارس کے نظام اور مقاصد پر ایک انتہائی اہم تقریر کی تھی، تقریر کے درج ذیل اقتباس پر غور کیجئے:
’’ان مدارس میں علاوہ تعلیم مذہبی، غرض اعظم قوتِ استعداد ہے، فقط علوم دینی پر اکتفاء نہیں، بلکہ فنون دانشمندی کی تکمیل بھی حسب قاعدہ ساتھ کی گئی ہے، جس کا عمدہ نتیجہ پہلے زمانوں میں یہ ہوا تھا کہ بڑے بڑے عالم، بڑی بڑی استعداد و قوت کے اہل اسلام میں بکثرت پیدا ہوئے‘‘۔
یقینا قارئین کے ذہن میں اس اقتباس کو پڑھ کر یہ سوال پیدا ہوگا فنون دانشمندی سے حضرت نانوتویؒ کی مراد کیا ہے؟ تو اس کا جواب بھی خود حضرت نانوتوی کی زبانی ملاحظہ فرمائیں، اس تقریر کے دوران انھوں نے فرمایا:
’’معقولات سے صرف منطق و فلسفہ مقصود نہیں بلکہ اس میں ہیئت، حساب، فلکیات ریاضی اور الہیات بھی شامل ہیں‘‘۔
گویا کہ حضرت نانوتوی کے قول کے مطابق وہ علوم جو معقولات کا حصہ ہیں اور اس زمانہ میں دارالعلوم میں شامل نصاب تھے، وہ یہ تھے:
حساب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ Mathematics
ریاضی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ Arithmatics
ہیئت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ Astronomy
فلکیات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔Cosmology
الہیات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ Metaphysics
دارالعلوم دیوبند کی قدیم روئدادوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت الجبرا (Algebra)، مساحت اور اقلیدس بھی داخل نصاب تھے، ماہرین تعلیم کو غور کرنا چاہیے کہ حضرت نانوتوی مذکورہ فنون کو ’’قوت استعداد‘‘ پیدا کرنے کا ذریعہ اور ’’فنون دانشمندی‘‘ سے تعبیر کر رہے ہیں۔
اس سے بخوبی یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت نانوتوی محض ایک عالم دین نہیں تھے بلکہ وہ ایک عظیم ماہر تعلیم بھی تھے، ان کی نظر ان علوم پر بھی گہری تھی کہ جو عقل کو تیز اور قوت تدبر میں اضافے کا سبب بنتے ہیں، اور انہیں اس بات کا بخوبی اندازہ تھا کہ علوم نقلیہ کے ساتھ ساتھ ان علوم کی تعلیم عمدہ نتائج بر آمد کرے گی، لہٰذا انہوں نے اس قسم کے کئی علوم و فنون اسلامی علوم کے ساتھ شامل نصاب کئے تھے۔
صرف اتنا ہی نہیں اس زمانے میں میڈیکل سائنس کے لیے طب یونانی کا رواج تھا، دارالعلوم میںابتدائی ہی میں طب یونانی کی تعلیم شروع ہوگئی تھی، لیکن ذمہ داران مدرسہ اس سے مطمئن نہیں تھے، وہ چاہتے تھے کہ طب یونانی کی باضابطہ فاضلانہ تعلیم ہو، جس کا باقاعدہ انتظام ۱۲۹۵ھ مطابق میں ہوا، جس کا اعلان روداد ۱۲۹۵ھ میںان لفظوں میں شائع ہوا تھا:
’’کیفیات سنین ماضیہ سے جملہ خیر خواہان مدرسہ کو واضح ہوا ہے کہ کتنے طلبہ اس مدرسہ سے علوم عربیہ میں عالم و فاضل ہوئے اورآئندہ کو ان شاء اللہ ہونے والے ہیں؟ مگر ارباب مشاورت مدرسہ ہذا نے جب فکر کامل دیگر فوائد رفاہ عام برادران اہل اسلام پر کیا تو ابھی تک ایک امر کثیر المنافع یعنی ترویج و تکمیل علم و طب یونانی کی کمی ہے، اور اس کی درستگی و تکمیل ضروریات بلکہ واجبات میں سے ہے، کیوں کہ اس سے فائدہ عام ہے‘‘۔
دارالعلوم دیوبند کی روئداد سے ماخوذ مذکورہ اقتباس کو غور سے پڑھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دارالعلوم دیوبند کے ذمہ داران کویہ معلوم تھا کہ دارالعلوم کا جو نصاب تعلیم ہے اس سے ایک بہتر کھیپ تیار ہوئی ہے اور دارالعلوم آئندہ بھی اپنے جامع اور مفید نصاب تعلیم سے بہترین رجال علم تیار کرتا رہے گا، انہیں معلوم تھا کہ دارالعلوم کی تعلیمی سرگرمیوں سے عام و خاص مطمئن ہیں اورادارہ کے خیر خواہان ادارہ کی کار کردگی سے کلی اطمینان رکھتے ہیں مگر اس کے باوجود بھی ادارہ کے ذمہ داران کو یہ احساس ہے کہ مذکورہ تمام علوم کو شامل نصاب کرنے کے باوجود بھی ایک کمی کا ازالہ اب تک نہیں ہو سکا ہے، اور وہ کمی یہ تھی کہ کچھ علوم میں دارالعلوم کے فضلاء نمائندگی نہیں کر پا رہے ہیں ان علوم میں سے ایک فن طب ہے، مذکورہ بالا اقتباس کی روشنی میں یہ مکمل طور سے واضح ہوگیا ہے کہ اس وقت دارالعلوم کے ذمہ داران اس فکر میں تھے کہ فضلائے دارالعلوم زیادہ وسیع دائرہ میں معاشرہ کی خدمت انجام دے سکیں، اس ضرورت کو و ہ کتنی اہمیت سے دیکھ رہے تھے اس کا اندازہ ان کے اس خیال سے ہوتا ہے کہ فن طب کی اعلی تعلیم کا انتظام بھی واجبات میں سے ہے۔
۱۳۹۶ھ کی روداد کے مطابق اس تعلق سے ذمہ داران کے منصوبوں کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بشرط فراہمی سرمایہ سرجری اور دوا سازی (Surgery And Pharmaology) کی تعلیم کا بھی پروگرام تھا۔
جان پا مرنے اپنی شناخت کو مخفی رکھتے ہوئے دارالعلوم کی تعلیمی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے بعد جو تاثرات رقم کئے ان کا ایک نمونہ پیش خدمت ہے:
’’ایک جگہ ایک صاحب مایہ قد، نہایت خوب صورت بیٹھے ہوئے تھے، سامنے بڑی عمر سے طلبہ کی ایک لمبی قطار تھی، قریب پہنچ کر سنا تو علم مثلث کی بحث ہو رہی تھی، میراخیال تھا کہ مجھے اجنبی سمجھ کر یہ لوگ چونکیں گے مگر کسی نے مطلق توجہ نہ کی ، میں قریب جا کربیٹھ گیا اور استاذ کی تقریر سننے لگا، میری حیرت کی کوئی انتہاء نہ رہی جب میں نے دیکھا کہ علم مثلث کے ایسے ایسے عجیب اور مشکل قاعدے بیان ہو رہے تھے جو میں نے کبھی ڈاکٹر اسپرنگر سے بھی نہیں سنے تھے، یہاں سے اٹھ کر دوسرے دالان میں آگیا تو دیکھا کہ ایک مولوی صاحب کے سامنے طالب علم معمولی کپڑے پہنے ہوئے بیٹھے ہیں، یہاں اقلیدس کے چھٹے مقالے کی دوسری شکل کے اختلافات بیان ہو رہے تھے اور مولوی صاحب اس بر جستگی سے بیان کر رہے تھے ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ گویا اقلیدس کی روح ان میں آگئی ہے‘‘۔
مذکورہ واقعہ پر معروف محقق مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی دامت برکاتہم کے تأثرات کا ذکر یہاں بے محل نہیں ہوگا:
’’یہ رائے اس شخص کی ہے جو مغربی فنون و معقولات کا پتلا اورڈاکٹر اسپر نگر جیسے ماہرین فن کا تربیت یافتہ تھا، کاش! اگر ہمارے یہاں یہ روایت اور ان فنون کے ایسے استادوں کا تسلسل باقی رہتا تو منقولات اور معقولات کے تمام مباحث اور مضامین ساتھ ساتھ چلتے اور یوں یہ مدارس نہ صرف علماء اور مسلمانوں بلکہ پوری دنیا کے ماہرین فن کی تمناؤں اور تعلیم کا مرکز ہوتے، اور کسی کو ایک دوسرے سے ’’من دیگرم تو دیگری‘‘ ’’کہنے کی ضرورت باقی نہ رہتی‘‘۔
یہاں یہ بات اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اس دور میں دارالعلوم کا معیار تعلیم نقطۂ عروج کو پہنچ چکا تھا، مختلف فنون کے متخصصین موجود تھے، منقولات کے ساتھ ساتھ معقولات کے ماہرین کی خدمات دارالعلوم کو حاصل تھیں، اور دارالعلوم کے ٹھوس نظام تعلیم پر اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ ایک اجنبی انگریز جو اپنے فن میں حد درجہ مہارت رکھتا تھا دارالعلوم کے معیار درس و تدریس کو دیکھ کر خود کو کمتر محسوس کرنے لگا۔
مشہور مصری عالم دین صاحب منار علامہ رشید رضا مصری دیوبند میں قیام کے دوران دارالعلوم میں منعقد ایک تقریب میں تقریر کرتے ہوئے اس طرح گویا ہوئے:
’’ایک جماعت ہم میں ایسی بھی ہونی چاہئے جو ان شبہات کو رفع کرے، جو اسلام پر کئے جاتے ہیں، خصوصاً و شبہات جو موجودہ زمانے کے علوم و فنون کی بنیاد پر کئے جاتے ہیں مگر ایسے شبہات کا رفع کرنا بغیر فلسفۂ جدیدہ (سائنس) کی واقفیت کے ناممکن ہے، اس لیے یہ ضروری ہے کہ اس جماعت کے اشخاص فلسفۂ جدید کے اہم مسائل سے واقفیت رکھتے ہوں، مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ آپ نے اس سلسلے کو شروع کیا، اور جدید فلسفہ کی ایک ابتدائی کتاب ’’النقش کالحجر‘‘ کوکورس میں داخل کیا ہے، میرے نزدیک یہ کتاب ناکافی ہے، میں آپ کو ایسی کتابیں بتلاؤں گا جو اس سے زیادہ مفید ہوں گی‘‘۔
علامہ رشید رضا مصری کے اس اقتباس میں جہاں ذمہ داران دارالعلوم دبوبند سے اس بات پر اصرار کیا گیا ہے کہ دارالعلوم کے نصاب میں فلسفۂ جدیدہ کی تعلیم پر خاص توجہ دی جائے تاکہ اسلام پر کئے گئے شبہات کا ازالہ ہو سکے، وہیں ذمہ داران کے اس اقدام کے تحسین ہے کہ انھوں نے نصاب میں ’’النقش کالحجر‘‘ کو شامل کیا، ’’النقش کالحجر‘‘ کتاب کے مشمولات پر ایک نظر مناسب معلوم ہوتی ہے:
۱- مبادی عامہ فی الطبیعیات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ Elements of Physics
۲-الکیمیاء ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔Chemistry
۳-الطبیعیات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ Physics
۴-الجغرافیہ الطبیعیۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔Physical Geography
۵-الجیولوجیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ Geology
۶-الہیئۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ Astronomy
۷-علم النبات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ Botany
۸-اصول المنطق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ Principles of Logic
یہ بات گرہ سے باندھ لینے کی ہے کہ ارباب دارالعلوم دیوبند کے ذہن بہت ہی کشادہ تھے ان کے یہاں وسعت فکر کے ساتھ ساتھ وسعت نظر بھی تھی، وہ وقت کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے عصری ادوات کے استعمال میں قباحت محسوس نہیں کرتے تھے، وہ اسلاف کی روایات کو سر آنکھوں پر سجا کر رکھتے مگر جدید وسائل اورعلوم و فنون کی تعلیم کو روایات کی پامالی تصور نہیں کرتے تھے، ارباب دارالعلوم کی وسعت فکر پر اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہوگی کہ انھوں نے ایک ایسے امریکی مصنف کی کتاب کوشامل نصاب کرلیا کہ جو امریکن مشنریوںmissionaries کا عرب دنیا میں سب سے بڑا نمائندہ، بیروت کی امریکن یونیورسٹی کا بانی اور بائبل کا عربی مترجم تھا۔ دارالعلوم دیوبند کا معیار درس و تدریس کیا تھا؛ علمائے دیوبند کا ذوق و مزاج کیا تھا؟ وہ اپنی تعلیمی پالیسیوں میں کس حد تک صحیح تھے؟ ان سوالات کے جوابات مذکورہ باتوں سے تلاش کرنا آسان ہے، مگر اس سوال کا جواب دینا بہت مشکل ہے کہ وہ علوم و فنون جو اس دور میں شامل نصاب تھے اب کہاں گم ہوگئے؟ کیا ان کی افادیت ختم ہوگئی؟ یا اب وہ اساتذہ نہیں رہے جو ایسی اعلی استعداد کے حامل ہوں کہ ان دقیق علوم کو بہتر طور پر پڑھا سکیں؟
کچھ بھی ہو اتنا تو مسلم ہے کہ بہت سے ایسے علوم جن کو حاصل کرکے فضلائے دارالعلوم بہت سے میدانوں میں اپنی نمایاں شناخت قائم کرنے میں کامیاب ہو سکتے تھے وہ اب بآسانی دستیاب نہیں ہیں۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker