ہندوستان

شولا پور کے بے قصور نوجوانوں کی درخواست ضمانت پر بحث مکمل ، فیصلہ محفوظ

دفاعی وکلاء کے دلائل کے سامنے اے ٹی ایس لا جواب، ۳۰ ؍ مارچ کو فیصلہ کی امید
ممبئی ۔۹؍ مارچ ( پریس ریلیز )دہشت گردی کے الزام میں شولا پور سے گرفتار کئے گئے ۴؍ مسلم نو جوانوں کی ضمانت کی در خواست پر آج جبل پور ہائی کورٹ میں بحث مکمل ہو گئی اور عدالت نے اپنا فیصلہ ۳۰؍ مارچ تک کے لئے محفوظ کر لیا ہے ۔ یہ اطلاع آج یہاں جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے لیگل سیل کے سکریٹری ایڈوکیٹ تہور خان پٹھان نے دی ہے ۔ وہ فی الوقت جبل پور میں مو جود ہیں جہاں انہوں نے عدالت میں حا ضر ہو کر در خواست ضمانت پربحث کی ۔
واضح رہے کہ اس معاملے میں پانچ مسلم نو جوان شولا پور سے ماخود کئے گئے تھے جن میں سے ایک نو جوان خالد مچھالے کوچند ماہ قبل بھو پال سے قریب ایک انکائونٹر میںمار ڈالا گیا تھا بقیہ ۴؍ نو جوانوں کی در خواست ضمانت پر بحث کر تے ہوئے دفاعی وکیل ایڈوکیٹ تہور خان پٹھان نے مدھیہ پر دیش اے ٹی ایس کی دھاندلی کو عدالت کے رو برو پیش کیاجس پر اے ٹی ایس کی جا نب سے کوئی جواب نہ بن پڑا عدالت نے در خواست ضمانت پر بحث کو مکمل قرار دیتے ہوئے اپنا فیصلہ ۳۰ ماچ تک کے لئے محفوظ کر لیا ہے ۔
یہاں یہ بات واضح رہے کہ ان ملز مین کی جا نب سے ایک سال قبل درخواست ضمانت عدالت میں داخل کر دی گئی تھی جس پر سماعت تعطل کا شکار ہوتی رہی اس بارے میں کئی بار فیصلے محفوظ کئے گئے اورجج حضرات کے تبادلے ہوتے رہے ۔ آج تقریبا ۲؍ گھنٹے تک جاری سماعت میں دفاعی وکیل نے عدالت کے رو برو مذکورہ مسلم نو جوانو ں کو ضمانت پر رہا نہ کئے جانے اور اے ٹی ایس کے رویہ پر کہا کہ جب ان نوجوانوں کے خلاف اے ٹی ایس کوئی خاطر خواہ ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی ہے تو کیا وجہ ہے کہ ان کو ابھی تک جیلوں میں بند رکھا گیا ہے اور کوئی فیصلہ نہیں کیا جا رہا ہے اس معاملہ کو آٹھ مہینہ سے ملتوی رکھا گیا ہے اس در میان کئی دفعہ فیصلہ محفوظ کیا گیا ، جج حضرات کاتبادلہ ہوا اور اے ٹی ایس تاریخ پر تاریخ بڑھاتی جا رہی ہے ۔ آخر عدالت اس معاملے میں سنجیدگی سے کب غور کرے گی ؟۔ با لا آخر عدالت نے دفاع کے بحث سے اتفاق کر ہوئے اس در خواست ضمانت پر بحث کو مکمل قرار دیا اور ۳۰ مارچ تک اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے مو جودہ در خواست ضمانت کئیاہم قانونی نکات پر مبنی ہے اور اس پر فیصلہ ہو نے سے مدھیہ اے ٹی ایس کی جا نب سے اختیار کئے گئے غیر قانونی طریقہ کار اور ہتھکنڈے اجاگر ہونے کی امید کی جا رہی ہے ۔
جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے کہا کہ کہ شولا پور کے ان مسلم نو جوانوں کی درخواست ضمانت پر ایک سال سے کوئی فیصلہ نہیں ہو پارہا ہے حکومت اور تفتیشی ایجنسیوں کی جا نب سے عدات میں ایسا موقف اختیار کیا جاتا رہا کہ در خواست ضمانت پر بحث مکمل ہی نہیں ہو پارہی تھی با لآخر ہمارے وکلاء نے عدالت میں قانونی وو اقعاتی شواہد کی بنیاد پر عدالت کے برو اپنا موقف پیش کرنے میں کا میاب ہو گئے ہمیں امید ہے کہ ۳۰؍ ماررچ کو فیصلہ ہمارے حق میں آئے گا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker