مضامین ومقالات

بہارالیکشن:مسلمانوں کومثبت حکمت عملی کی دعوت دے رہاہے

بہارالیکشن:مسلمانوں کومثبت حکمت عملی کی دعوت دے رہاہے
اویسی برادران مثبت فکروعمل کامظاہرہ کریں
٭سمیع احمدقریشی،ممبئی 9323986725
آج کی دنیامیں طرز جمہوریت کوحکومت،ریاست چلانے کیلئے انتہائی اہمیت کاحامل ماناجاتاہے۔یہ مغرب کی دین ہے۔حکومت کے نمائندوں کومنتخب کرنے کیلئے براہ راست عوام الیکشن میں حصہ لیکراپنے ووٹ سے ان کاانتخاب کرتے ہیں۔ہمارے ملک ہندستان میں جمہوریت قائم ہے۔دستوروآئین ہماراجمہوری ہے۔پارلیمنٹ اوراسمبلیوں کاانتخاب ہرپانچ سال میں ہوتاہے۔عنقریب بہارصوبہ کی ریاستی اسمبلی کاچناؤہے۔جس سے صوبہ بہارکی حکومت بنے گی۔پارلیمنٹ کاانتخاب ہوا،پہلی بارفرقہ پرست پارٹی بی جے پی (پُرانانام جن سنگھ) بڑی بھاری تعدادمیں کامیاب ہوئی۔اکیلے اپنے دم پرہندستان کی عنان حکومت سنبھال رہی ہے۔اس سے پہلے وہ دوسری پارٹیوں کی مددسے حکومت بنایاکرتی تھی۔جس کے بناء پربی جے پی کوحکومت چلانے کی مکمل آزادی نہ تھی۔دوسری پارٹیوں کاکنٹرول ہواکرتاتھا۔جس کی بناء پراس کے خطرناک عزائم بروئے کار،قانونی شکل میں نہ ہوپاتے تھے۔
دہلی میں یعنی مرکزمیں کامیابی کے بعدمہاراشٹرصوبے کے الیکشن میں بھی بی جے پی کواس قدرکامیابی ملی کہ وہ یہاں شیوسیناکی مددسے حکومت پرقابض ہے۔یہاں وزارت اعلی بی جے پی کے ہاتھوں میں ہے۔بی جے پی راشٹریہ سیوم سنگھ یعنی آرایس ایس کی پروردہ ہے گویااس کی ایک ذیلی شاخ ہے۔بی جے پی کاساراکام کاج آرایس ایس کے اشاروں پرہوتاہے۔ایک مکھی بھی اس کے اشارے کی بناء یہاں پرمارنہیں سکتی۔آرایس ایس ملک کیلئے انتہائی خطرناک ہے۔ایسے وقتوں میں جب بہاراسمبلی کاالیکشن عنقریب ہے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کوآرایس ایس کے نظریات اوراصولوں کوجانناضروری ہے،تاکہ وہ اپنے ووٹوں سے ایک معیاری حکومت کاانتخاب کریں۔آرایس ایس کاقیام۱۹۲۵؍کوناگپورمیں ہوا،اپنے روزقیام سے یہ مسلمانوں کے خلاف ہے۔اس کامقصدہی ملک کوہندوراشٹربناناہے۔ہندوہندی ہندوراشٹر،راشٹریہ سیوم سنگھ کاپُرانانعرہ ہے۔کسی بھی جماعت،تنظیم،ادارے کواچھی طرح سمجھنے کیلئے اس کے بانیان،لیڈران کی تقاریر،تحریریں پڑھناسمجھناضروری ہے۔ہیگڈیوار،گوالکر،ساورکر،آرایس ایس کے اہم لیڈران میں شمارہوتے ہیں یہاں اختصارکے ساتھ صرف گوالکرکی بات کرتے ہیں۔’’ہندستان میں بیرون نسلوں کولازمی طورپریاتوہندوکلچراورزبان کواختیارکرلینی چاہئے،ہندودھرم کی تعظیم اوراس کااحترام سیکھ لیناچاہئے۔ہندونسل اورکلچریعنی ہندوراشٹرکے نظریہ کے علاوہ کسی اورپرفخرنہیں کرناچاہئے۔اپنی علیحدہ شناخت کوترک کرکے ہندونسل میں شامل ہوجاناچاہئے۔بصورت دیگرانہیں اس ملک میں پوری طرح ہندوراشٹرکے ماتحت رہناچاہئے۔جس میں وہ کسی قسم کادعوی نہیں کریں۔کسی ترجیحی سلوک توالگ سے کسی رعایت کے بھی مستحق نہ ہونگے۔یہاں تک کہ وہ حقوق شہریت کے بھی حقدارنہ ہوںگے‘‘(صفحہ نمبر۴۷،۴۸؍We or our National Hood Defined) یہ ہے آرایس ایس کے اہم لیڈرگوالکرکے خیالات۔بیرونی نسل سے مرادمسلمان اورعیسائی ہیں انہیں کسی طرح ہندوراشٹرمیں رہنے کی تلقین کی جارہی ہے۔کسی بھی فرقہ وارانہ تنظیم کیلئے جس کاکام مذہبی اقلیتوں کی تطہیراوربھارت کی جمہوری اورسیکولرحیثیت کوختم کرناہو،اپنی نظریاتی بنیادوں اورعملی کاموں میں غیررواداراورانتہاپسندہوناضروری ہے۔آرایس ایس اس اصول سے مستثنیٰ نہیں ہے۔آرایس ایس اوراس کے ری کارڈاوردستاویزوں کامطالعہ اس حقیقت کوصاف کردیتاہے کہ اس سے وابستہ افراداورتنظیموں کی دہشت گردانہ سرگرمیاں اسی نظریاتی ڈھانچہ کانتیجہ ہیں جواس کے ذمہ داروں نے تیارکئے ہیں۔ملک کی آزادی کے بعدسے آج تک کس قدرفرقہ وارانہ فسادات ہوئے بلاشبہ اقلیتوں،مسلمانوں کابڑے پیمانے پرجانی ومالی نقصان ہوا۔فسادات کے بعدبٹھائے گئے سرکاری کمیشنوں نے فسادات میں فرقہ وارانہ تنظیموں کے ملوث ہونے کی بات کہی،جوآرایس ایس کے نظریات کومانتی رہیں۔آرایس ایس کاجمہوریت اوردستورمیں کوئی یقین نہیں۔اس نے متواترکئی سالوں سے انتہائی مشقت کے ساتھ ملک کے متعددطبقات میں گھس پیٹھ کی ہے۔سرکاری اعلی افسران ،اساتذہ،طلباء کے ساتھ ساتھ کسانوں،دلتوں،پچھڑے طبقات اورخواتین میں اثربڑھایاہے۔آج مرکزمیں آرایس ایس کی بھگوابرداربی جے پی کی سرکارہے۔ایک سال قبل ہمارے مہاراشٹرمیں بھی اس کی حکومت بن گئی ہے۔سیاں بھئے کوتوال توڈرکس بات کا،آج ان کے راج میں پورے ملک اورہمارے صوبہ مہاراشٹرمیں کیاہورہاہے۔مہاراشٹرمیں آتے ہی پہلے انہوں نے مسلمانوں کے لئے جاری ریزرویشن ختم کیا۔گاؤونش کے نام پربیل کے ذبیحہ پرپابندی عائدکردی۔تاکہ مسلمان معاشی طورپرپریشان ہوں۔کن کن باتوں کاذکرکیاجائے،آج بھگوابرداروں سے کس قدر مسلمانوں کوبے حدتکلیف ہے؎
ایک دوزخم نہیں ساراجگرہے چھلنی
درد بیچارا پریشاں ہے کہاں سے اُٹھے
دستورکے تعلق سے آرایس ایس کاکہناہے کہ اس میں ہندستان کی اصلی تہذیب نہیں ہے مغربیت ہے۔یہ دستورہندکوبدلنے کیلئے بے چین ہے۔یہ صرف مسلمانوں ہی کی دشمن نہیں ہے بلکہ سماج کے متعددطبقات کے مخالف ہونے کے باوجوداسے اقتدارمیں کیسے آیاجائے بخوبی معلوم ہے۔گھرگھرمودی،سب کووعدہ کرکے آج مرکزوصوبوں میں متعددجگہ آرایس ایس کی نورنظربی جے پی حکومت کررہی ہے۔گذشتہ پارلیمانی الیکشن میں صرف۳۱؍فیصدووٹ لیکروہ اقتدارمیں آگئی یعنی ۱۰؍میں سے ۳؍فیصدووٹ ملے ۔بہارکے ۱۷؍فیصدمسلمان اسمبلی الیکشن میں اہم رول اداکرسکتے ہیں۔اللہ کاشکرہے کہ نتیش کمار،لالویادوکیساتھ کانگریس مل کرالیکشن لڑرہے ہیں۔ورنہ سیکولرووٹوں کی تقسیم کاری کازبردست خطرہ ہوتا۔جس کے سبب بی جے پی اقتدارمیں آجاتی۔اس وقت مسلمانوں کوسیاسی اتحادواتفاق کی سخت ضرورت ہے۔اتحادباعث رحمت ہے۔اتحادکمزوروں کوطاقت عزت وجلابخشتاہے مسلمانوں نے جب بھی قدم سے قدم بڑھاکرچلے طوفانوں نے راہ دی؎
ایک ہوجائیں توبن سکتے ہیں خُورشید ومبیں
ورنہ بکھرے ہوئے تاروں سے کیابات بنیں
اتحادکی بناء پرزمانے کی بادصرصردورہوجائے گی۔ذات برادری ومسلک کے نام پرہمیں کہاں تک جاناہے،اسے سمجھناہے۔تمام باتوں کوبالائے طاق رکھتے ہوئے ایک دین،ایک اللہ،ایک رسولؐ،ایک قرآن کے ماننے والے کندھے سے کندھاملاکررحمت خداوندی کے طلبگاربنیں؎
ہم اپنی روش بدل کراگرہوں رواں دواں
خدائی نصرت بھی شامل ہوگی مٹے کایہ دورجابرانہ
ہمارااتحاد باعث رحمت ترقی باعث جلاہے۔نفرتوں،عداوتوں کے سوداگراسے اکثروبیشترمنظم سازشوں کے تحت ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ایسی سازشوں سے ہوشیاررہناہے ایک مثبت اورنمایاں سیاسی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ورنہ وقت کامورخ ہمیں معاف نہیں کریگا۔یقیناً مسلمان یہ دیکھ رہاہے کہ پوری دنیامیں مسلمانوں کے ساتھ کیا ہورہاہے۔ایک انتہائی عظیم گرداب میں مسلمان ہے۔جس کااصل سبب ہماری نااتفاقی ہی ہے۔جب سے بی جے پی کے مودی مرکزمیں ہیں جہاں جہاں صوبوں میں اسکی حکومت ہے ان کااصل نشانہ مسلمان ہیں۔
بہاراسمبلی کاالیکشن انتہائی اہمیت وافادیت کاحامل ہے۔مودی کی بی جے پی کوہراناضروری ہے۔اس وقت مودی راج میں مزدوروں،کسانوں،پچھڑوں،اقلیتوں کے ساتھ کیاکھلواڑہورہاہے۔اسی کے ساتھ ہمارے مہاراشٹرمیں عام انسانوں خصوصاً مسلمانوں کوکس قدرہزیمت کاسامناہے۔علمائے دین ،مسلم دانشوران،مسلم سیاسی وسماجی رہبران کوخاموش نہیں رہناچاہئے۔زعفرانی طاقت کواقتدارمیں آنے سے روکنے کی ضرورت ہے۔روپیہ پیسہ،دولت مال واولاد دنیاکی ہرشہ کامالک اللہ ہے۔اللہ نے ہم کوجوجوچیزیں عنایت کی ہیں اس کے استعمال کاراستہ بھی بتلایاہے۔اویسی برادران کی آج مسلمانوں میں مقبولیت ہے۔ان کے پاس بہترین اندازبیاں ہے۔مسلم کیاغیرمسلم بھی کسی بھی مسئلے پران کے استدلال پرغوروفکرکرتے ہیں۔ان سے التماس ہے کہ وہ بہارکے الیکشن میں ایک مثبت رول اداکریں۔ورنہ غریب عوام کیساتھ ساتھ مسلمانوں کے لئے ایک صدمہ عظیم ہوگا۔ماضی میں یہ ہوتاآیاہے؎
نقش گزرے ہوئے لمحوں کے ہے دل پرکیاکیا
مڑکے دیکھوں تونظرآتے ہیں منظرکیاکیا
آج یوم اعمال ہے کل یوم احتساب (قیامت) ہوگی۔تب ہمارے اعمالوں کی پوچھ تاچھ ہوگی۔اسے ہمیں آج یادرکھناہے۔
samiqureashi2747@gmail.com
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker