Baseerat Online News Portal

آپ کے شرعی مسائل

مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی

وضوء کے درمیان گفتگو کرنا
سوال:- ہم لوگ چند ساتھی بحمد اللہ نماز کے پابند ہیں اور مسجد جانے کا اہتمام کرتے ہیں ، اکثر ہم لوگ ایک ساتھ وضو کرتے ہیں اور درمیان میں بات چیت بھی کرتے جاتے ہیں ، ایک صاحب نے اس سے منع کیا ہے ، کیا ان کا منع کرنا درست ہے ؟ (سعید احمد ، ملے پلی)
جواب :- وضو کرنے کے لئے اگر مسجد کے اندر بیٹھیں اور کلی باہر کریں تو وضو کرنے والا مسجد کے اندر ہوتا ہے ، اور مسجد میں کسی بھی قسم کی دنیوی گفتگو کرنے سے منع فرمایا گیا ہے ، اور اگر مسجد سے باہر وضوء کررہے ہوں تب بھی وضو کے درمیان دنیا کی باتیں کرنا بہتر نہیں ؛ کیوںکہ وضو خود ایک عبادت بھی ہے اور نماز جیسی عبادت کا ذریعہ بھی ہے ؛ اس لئے اس کا ادب یہی ہے کہ اس دوران دنیوی باتوں سے احتراز کیا جائے : ’’واما الثالث وھو أنہ لا یتکلم إلا بخیر فلقولہ تعالیٰ : ’’ وقل لعبادی یقولوا التی ھی أحسن ‘‘ وھو بعمومہ یقتضی أن لا یتکلم خارج المسجد إلا بخیر فالمسجد أولی ، کذا فی غایۃ البیان ‘‘ ۔ ( البحر الرائق : ۲؍۵۳۱)
عمامہ کے بغیر امامت
سوال:- اگر عمامہ باندھے بغیر نماز پڑھائی جائے تو کیا اس سے نماز میں کراہت پیدا ہوجاتی ہے ؟ ایک امام صاحب عمامہ نہیں باندھتے ہیں ، عوام کا اصرار ہے کہ وہ عمامہ باندھ کر ہی نماز ادا کریں ، یہ بات کس حد تک درست ہے ؟ (محمد عبد الرحمن ، بی بی نگر)
جواب :- عمامہ ایک معزز لباس ہے ، رسول اللہ ا اور صحابہ عام طورپر عمامہ باندھا کرتے تھے اور مسلمانوں ہی میں نہیں ؛ بلکہ اسلام سے پہلے بھی عربوں میں بھی عام طورپر عمامہ کا رواج تھا ؛ اس لئے اگر کوئی شخص عمامہ باندھا کرتا ہو تو اسے عمامہ باندھ کر نماز ادا کرنی چاہئے ، اوراگر کوئی شخص اس کا عادی نہ ہو اور وہ صرف ٹوپی پہن کر نماز پڑھادے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے ، فقہاء نے لکھا ہے : ’’ لو صلی فی ثوب واحد متوشحا بہ تجوز صلا تہ من غیر کراھۃ‘‘ (الفتاویٰ الہندیہ : ۱؍۵۹ ، کتاب الصلاۃ ) اور جو چیز واجب نہ ہو اس کے لئے اصرار کرنا یا امام کو اس کے لئے پابند کرنا درست نہیں ہے ۔
البتہ ایک اہم اُصول یہ ہے کہ نماز کے وقت ایسا کپڑا پہننا چاہئے ، جو بہتر ہو اور وقار کے خلاف نہ سمجھا جاتا ہو ، جیسے کوئی شخص بنیائن اورلنگی پہن کر مسجد میں چلا جائے ، یا نماز پڑھ لے تو نماز تو ہوجائے گی ؛ لیکن یہ بات ادب کے خلاف ہوگی ؛ کیوںکہ اس قسم کا لباس پہن کر لوگ کسی مہذب محفل یا تقریب میں نہیں جاتے ؛ لہٰذا اگر کوئی شخص ایسی محفلوں میں عمامہ باندھ کر ہی جاتا ہے تو ادب کا تقاضا ہے کہ وہ عمامہ باندھ کر نماز پڑھے اور پڑھائے ، اور اگر کوئی شخص صرف ٹوپی پہن کر تقریبات میں اور اہم مجلسوں میں جایا کرتا ہو اور معاشرہ میں اس کو برا نہ سمجھا جاتا ہو تو اس کے لئے صرف ٹوپی میں نماز پڑھنا اور پڑھانا خلاف ادب نہیں ہے ؛ چنانچہ مشہور فقیہ حضرت مولانا عبد الحیٔ فرنگی محلیؒ نے صراحت کی ہے کہ صرف ٹوپی میں بھی نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے : ’’ لا یکرہ الاکتفاء بالقلنسوۃ ولا عبرۃ لما اشتھر بین العوام من کراھۃ ذلک‘‘ ۔ ( عمدۃ الرعایۃ علی ہامش شرح الوقایۃ : ۱؍۱۶۹)
کیا مکان کی ایک منزل کو فروخت کرکے حج کے لئے جانا واجب ہے ؟
سوال:- زید کے پاس نہ بینک بیلنس ہے نہ کیش ہے ؛ لیکن اس کے پاس دو منزلہ مکان ہے ، اگر وہ چاہے تو ایک منزل سے بھی گذارہاکرسکتا ہے تو کیا اس شخص کے لئے مکان کی دوسری منزل کو فروخت کرکے حج کرنا واجب ہوجائے گا ، جب کہ وہ اس دوسری منزل کو مہمانوں کو ٹھہرانے اور بیٹی داماد وغیرہ کے آنے جانے کے لئے رکھے ہوا ہے ؟ (عبد الشکور ، گوونڈی ، ممبئی)
جواب :- اگر وہ اوپر کی منزل کو فروخت کرکے حج کرلے تو یہ اس کے لئے بہتر اور باعث ِاجر و ثواب ہے ؛ لیکن ایسا کرنا ضروری نہیں ہے ؛ کیوںکہ یہ اس کی بنیادی ضروریات میں شامل ہے : ’’ ولو کان منزلہ کبیرا یمکنہٗ الاستغناء ببعضہ والحج بالفاضل ، لا یلزمہ بیع الفاضل ، نعم ھو الافضل‘‘ ۔ (غنیۃ الناسک : ۲۱ ، نیز دیکھئے : فتاویٰ قاضی خان : ۱؍۲۸۴)
اذان کے وقت قضائے حاجت
سوال:- اذان شروع ہوئی ؛ لیکن استنجاء کا تقاضا تھا ، اس لئے بیت الخلاء چلے گئے ، فارغ ہوکر وضو کیا اور مسجد گئے ، تو کیا خاص طورپر اذان کے وقت استنجاء کرنا درست ہوگا ؟ بعض لوگ اس سے منع کرتے ہیں ، براہ مہربانی وضاحت فرمائیں ؟ (افتخار احسن ، نام پلی)
جواب :- اذان کا ادب یہ ہے کہ اس وقت اذان سنی جائے اور اس کا جواب دیا جائے ، یہاں تک کہ اگر قرآن کریم کی تلاوت میں مشغول ہو ، تب بھی بہتر ہے کہ تلاوت روک کر اذان کا جواب دے ؛ چہ جائے کہ اس وقت کوئی دنیوی کام کیا جائے ؛ اس لئے بہتر ہے کہ اس وقت اگر دشواری نہ ہو تو قضاء حاجت کو مؤخر کردے ، اذان کو سنے ، اس کا جواب دے اور اس کے بعد استنجاء کرے ، ہاں ، اگر تقاضا شدید ہو تو فوری استنجاء کرلینے میں بھی حرج نہیں : ’’ ولا ینبغی أن یتکلم السامع فی خلال الأذان والأقامۃ ولا یشتغل بقرأۃ القرآن ولا بشیٔ من الاعمال سوی الإجابۃ ولوکان فی القراء ۃ ینبغی أن یقطع ویشتغل بالأستماع والا جابۃ ‘‘ ۔ (الفتاویٰ الہندیہ : ۱؍۵۷)
ناپاک پینٹ پہن کر مسجد میں داخل ہونا
سوال:- نوجوان حضرات جو جینس پینٹ استعمال کرتے ہیں ، عموماً استنجا کرتے وقت اس میں پیشاب کے قطرات ٹپک جاتے ہیں اور بار بار اس کی نوبت آنے کی وجہ سے ناپاکی پھیل جاتی ہے ، اگر کوئی اسی پینٹ کو پہنے ہوئے مسجد میں داخل ہو اور وہاں تھوڑی دیر لیٹ جائے تو کیا اس کا ایسا کرنا درست ہوگا ؟ (سید قادر حسین ، مشیرآباد)
جواب :- اگر کوئی شخص معذور ہو اور ایسے تسلسل کے ساتھ نجاست نکل رہی ہو کہ اس کے لئے اس سے بچنا ممکن نہ ہو تو وہ اس نجاست کے ساتھ بھی مسجد میں داخل ہوسکتا ہے ؛ کیوںکہ معذور کے لئے خصوصی رعایت ہے : ’’ ومما یستنبط منہ : جواز اعتکاف المستحاضہ … وأن دم الاستحاضۃ رقیق لیس کدم الحیض ویلحق بالمستحاضۃ ما فی معناھا کمن بہ سلسل البول والمذی والودی ومن بہ جرح یسیل فی جواز الاعتکاف ‘‘ ۔ ( عمدۃ القاری : ۳؍۱۳۰ ، کتاب الحیض )
جو شخص معذور نہ ہو اس کے لئے ناپاک چیز کو مسجد میں لے کر جانا جائز نہیں ہے ؛ اگر مسجد کے گندگی سے آلودہ ہوجانے کا اندیشہ ہو : ’’وإدخال نجاسۃ فیہ یخاف منھا التلویث ، ومفادہ الجواز لو جافۃ ‘‘ (ردالمحتار :۱؍۶۵۶) اور اگر مسجد کی آلودگی کا اندیشہ نہ ہو تب بھی کراہت سے خالی نہیں ؛ کیوںکہ یہ مسجد کے ادب کے خلاف ہے ؛ اسی لئے بعض فقہاء نے مطلقاً ایسے شخص کے مسجد میں داخل ہونے سے منع کیا ہے ، جس کے جسم پر نجاست ہو : ’’ ولا یدخل المسجد من علی بدنہ نجاسۃ ‘‘ ۔ (رالمحتار : ۱؍۶۵۶)
اس تفصیل سے جوبات واضح ہوتی ہے ، وہ یہ ہے کہ اولا تو ایسے پینٹ پہننے نہیں چاہئیں ، اس میں کپڑا ناپاک بھی ہوتا ہے اور بعض اوقات بے ستری بھی ہوتی ہے اور اگر پہن ہی لیا ہو تو چوںکہ عام طورپر پینٹ پہننے والے اندر انڈرویئر کا استعمال کرتے ہیں ، تو اس کو اُتار کر مسجد میں جانا چاہئے ؛ کیوںکہ پیشاب کے قطرات اسی میں جذب ہوتے ہیں ، اس کے بغیر مسجد میں جانا درست نہیں ہے ۔
ٹیوب لائٹ پر آیات قرآنی کو چسپاں کرنا
سوال:- بعض مسجدوں میں مساجد کی ٹیوب لائٹ پر قرآن مجید کی آیات چسپاں کردی جاتی ہیں ، جس سے آیت بہت روشن طریقہ پر لوگوں کے سامنے ہوتی ہے اور پڑھنے میں آسانی ہوتی ہے ، کیا ایسا کرنا درست ہے ؛ تاکہ لوگ قرآنی آیات اور نصیحت آمیز کلمات کو پڑھ سکیں اور اس سے فائدہ اُٹھاسکیں ؟ (محمد فیض الدین ، گولکنڈہ)
جواب :- قرآن مجید کا مقصد ہدایت اور اصلاح ہے نہ کہ تزیین و آراستگی ؛ اس لئے اگر اصلاح کی نیت سے قرآنی آیت ٹیوب لائٹ پر چپکائی جائے ، اس ٹیوب لائٹ پر پرندوں کے بیٹھنے یا اس کی بیٹ گرنے کا اندیشہ نہ ہو اور آیات کا اسٹیکر ایسا ہو کہ ٹیوب لائٹ کے خراب ہوجانے کی صورت میں اس کو نکال دینا ممکن ہو تو آیات کا اسٹیکر اس پر چپکایا جاسکتا ہے ؛ البتہ اس کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ ٹیوب لائٹ خراب ہوجانے کے بعد ٹیوب لائٹ کے ساتھ ساتھ آیات کے اسٹیکر کو بھی کچرے میں نہ ڈال دیا جائے کہ یہ قرآن مجید کی بے احترامی اور سخت گناہ ہے ۔
(بصیرت فیچرس)

You might also like