Baseerat Online News Portal

نہ اکھلیش کا ووٹ بینک باقی رہا نہ مایاوتی کا

اسدالدین اویسی کی تقاریر کی وجہ سے یوپی کا دلت اور یادو بھی ہندو ہوگیا
یوپی چناؤ میں بی جے پی کی کامیابی پر عمائدین شہر کے تاثرات
ممبئی۔۱۱؍مارچ:(فرحان حنیف وارثی)اترپردیش میں بی جے پی کی حیرت انگیز کامیابی پر چاروں طرف چرچے جاری ہیں اور ہر کوئی اپنے زاویے سے خیالات کا اظہار کررہا ہے۔ جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے صدر مولانا مستقیم احسن اعظمی کے مطابق ’’بی جے پی کی جیت سے پتہ چلتا ہے کہ عوام اسے چاہتی ہے، اپوزیشن پارٹیاں صرف اپنے مفاد کی حصولیابی کے چکر میں رہ گئیں اور چنائو کی صحیح پالیسی نہیں بناپائی۔ البتہ مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ بی جے پی ٹو ٹھرڈ میجاریٹی سے کامیاب ہوئی ہے او ریہ پہلو غوروفکر کی دعوت دیتا ہے‘‘۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن مولانا محمود دریابادی کے مطابق ’’سیکولرازم کا سارا ٹھیکہ مسلمانوں نے نہیں لے رکھا، نہ اکھلیش کا ووٹ بنک باقی ہے نہ مایاوتی کا، دونوں بی جے پی کی طرف منتقل ہوگئے، اس ووٹ بنک کے کھسکنے کا احساس دونوں پارٹیوں کو پہلے ہی سے تھا،اس لئے دونوں پارٹیاں صرف مسلمان مسلمان کھیل رہی تھیں،اب ہمیں یہ حقیقت سمجھنی چاہئے کہ بھارت جمہوری ملک ہے،یہاں سر گنے جاتے ہیں‘‘۔ انہوں نے آگے کہا ’’دہلی میں بی جے پی کی حکومت 2014 سے تھی ،اب یوپی جیسے بڑے صوبے میں بھی ہوگئی ہے،ایم پی گجرات ،مہاراشٹر میں بھی یہی حکومت ہے،باقی ماندہ ریاستوں میں بھی اس کے امکانات ہیں۔ان حقائق کو سامنے رکھ کر ہمیں ملی مفادات سے متعلق آئندہ منصوبے ترتیب دینے چاہیے‘‘۔ آل انڈیا ملی کونسل ممبئی یونٹ کے صدر راشد عظیم نے اترپردیش کے الیکشن نتائج پر اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہا ’’یوپی کی سیاست میں ہندو مسلم کا رنگ پوری طرح غالب ہوچکا ہے او راس چنگاری میں گھی ڈالنے کا کام مجلس اتحاد المسلمین نے انجام دیا اسدالدین اویسی نے انتخابی مہم کے دوران جو تقاریر کیں اسے سن کر یوپی کا دلت بھی ہندو ہوگیا۔ یادو بھی ہندو ہوگیا اور حتی کہ پچھڑے طبقات کا ووٹر بھی ہندو ہوگیا اور یہ سارے ووٹ بی جے پی کی جھولی میں جاگرے‘‘۔ راشد عظیم کے بموجب ’’حیرت انگیز بات یہ ہے کہ سماج وادی پارٹی کو ان کے یادوووٹ بھی نہیں مل سکے۔ اسی طرح مسلمانوں کے ووٹ بی ایس پی او رایس پی میں تقسیم ہوگئے او رکانگریس بھی کوئی کمال نہیں دکھا سکی‘‘۔ سینئر صحافی خلیل زاہد کے بقول ’’یہ حیرت انگیز ریزلٹ ہے۔ سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا کہ بی جے پی اس طرح جیت حاصل کرے گی ۔ مجھے اے وی ایم مشینوں کی گڑبڑی لگتی ہے۔ آج جرمنی اور امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں بھی ووٹ ڈالنے کے لئے بیلٹ باکس کا استعمال کیاجارہا ہے تو انڈیا میں اس طریقے پر عمل کیوں نہیں کیا جارہا ہے؟ مسلم ووٹ ضرور تقسیم ہوئے ہیں ۔ مسلمانوں نے فرقہ پرستی کو دیکھتے ہوئے کانگریس، سماج وادی پارٹی اور بی ایس پی کو ووٹ دئیے لیکن بی جے پی نے بازی مارلی۔ اب وقت آگیا ہے کہ انڈیا میں اے وی ایم مشینوں کے پیٹرن کو تبدیل او رپہلے کی طرح بیلٹ باکس کو دوبارہ مروج کیا جائے۔ ‘‘ ڈاکٹر ظہیر قاضی ،صدرانجمن اسلام اور ماہرتعلیم ،نے اسے مودی لہر قراردیتے ہوئے کہا کہ حال کے دنوں میں بی جے پی کے اس پروپیگنڈے نے عام آدمی کے دماغ میں یہ بات گھر کرادی کہ مودی حکومت غریبوں کی فلاح وبہبود کے لیے سرگرم ہے ۔دوسری سبب پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کے ذریعے ترقی کی جو تشہیر پڑے پیمانے پر کی گئی ،اس نے بھی کام کیا ہے ۔ظہیر قاضی کے مطابق اترپردیش جیسی حساس ریاست میں خفیہ اور پھر کھلے طورپر ایک عرصے منافرت پھیلانے کاجو کام کیا جارہا تھا ،اس نے بھی بی جے پی کی جیت میں اہم رول اداکیا ہے ،لیکن سیکولرووٹوں کی بڑے پیمانے پر تقسیم سے بھی انکار ممکن نہیں ہے کیونک پسماندہ ،دلت اور مسلم ووٹوں کی تقسیم سے بی جے پی کو فائدہ پہنچا ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر سیکولرپارٹیاں بہار کی طرز پر مہاگٹھ بندھن بنانے میں کامیاب ہوتی تو انکی کامیابی یقینی تھی ،مستقبل میں اور 2019کے عام انتخابات کے لیے اسی طرح کا اتحاد ہوجائے تو یہ فارمولا کام کرے گا۔ورنہ بی جے پی کو روکا نہیں جاسکے گا،کیونکہ مودی کا ‘سب کا ساتھ ،سب کا وکاس ‘ نعرہ موثر ہوچکا ہے اور مودی یا بی جے پی کو چاہیے کہ یہاں اقلیتیں اورخصوصی طورپر سب سے بڑی اقلیت کو ترقی میں شامل کرنا ہوگا اور انہیں کندھے سے کندھا ملا کر آگے بڑھانا ہوگا۔معروف صحافی جاوید جمال الدین نے بی جے پی کی مذکورہ کامیابی کے بارے میں اظہار کرتے ہوئے کہاکہ بی جے پی نے ایک حکمت عملی تیار کی اور اس میں اسے کامیابی مل گئی جبکہ دیگر پارٹیوں اور سیکولر پارٹیوں نے زیادہ ہی توقعات وابستہ کرلی تھیں ،انہیں اس بات کا احساس نہیں تھا کہ ملک بھر میں وزیراعظم نریندرمودی اور بی جے پی عام آدمی کے ذہن میں ترقی کے نام کا جال بُن چکی ہے ،اس میں وہ پھنس چکے ہیں۔جبکہ یہ بھی حقیقت ہے کہاترپردیش میں بڑی خاموشی سے 2014سے ایک زہر گھولا جارہا تھا ،وہ پوری طرح اثر کرگیا اور یہ اس کے نتائج ہیں۔اب سوال یہ پید ا ہوتا ہے کہ اکھلیش سرکار نے اس فرقہ پرستی اور نفرت کے زہر کو روکنے کے لیے کیا کیا ۔جس کا جواب صفر ہے۔یہی ان کی سزا ہے۔جس کا انہیں اب احساس ہوگا۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کورٹ کے اہم رکن اور ممبئی کانگریس کے جنرل سکریٹری آصف فاروقی نے بی جے پی پر فرقہ پرستی کو ہوا دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ یہی وجہ ہے کہ انہیں اترپردیش میں جیت حاصل ہوئی جبکہ سماج وادی پارٹی کی اندرونی کشمکش نے بھی جلتی کاکام کیا ہے۔جس کے سبب یہ نتائج سامنے آئے ہیں۔مشہور سماجی کارکن اور سیاسی مبصر سلیم الوارے نے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ انہیں گھبرانے اور تشویش میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے نام نہاد سیکولرطاقتیں طرح طرح کی باتیں کرکے ان پر نفسیاتی دباؤ ڈال کر گمراہ کرنے کی کوشش کریں گی جس میں انہیں بہکنے کی ضرورت نہیں ہے۔الوارے نے کہا کہ مرکزی حکومت اور بی جے پی کی ریاستی حکومتوں نے ترقی کی لگام تھام لی اور منتخب سرکاریں عوام کے حقوق کے تحفظ کی ضامن ہوتی ہیں ،اس لیے فکرمند ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

You might also like