Baseerat Online News Portal

مایا وتی کا یوپی الیکشن کے نتائج کو رد کرنے کا مطالبہ

ای وی ایم میں گڑبڑی کا دعوی،الیکشن کمشنر نے الزام مسترد کیا
لکھنو،۱۱مارچ : بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے الیکشن کمیشن سے انتخابی نتائج کو رد کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ بی ایس پی کے مطابق ای وی ایم مشینوں میں گڑبڑی ہوئی ہے ۔مایاوتی نے اترپردیش اور اتراکھنڈ کے انتخابی نتائج پر رد عمل ظاہرکرتے ہوئے آج یہ الزام لگایا تھا کہ ای وی ایم میں خرابی کی وجہ سے ہی جب بھی کوئی ووٹر ووٹ ڈالنے کے لئے بٹن دباتا تھا تو اس کا ووٹ از خود بی جے پی کے اکاؤنٹ میں چلا جاتا تھا ۔اپنی شکست پر بولتے ہوئے بی ایس پی سپریمومایا وتی نے کہا کہ ای وی ایم میں گڑبڑی ہوئی ہے ۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے نتائج کو رد کرتے ہوئے ای وی ایم کی جگہ بیلٹ پیپر کے ذریعہ ووٹنگ کا مطالبہ کیا ۔ مایا وتی نے کہا کہ مسلم برادری کا کہنا ہے کہ انہوں نے بی جے پی کو ووٹ ہی نہیں دیا ، تو پھر مسلم اکثریتی علاقوں میں بی جے پی کی جیت کیسے ہوگئی ۔بی ایس پی سپریمو نے کہا کہ امت شاہ اور نریندر مودی اگر ذرہ برابر بھی ایماندار ہیں ، تو انہیں الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر دوبارہ بیلٹ پیپر کے ذریعہ ووٹنگ کی اپیل کرنی چاہئے ۔مایاوتی نے مزید کہاکہ پنجاب میں شروع سے ہی کانگریس کے جیتنے کے آثارتھے اسی سبب بی جے پی وہاں ای وی ایم مشینوں میں گڑبڑی کی ہمت نہیں کرپائی ۔ ممبئی میں میونسپل انتخابات کے وقت ای وی ایم مشینوں میں گڑبڑی کی شکایات موصول ہوئی تھیں ۔ای وی ایم مشینوں کی خامیوں کے مدنظر ہی امریکہ میں آج بھی الیکشن بیلٹ پیپر سے ہی منعقد کروائے جاتے ہیں ۔دریں اثناءالیکشن کمیشن نے بہوجن سماج وادی پارٹی (بی ایس پی) کی سربراہ مایاوتی کے ان الزامات کو بے بنیاد بتایا کہ اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو جیت دلانے کے لئے الیكٹرانك ووٹنگ مشین (ای وی ایم) میں گڑبڑی کی گئی تھی۔ اس سلسلے میں بی ایس پی کے جنرل سکریٹری ستیش چندر مشرا نے آج ہی کمیشن کو خط لکھ کر اس بات کی شکایت کی تھی۔ الیکشن کمیشن نے مسٹر مشرا کے اس خط کے جواب میں کہا ہے کہ ای وی ایم مشینوں کا استعمال 2000 کے انتخابات سے ہو رہا ہے اور ان مشینوں کی معتبریت پر شک نہیں کیا جا سکتا۔ انتخابات کے آغاز ای وی ایم مشینوں کی درستگی اس سلسلے میں 1990 میں قائم گوسوامی کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر کی گئی تھی۔ ان مشینوں کو ٹھیک کرنے والے تكنيكی ماہرین میں آئی آئی ٹی کے پروفیسر بھی شامل رہے ہیں۔ ان مشینوں کی جانچ 1982 میں ہی پائلٹ پروجیکٹ کے تحت شروع کر دی گئی تھی اور انتخابات کے لئے 2004 اور 2009 سے پورے ملک میں ان کا استعمال کیا جانے لگا تھا۔ کمیشن نے یہ بھی کہا ہے کہ ووٹنگ سے پہلے ای وی ایم مشینوں کی پوری جانچ کی جاتی ہے اور تجرباتی سطح پر ووٹنگ کرکے یہ پتہ لگایا جاتا ہے کہ اس میں کوئی رکاوٹ تو نہیں ہے۔ لہذا ان مشینوں میں خرابی کا جو الزام لگایا گیا ہے وہ مکمل طور پر بے بنیاد اور غیر معقول ہے۔

You might also like