مضامین ومقالات

یہ زلزلے یہ طوفاں کیوں؟

گناہوں کے سمندرمیںسفینہ پارتوبہ سے
سمیع اللہ ملک
بہت خراب ہیں ،بہت زیادہ خراب ہیں حالات۔ ہر پل نیا حادثہ نیا واقعہ۔ بندہ بشر اپنی وقعت کھو بیٹھا ہے، تکریمِ انسانیت دم توڑ گئی ہے، اعتبار ختم ہوگیا ہے۔ حد ہے انسان انسان سے خوفزدہ ہے، بے کل ہے ،بے چین ہے، کوئی جائے اماں نہیں ،سائباں نہیں، اپنی اپنی ڈفلی اور اپنا اپنا راگ ہے۔ مفاد عزیز ہے ،سب کا نہیں بس اپنا۔ نفسانفسی ہے، قیامت کا منظر ہے،نجانے اور کسے کہتے ہیں قیامت!چلئے کوئی نہ سہی قیامت ِ صغری تو ہر لمحہ برپا ہے ناں۔ کہیں بم برستے ہیں، کہیں انسانی بم پھٹتے ہیں، کہیں ڈرون حملے ہوتے ہیں کہیں چھینا جھپٹی ہے ،معمولی سی چیز پر قتل و غارت گری ہے ،نقل مکانی ہے ،ہنستے بستے گھر اجڑ رہے ہیں اور کیمپ آباد ہورہے ہیں۔ شہر اجڑ رہے اور شہر ِخموشاں میں بدل رہے ہیں۔ کوئی پرسانِ حال نہیں ہے۔ اب توناگہانی زلزلوں کارخ بھی ہماری آبادیوں کی طرف ہوگیاہے، بہت ابتر ہیں حالات۔ رونا ہے، آہیں ہیں، سسکیاں ہیں، نالے ہیں۔ کوئی نہیں ہے اپنا، بیگانے بن گئے سب۔ کیوں ہوا ،ایسا کبھی سوچا ہم نے؟ ہم نے کہاں ٹھوکرکھائی؟کیاہمارے اعمال کی وجہ سے ایساہورہاہے؟جان پربنی ہوئی ہے،اس عذاب سے نکلنے کاکوئی راستہ بھی ہے کہ نہیں؟
سوچ لیں گھڑی دو گھڑی۔ آپ کیا سوچتے ہیں میں کیا جانوں لیکن میں ٹی وی چینلز پر بڑے بڑے دانشوروں کو دیکھتا ہوں،وہ نجانے کیا کیا کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔اس نے یہ کردیا ،ہم نے تو یوں کیا تھا، اب ایسا کرلو، وہ ہیں ذمہ دار، فلاں نے بیج بویا تھا.۔۔۔۔۔۔پھر تلخ کلامی، الزامات، یہ جا وہ جا۔اس بات پربحث جاری ہے کہ فلاں علاقے میں ابھی امدادی کاروائیاں شروع کیوں نہیں ہوئیں،کوئی زلزلوں کے اسباب کی طرف توجہ ہی نہیں دلارہا۔ درمیان میں کمرشل بریک اور ان میں اچھلتی کودتی بچیاں نازو ادا۔ چھوڑیں جانے دیں آپ بہت سمجھدار ہیں۔ مجھے لگتا ہے.۔۔۔۔۔۔لگتا کیا ہے۔۔۔۔۔۔یقین ہے ہم اجتماعی گناہوں کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ہم رب کے باغی ہیں۔ ہم نے رب کی نعمتوں کا کفران کیا ہے۔ ہم غیروں پر بھروسا کرتے ہیں اور اپنے رب سے مایوس ہوگئے ہیں۔ ہم نے اپنے رب کو چھوڑ کر دوسرے سہارے تلاش کئے،انہیں پوجا۔ رب نے ہمیشہ کرم کیا، ہمیشہ معاف کیا۔
اللہ کے رسول ﷺ نے قرب قیامت کی جو بے شمار نشانیاں بیان کی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس زمانے میں زلزلوں کی کثرت ہوگی۔کسی زمانے میں جب کہیں سے یہ اطلاع آتی تھی کہ فلاں جگہ زلزلہ آیا ہے اور اتنے لوگ اس کے نتیجے میں لقمہ اجل بن گئے ہیں تو دیندار اور خوف خدا رکھنے والے لوگ توبہ استغفار کرنے لگتے تھے کہ اللہ کے نبی ﷺ کی احادیث مبارکہ کی رو سے یہ قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے مگر آج کل روزانہ ہی کہیں نہ کہیں زلزلے نمودار ہو رہے ہیں اور ان کے نتیجے میں جانی اور مالی خسائروقوع پذیر ہوتے رہتے ہیںمگر لوگوں کے دلوں میں اس بات کا خوف جاںگزین نہیں ہوتا کہ زلزلوں کا اس شدت کے ساتھ آنا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے بلکہ دلوں پر خوف کی جگہ ایک بے حسی کی کیفیت طاری ہو چکی ہے اور نصیحت حاصل کرنے کی بجائے تجاہل سے کام لیا جانے لگا ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالی نے سورالزلزال میں وقوع قیامت کے حوالے سے ارشاد فرمایا ہے کہ:جب زمیں اپنی پوری شدت کے ساتھ ہلا ڈالی جائے گی(سور الزلزال)۔مفسرین اس آیت سے یہ معنی لیتے ہیں کہ اس وقت زمین کا کوئی مخصوص حصہ نہیں بلکہ پورے کا پورا کرہ ارض ہلا دیا جائیگا جس کے نتیجے میں دنیا کا وجود ختم ہو جائے گامگر اس عظیم زلزلے کے واقع ہو نے سے پہلے پیغمبر اسلام ﷺ کے فرمان کے مطابق زمین کے مختلف حصوں پر زلزلوں کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہوجائے گا۔
یوں تو بہت سی قدرتی آفات کے ظہور پذیر ہونے سے پہلے پیشگی اطلا ع فراہم ہوجاتی ہو او ر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے باعث کافی بڑے جانی و مالی نقصانات سے بچا جاسکتا ہے.مثلا سمندر میں بننے والے خطرناک طوفانوں ، ان کی شدت اور ان کے زمین سے ٹکرانے کی مدت کا تعین سٹلائیٹ کے ذریعے کیا جاسکتا ہے اور اس سے بچا ؤکی تدابیر بروقت اختیار کی جاسکتی ہیں مگر زلزلے کی آمد نہایت خاموشی سے ہوتی ہے اور پتہ اس وقت چلتا ہے جب وہ اپنے پیچھے تباہی اور بربادی کی ایک داستان رقم کرکے جاچکا ہوتا ہے۔
ہمارے بابے کہتے ہیں: انسان کی گھٹی میں پڑا ہوا ہے گناہ ،نافرمانی، سرکشی اور نجانے کیا کیا۔ گناہ ہوجائے تو رب کے سامنے ندامت سے سر کو جھکاؤ، آنسو بہاؤ، وہ معاف کرتا رہے گا ،اپنی نعمتیں برساتا رہے گااور ہم نے کیا کیا!سرکشی کی اور اس پر اِترائے، گناہ کئے اور ان پر فخر کیا ،بغاوت کی اور اس پر اکڑے۔ کون سا گناہ ہے جو ہم نے نہیں کیا!ہم پر سے رب کا حفاظتی حصار اٹھ گیا ہے۔
رحمت یہ چاہتی ہے کہ اپنی زباں سے کہہ دے گناہ گارکہ تقصیرہوگئی
بس ایک ہی در ہے ،بس ایک ہی ذات ِباری ہے جو ہمیں بچاسکتی ہے ۔۔۔۔۔۔اللہ جی۔۔۔۔۔۔بس وہی اور کوئی نہیں کوئی بھی نہیں۔ ہم تو سوچتے بھی نہیں ہیں۔ گھڑی دو گھڑی سوچئے،اجتماعی استغفارکاوقت ہے لیکن شیطانی قوتوں کے سحرنے جکڑرکھاہے۔دنیاوی فائدے کھوجانے کاخوف دل میں اس قدرجاگزیں ہے کہ خالق کاخوف جگہ نہ ہونے کی بناء پرواپس لوٹ جاتاہے۔حدیث کامفہوم ہے کہ اس دل جیسے لوتھڑے میں صرف ایک خوف ہی سماسکتاہے،اگردنیاکاخوف ہوگاتورب کاخوف دبے پاؤں چپکے سے رخصت ہوجاتاہے اورزندگی دنیاکے خوف میں رسواکردیتی ہے اوراگررب کاخوف موجودہوتوساری دنیاخوفزدہ اورلرزاں رہتی ہے۔۰م نے اپنے رب سے وعدہ کیاتھا کہ ہم اس خطہ ارضی پرتیراحکم یعنی قرآن نافذکریں گے لیکن ہم نے اس عدے سے منہ موڑلیا۔اب بھی دن میں درجنوں مرتبہ رب سے عہدکرتے ہیں کہ ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں اورتجھ سے ہی استعانت چاہتے ہیں لیکن چندلمحوں میں فراموش کردیتے ہیں۔ فیصلہ توہمیں کرناہے۔لاہوری بابااقبالؒ توبہت پہلے سمجھاگئے تھے!
وہ ایک سجدہ جسے توگراں سمجھتاہے ہزارسجدوں سے دیتاہے آدمی کونجات
بات تو مجھے بہت تفصیل سے کرنی تھی پھر سہی۔ آپ کے پاس بھی تو قت نہیں رہا ناںالبتہ میں نے کہیں پڑھا تھا وہ سناتا ہوںشائدبات سمجھ میںآجائے:
ایک مرتبہ ہمارے ایک استاد نے ہم میں سے ہر ایک کو ایک تھیلا اور آلوؤں کی ایک بوری ساتھ لانے کو کہا تھا۔ جب ہم تھیلا اور بوری لے آئے تو استاد نے کہا کہ ہم ہر اس فرد کے نام پر جسے ہم نے اپنی زندگی میں معاف نہیں کیا ایک ایک آلو چن لیں اور اس پر اس فرد کا نام اور تاریخ لکھ کر تھیلے میں ڈالتے جائیں۔ ہم نے ایسا ہی کیا۔ ہم سب کے تھیلے خاصے وزنی ہوگئے۔ پھر ہم سے کہا گیا کہ ہم اس تھیلے کو ایک ہفتے تک ساتھ ساتھ لیے پھریں۔ رات کو سوتے وقت اس تھیلے کو اپنے بستر کے ساتھ رکھیں جب دفتر میں ہوں تو اپنی میز کے ساتھ رکھیں۔ ڈرائیونگ کرتے وقت اپنی برابر والی سیٹ پر رکھیں بس اسے اپنے ساتھ رکھیں۔ ہمیں اس تھیلے کو ساتھ ساتھ رکھنا ایک مصیبت بن گیا اس لیے کہ ہر وقت یہ توجہ دینی پڑتی تھی کہ کہیں بھول نہ جائیں۔ ہمیں لوگوں سے ملنے جانا ہوتا جہاں بے حد شرمندگی ہوتی پھر سوالات کا سامنا الگ۔ ہر جگہ خفت کا سامنا کرنا پڑتا۔ وہ تھیلا جان کا عذاب بن گیا تھا۔ قدرتی طور پر آلووں کی حالت خراب ہونے لگی وہ پلپلے اور بدبودار ہونے لگے، لوگ بھی ہم سے دور بھاگنے لگے تھے۔
پھر ایک دن ہم پر آشکار ہوا کہ روحانی طور پر ہم اپنے آپ پر کیا وزن لادے پھر رہے ہیں۔ یہ اس بات کا ایک اثر انگیز استعارہ تھا کہ ہم اپنی تکلیف اور اپنی منفی سوچ کی کیا قیمت چکارہے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ معاف کردینا دوسرے فرد کے لیے تحفہ ہے لیکن معاف کردینا ہے بہت مشکل کام۔ ہم معاف کرنا بھول گئے ہیں۔ ہم دوسروں کو تو معاف کرتے نہیں ہیں اور اپنے رب سے معافی کے طلبگار ہیں۔ کیسے ہیں ہم!اپنے اپنے بدبودار تھیلے اٹھائے ہوئے ہلکان لوگ۔
خوش رہیں آپ سدا آپ کے چاہنے والے سلامت رہیں۔ کچھ بھی تو نہیں رہے گابس نام رہے گا میرے رب کا۔
دل کی دھڑکن، خون کی گردش دھوکا ہے تن من سارا خاک نگر ہے، جانو تو
ان دیکھی اک ڈوری کا سب کھیل ہے یہ دنیا بھی اک پتلی گھر ہے، جانو تو
جی لینا بھی فن تھا ، اب تو عزت سے مر سکنا بھی ایک ہنر ہے، جانو تو

(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker