جہان بصیرتچچا چھکن مزاحیہ تحریرمضامین ومقالات

ای وی ایم مشین اور چچا چھکن

ابو زید فرضی
نویں قسط
8218073407
لو جی! آج کی صبح چچا چھکن کی صبح ہے، جیسے ہی ناشتے کے لئے گئے تو اندازہ ہوا کہ  بی جے پی کا رنگ ہر چیز پر چڑھا ہوا ہے.. چائے ہے تو وہ بھگوا، تہاری ہے تو وہ بھگوا، بسکٹ ہے تو وہ بھگوا، نمکین ہے تو وہ بھگوا، لگا کہ بی جے پی تو پہلے سے چھائی ہوئی ہے.
خیر! ناشتہ کے بعد چچا چھکن کی جانب چل پڑے.
چچا تو آج بڑے آب وتاب کے ساتھ مجلس جمائے بیٹھے تھے. چچا کی بیٹھک میں قادری میاں، ازہری میاں، قاسمی صاحب سب براجمان تھے.
 ہم کو دیکھتے ہی چچا تپاک سے ملے.
 کہنے لگے! ابوزید:” آؤ آؤ.کہاں گیا تمہارا تجزیہ اور وہ کیا ہوتا ہے کون سا” لزم” ہوتا ہے یارررررر ہم نے کہا چچا” سیکولرازم” کہنے لگے ہاں ہاں وہی. کہاں گیا؟ ہم نے کہا کہیں نہیں گیا. بس اس کا تبادلہ ہوگیا” پنجاب”  “منی پور” اور “گوا” کی طرف.. ہم نے کہا:چچا چھکن یہ تو بتاؤ؟ آپ کی پارٹی پر الزام ہے کہ ای وی ایم میں گھوٹالہ کیا ہے؟ چچا کہتے ارے یہ”گوٹالہ”کیا ہوتا ہے؟ہم نے کہا: “مطلب ای وی ایم مشین میں گڑبڑی. کہنے لگے: یار ایک بات کہو.” یا تو ہم کو گدھا کہو یا پھر عقلمندی کا الزام نا دو” اور ہماری پارٹی نے کوئی گھوٹالہ نہیں کیا. ارے!! “چلو مان لیا گھوٹالہ کیا ہے، تو یہ بات پہلے کیوں سمجھ نہیں آئی کہ یہ بھی ہوسکتا ہے”ہم نے کہا: اچھا ای کا بات ہے کونو حکم ہے عدالت کا، اس کو نہیں مانا گیا”؟ چچا بولے سنوابوزید:”یہ سب لوگ جو اب چلارہے ہیں پہلے کہاں تھے”خیر ابو زید! اب ہماری حکومت ہے بتاؤ تمہیں کیا چاہیئے؟ جو بولو ملے گا! ہم نے کہا چچا: “سیکورٹی گارڈ، راجیہ سبھا کی سیٹ،  کچھ بھی بولنے کی آزادی تاکہ لوگ بے باک لیڈر کہہ سکیں مجھے یہ سب نہیں چاہئے بس ایسا کرو”
 چچا یہ صوفی ندیم کو مالٹا کی جیل بھیج دو، تاکہ مسلمان اپنے ذہن سے اپنا فیصلہ کرسکیں.
چچا آنکھیں پھاڑ کر دیکھنے لگے، ہم نے کہا حیران نا ہوں دل یہی کہتا ہے. کیا کروں؟
چچا سے ملنے کے بعد واپس آرہا تھا کہ راستے میں  غفور بھائی سبزی والے ملے. کہنے لگے: “بی جے پی کا جیتنا مسلمانوں کی انتشار کی وجہ سے ہے، ان انصاریوں نے مسلمانوں میں انتشار کررکھا ہے، اس کے ذمہ دار یہ خان لوگ بھی ہیں،غفور بھائی سبزی والے کہنے لگے: “ہمیں چاہئے کیلے کی طرح ایک جٹ رہیں،آلو کی طرح مضبوط رہیں، کدو کی طرح پھیلاؤ ہو ہم میں اور اگر کوئی دین اور شریعت پر حملہ ہو تو ہم ٹماٹر کی طرح لال ہوجائیں اپنوں کے لئے ہم لوکی کی طرح نرم ہوں اور ہمارے بیچ کسی کی دال نا گل سکے. ہم نے کہا جی جی.. وہاں سے واپس ہورہے تھے یہ سوچتے ہوئے کہ لگتا ہے اب اتحاد کے لئے کوئی تعویذ بنوانا ہی پڑے گا جو سب کو پلایا جاسکے
واپسی میں دیکھا تو صوفی ندیم چوراہا بنی اسرائیل پر کھڑے ہوکر لوگوں سے بے خوف رہنے کی تلقین کررہے تھے. کمال ہے! پہلے تو کہہ رہے تھے صوفی جی کہ: بی جے پی آئی تو مسلمان غیر محفوظ رہے گا. اب کہتے ہیں بے خوف رہو.. کمال ہے جگ جگ جیو صوفی جی. حکومت بدلی تو صوفی جی کی زبان بھی تو بدلے گی…

(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker