مضامین ومقالات

بنا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اِتراتا

حفیظ نعمانی
دہلی میں ہر صوبہ کا ایک مہمان خانہ ہوتا ہے۔ اس کی حیثیت دوسرے ملکوں کے سفارت خانوں جیسی تو نہیں ہوتی لیکن تقریباً ایسی ہی ہوتی ہے۔ اُترپردیش کا پہلے ایک یوپی نواس تھا بعد میں وہ کم پڑنے لگا تو دوسرا یوپی بھون بھی بنوایا۔ ان دونوں میں ہمیں بھی بار بار قیام کا موقع ملا ہے اور وہاں رہ کر ہی اندازہ ہوسکتا ہے کہ وہ اس صوبہ کا ہی حصہ معلوم ہوتا ہے جس سے وہ منسوب ہے۔ یوپی نواس اور یوپی بھون کی کینٹینوں میں ہر وہ کھانا ملتا ہے جو اُترپردیش میں کھایا جاتا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ اس کی قیمت بازار سے بہت کم ہوتی ہے۔
کل سے اس حرکت کا بہت شور ہے جو مرکز کے ماتحت رہنے والی دہلی پولیس نے کیرالہ بھون میں کی ہے۔ کیرالہ بھون محمد اخلاق جیسے مسلمان کا گھر نہیں ہے وہ کیرالہ نے اپنے پیسوں سے اپنے سرکاری مہمانوں کے لئے بنوایا ہے اور جب کیرالہ میں گائے کاٹنا قانون کے اعتبار سے جرم نہیں ہے تو کیرالہ بھون میں اس کا پکایا جانا اور کھایا جانا کیسے جرم ہوجائے گا؟ آج بیشک ٹرینوں میں بھی کھانا ملتا ہے، ہوائی جہاز میں بھی اور اگر سڑک کے راستے جانا ہو تو ہر سو دو سو کلومیٹر کے بعد کھانے کے ڈھابے بنے ہوئے ہیں۔ لیکن ہمیں یاد ہے کہ ہم اور ہمارے ساتھ اگر دو چار دوست یا عزیز ہوئے اور لمبا سفر کرنا ہوا تو ہمیشہ ٹفن میں اتنا کھانا ساتھ کردیا جاتا تھا جو منزل تک پورا ہوجائے۔ اس لئے کہ ٹرین کی کینٹین یا اسٹیشن کے کھانوں سے ان لوگوں نے ہمیشہ پرہیز کیا جن کے پیش نظر پاکی اور صحت ہو۔
بعض گھرانے ایسے ہوتے ہیں کہ وہ ہوٹلوں کے کھانے سے ممکن حد تک پرہیز کرتے ہیں اس لئے کہ بھینس کا گوشت بادی ہوتا ہے اور کباب یا قیمہ کوئی بھی ہوٹل بکرے کا شاید ہی دے پاتا ہو؟ کیونکہ بکرے میں قیمہ کے قابل گوشت بہت کم ہوتا ہے۔
ایسی صورت حال میں اگر ان صوبوںؓ کا کوئی آدمی اپنے شہر سے گائے کا گوشت لے کر آتا ہے اور اسے اپنی ریاست کے بھون یا نواس میں کھاتا ہے تو کسے یہ حق ہے کہ وہ غنڈہ گردی کرے اور کس صوبہ کی پولیس کو یہ حق ہے کہ وہ چھاپہ مارنے جیسی ذلیل حرکت کرے؟
دہلی کو مکمل ریاست کا درجہ دینے کا وعدہ بار بار کانگریس بھی کرچکی ہے اور بی جے پی کے تو ہر الیکشن مینی فیسٹو میں یہ ضرور ہوتا ہے کہ دہلی کو مکمل ریاست کا درجہ دیا جائے گا۔ اب اسے اتفاق ہی کہا جائے گا کہ 1998 ء سے اب تک بی جے پی کانگریس اور پھر بی جے پی کی مرکز میں حکومت رہی لیکن دونوں میں سے ایک نے بھی اس وعدہ کو پورا نہیں کیا۔ آج صورت حال ایسی ہوگئی ہے جس پر ملک کا وہ طبقہ جس سے ملک کو ناز ہوتا ہے وہ شرمندہ ہورہا ہے اور اس کا کھل کر اظہار بھی کررہا ہے۔ لیکن ایک طبقہ اپنے کو ممتاز سمجھنے والا ایسا بھی ہے جو اپنے مفادات کے پیش نظر کہہ رہا ہے کہ اس میں وزیر اعظم شری مودی کیوں ذمہ دار ہیں؟ حیرت ہے کہ انہیں یہ نظر نہیں آرہا کہ ملک کے دس لونڈے کھیل کھیل میں ایک سینا بنا لیتے ہیں اور شیوسینا کے وزن پر رام سینا، ہنومان سینا، سیتا سینا یا ہندو سینا نام رکھ لیتے ہیں اور وہ دہلی کے پولیس کمشنر کو اور دوسرے صوبوں میں ایس ایس پی کو حکم دیتے ہیں کہ فلاں گھر میں گائے کٹ رہی ہے۔ فلاں کے گھر میں بک رہی ہے اور فلاں کے گھر میں کھائی جارہی ہے۔ چلئے چھاپہ ماریئے اور وہ پولیس جو خاکی سینا کا فرض انجام دیتی ہے وہ حکم ملتے ہی دوڑ پڑتی ہے۔
برسوں پرانی بات ہے جب بال ٹھاکرے صاحب شیوسینا سے ممبئی پر مسلسل حملے کررہے تھے اور مسلمان ممبئی چھوڑکر بھاگ رہے تھے۔ لکھنؤ میں ایک دوست اخلاق احمد خاں درّانی نے سب سے چھپاکر کسی پریس میں ایک پوسٹر چھپواکر رات میں لگوا دیا۔ جس کی سرخی تھی ’’مسلم سینا‘‘ صبح سے لکھنؤ پولیس نے چاروں طرف چھاپے مارنا شروع کئے۔ درّانی صاحب کہیں روپوش ہوگئے۔ دوسرے دن پانیئر کے پہلے صفحہ پر چار کالمہ دس اِنچ کے باکس میں چھاپا گیا ’’اور اب مسلم سینا۔‘‘ خبرنگار نے اخلاق احمد درّانی کو ’’صلاح الدین ایوبی‘‘ سے جوڑ دیا اور ایسا تاثر دیا جیسے بس اب مسلم سینا ہر ہندو محلہ میں حملہ کرکے اسے نیست و نابود کرنے کے لئے آنے ہی والی ہے۔ اس زمانہ میں خوبصورت پوسٹر اردو اور ہندی میں چھاپنے کے لئے ہمارے پریس کی شہرت تھی۔ پروردگار کا کرم ہے کہ وہ شہرت آج بھی ہے۔ لیکن امین آباد پولیس اسٹیشن کے انچارج اور دوسرے داروغہ سب ہی پہچانتے تھے۔ وہ کئی بار یہ معلوم کرنے کے لئے آئے کہ آپ بتایئے کہ یہ کس پریس میں چھپا ہوگا؟ ہم نے بتایا کہ یہ یا تو الہ آباد میں چھپا ہے یا کان پور میں اس لئے کہ جس نے اس کی کتابت کی ہے وہ لکھنؤ کا کاتب نہیں ہے۔ ہم سب کو جانتے ہیں۔ اور اس ایک پوسٹر کی بدولت اخلاق احمد درّانی کو لکھنؤ چھوڑنا پڑا۔ پھر ہم نے انہیں اس وقت دیکھا جب اکثر بال سفید ہوگئے تھے اور انہوں نے بتایا کہ میں ممبئی بھاگ گیا تھا۔
کیرالہ بھون کی خبر میں پہلی بار ہم نے ہندو سینا کا نام پڑھا اور سنا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ آج بھی کوئی اخلاق درّانی کی طرح مسلم سینا نام کی کوئی تنظیم بنالے تو یہی مودی سرکار جس کے خطبہ پڑھتے ہوئے 9 جون کو صدر محترم نے اقلیتوں کو برابر کا درجہ دینے کا اعلان کیا تھا اسی کی پولیس اور خفیہ ایجنسیاں اس کے تار دائود ابراہیم، حافظ سعید اور عزیز الرحمن لکھوی سے جوڑ دیں گی۔ ہم جانتے ہیں کہ کیڑے مکوڑوں کی طرح سینائیں ہر حکومت میں پیدا ہوتی ہیں۔ لیکن علاقہ کی پولیس ان کے اشاروں پر ناچے؟ یہ صرف اس لئے ہورہا ہے کہ حکومت سنگھ کے پرچارک اور پولیس سنگھ کے سب سے زیادہ معتمد کے ہاتھ میں ہے اور جو کوئی ان شرمسار کرنے والی حرکتوں کا الزام مودی صاحب اور راج ناتھ سنگھ پر ڈال رہا ہے وہ غلط نہیں ہے۔
دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال، بڑی لجاجت سے وزیر اعظم سے درخواست کررہے ہیں کہ وہ دہلی کی بھلائی کے لئے پولیس کو ان کے ماتحت کردیں۔ ہمارا یا ہمارے اخبار کا کوئی رشتہ کجریوال سے نہیں ہے۔ اگر ان کی جگہ کرن بیدی دہلی کی وزیر اعلیٰ ہوتیں تب بھی ہم یہی کہتے۔ اس لئے کہ اتنا بڑا اور اتنے رنگ برنگے مسائل سے گھرا ہوا ملک اور صرف شری راج ناتھ سنگھ اور ایک ان کے جونیئر وہ اگر 22 گھنٹے روز بھی کام کریں تو ناممکن ہے کہ ملک کو کنٹرول کرلیں۔
دہلی کے شرپسند غنڈے اور لوفر جو بھی کررہے ہیں اس کی ذمہ داری مرکزی حکومت پر ہے اس لئے کہ اس کی ہی وجہ سے پولیس کا وہ محکمہ جو نافرمانی کے لئے سب سے زیادہ بدنام ہے وہ دہلی میں بے لگام بھی ہوگیا ہے۔ دہلی کے عوام نے بیشک مودی صاحب پر اعتماد نہیں کیا بلاشبہ ان کی بہت بے عزتی کی۔ لیکن وہ جو پولیس کو بے لگام چھوڑکر ان سے انتقام لے رہے ہیں اس کے نتیجہ میں عوام ان سے خوفزدہ نہیں ہوں گے بلکہ اگر وہ انتقام پر اتر آئے تو پھر وہی کریں گے جس کا مشورہ علامہ اقبالؒ دے گئے ہیں کہ
؎ اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلادو
ہوسکتا ہے کہ وہ دہلی جہاں لاکھوں غیرملکی اور سیاح آتے ہیں ان میں سے ہر کوئی جاکر لکھے کہ دہلی سے زیادہ گندہ کوئی شہر روئے زمین پر نہیں ہے۔
پنڈت نہرو ہوں یا دستور کے بابا امبیڈکر یا صوبوں کے پہلے وزراء اعلیٰ سب نے پولیس مینول تبدیل نہ کرنے کا جو جرم کیا ہے وہی ملک سے دشمنی نہیں تھی۔ لیکن جب سب ہی صرف پولیس کے بل پر حکومت کرنے لگیں تو ملک کو برباد ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ جن مہمان خانوں میں صوبوں کے ممبران اسمبلی و کونسل یا اہم سیاسی لیڈر قیام کرتے ہوں اور اس کی حیثیت ایک پرائیویٹ ہوٹل کی نہ ہو وہاں کسی دوسرے صوبہ کی پولیس کی ہمت صرف اس لئے ہوئی کہ انہیں حکم دینے والا ہندو سینا کا نیتا تھا اور ملک پر حکومت ہندو کی ہے۔ جمہوریت یا سیکولرازم تو اب ایسی باتیں ہیں جو سفید بالوں والے بوڑھے کیا کرتے ہیں۔ وشوہندو پریشد ہو یا اس کے انڈے بچے۔ شور چاہے جتنا مچائیں لیکن جو ہندو اپنی گائے کو کاٹنے کے لئے بیچ رہا ہے وہ بیچے گا جو کاٹ رہا ہے وہ کاٹے گا اور جو کھا رہا ہے وہ کھائے گا۔ اس کی حیثیت رشوت کی ہے۔ جسے لینے اور دینے والے دونوں جب خوش ہیں تو وہ جرم نہیں رہی۔ یہی گائے کے ساتھ ہورہا ہے کہ کاٹنے کے لئے بیچنے اور خریدنے والے جب دونوں اپنی اپنی جگہ خوش ہیں تو جرم کیسا؟ اور ہر حکومت پوری طرح اس میں شریک ہے۔ اگر حکومت واقعی گائے کشی کو روکنا چاہتی ہے تو گائے کی کھالوں سے بھرے وہ ٹرک پکڑکر دکھائے جو ہندوئوں کی ٹینری میں روز ملک سے بھرے جاتے ہیں؟ اور وہ کھالیں گائے کی ہوتی ہیں۔
فون نمبر: 0522-2622300
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker