Baseerat Online News Portal

بی جے پی سے زیادہ مودی کی جیت ہے

انہیں اب بھی مقبولیت حاصل ہے، اقلیتوں کو خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے
ممبئی، 11مارچ (یواین آئی)شمالی ہندکی ریاست اترپردیش اسمبلی الیکشن میں بھارتیہ جنتاپارٹی زبردست کامیابی کی وجہ سے ملک بھر میں بی جے پی لیڈران خوشی سے پھولے نہیں سما رہی ہے اور اس کی حامی طرح طرح کے ردعمل ظاہر کرہے ہیں ،ویسے خصوصی طورپر اترپردیش کی جیت پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔معروف گلوکارہ لتا منگیشکر اوربالی ووڈ اداکار انوپم کھیر سمیت متعدد شخصیات نے بھی بیانات دیئے ہیں اورمسرت کا اظہار کیا ہے۔ڈاکٹر ظہیر قاضی ،صدرانجمن اسلام اور ماہرتعلیم ،نے اسے مودی لہر قراردیتے ہوئے کہا کہ حال کے دنوں میں بی جے پی کے اس پروپیگنڈے نے عام آدمی کے دماغ میں یہ بات گھر کرادی کہ مودی حکومت غریبوں کی فلاح وبہبود کے لیے سرگرم ہے ۔دوسری سبب پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کے ذریعے ترقی کی جو تشہیر پڑے پیمانے پر کی گئی ،اس نے بھی کام کیا ہے ۔بی جے پی کے ایک سنیئر لیڈر فاروق اعظم نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ مودی کا نعرہ ‘سب کا ساتھ ،سب کا وکاس’ کا نعرہ اثر کرگیا ہے اور وزیراعظم نریندر مودی نے ترقی کیلیے جواقدامات کیے ہیں اور ذات پات اور فرقہ بندی سے اوپر اٹھ کر جوکام کیے ہیں انہیں عوام کی حمایت حاصل ہے ۔انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ترقی کے نام پر اس بار مسلمانوں نے بھی بڑے پیمانے پر بی ج پی کو ووٹ دیا ہے ،اس لیے ہم سبھی کو اور خصوصی طورپر مسلمانوں کو مبارکباد دیتے ہیں کہ انہوں نے پارٹی کی حکمت عملی پر بھروسہ کیا ہے۔
عوامی وکاس پارٹی کے روح رواں اور سابق اے سی پی شمیشرخان پٹھان نے بی جے پی کی اس بڑی جیت کے لیے اے وی ایم مشینوں کو ذمہ دار قراردیا ہے کیونکہ ان کاکہنا ہے کہ گزشتہ تین سال کے دوران بی جے پی کی مودی حکومت نے کوئی اہم کام نہیں کیا ہے اور نوٹ بندی کے ذریعے عوام کو سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑا ہے پھر بھی اتنے ووٹ ملنا اور شاندار جیت کیسے ممکن ہے۔
انہوں نے بی ایس پی کی سپریمو مایاوتی کے اس مطالبہ کی حمایت کی کہ اے وی ایم مشینوں کی اعلیٰ پیمانے پر تحقیقات ہونی چاہیے اور آئندہ الیکشن بیلٹ پیپر کی مدد سے کرائے جائیں ،یہ ہر حال میں اے وی ایم مشینوں کا گھوٹالہ ہے اور ہم ان کے خلاف احتجاج شروع کریں گے کیونکہ ٹیکنالوجی سے چھیڑخانی ممکن ہے۔

You might also like