Baseerat Online News Portal

ممتاز شخصیت مولانا کفیل احمد علویؔ کا انتقال

دیوبند۔۱۳؍مارچ:( پریس ریلیز)آئینہ دارالعلوم دیوبند کے سابق ایڈیٹر و ممتاز ادیب و مقبول ترین شاعر مولانا کفیل احمد علوی نے ۱۲؍مارچ ۲۰۱۷؁ء بروز اتوار مطابق ۱۲؍جمادی الثانی ۱۴۳۸؁ھ علالت کے باعث دوپہر۲ بج کر ۲۲ منٹ پر اپنے آبائی مکان دیوبند میں آخری سانس لی اور جان ،جان آفریں کے سپرد کردی۔،انا اللہ وانا الیہ راجعون ۔ مرحوم تقریباً ۸۲ برس کے تھے ۔۔ان کے انتقال سے دیوبند کی علمی،ادبی اور صحافتی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ مرحوم نے طویل عرصہ تک دیوبند کے افق پر جودینی و مذہبی شعر و ادب اور تحریر میںکارہائے نمایاں انجام دیا ہے وہ صدیوں یا د رکھا جائے گا۔مرحوم کے انتقال پر مرکز التراث الاسلامی دیوبند میں ایک تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا، اس نشست میں مرکز التراث الاسلامی کے سرپرست مولانا شاہ عالم گورکھپوری نے کہا کہ مولانا کفیل احمد علویؔ دارالعلوم دیوبند کے مایہ ناز استاذ حدیث حضرت مولانا جلیل احمد صاحب کیرانوی کے صاحبزادے اور دارالعلوم دیوبند کے سنجیدہ و اہل فکرو نظر اساتذہ میں سے تھے ،حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ سے شاگردی کی نسبت حاصل تھی۔ ۱۹۵۷؁ء مطابق ۱۳۷۷؁ھ سے دارالعلوم دیوبند میں مختلف علمی سر گرمیوں سے وابستہ رہے۔ اولاً شعبہ دینیات سے بحیثیت استاذوابستہ ہوئے پھر آگے چل کر اپنی خداداد صلاحتیوں کے باعث صدر شعبہ بھی بنائے گئے ۔۱۹۸۵؁ء سے دارالعلوم دیوبند کے پندرہ روزہ اخبار آئینہ دارالعلوم دیوبند کے ایڈیٹر بنائے گئے جو ۲۰۰۹؁ء میں بعض قانونی سقم کی بناپر بند ہوگیا۔مولانا اسعد اﷲ بستوی صاحب نے موصوف کے پسماندگان سے اظہارتعزیت کرتے ہوئے بتایا کہ آپ۱۴۱۶؁ھ مطابق۱۹۹۵؁ء شیخ الہند اکیڈمی کے ناظم بنائے گئے۔مرحوم مسلم فنڈ دیوبند کی مجلس منتظمہ کے رکن بھی تھے۔ موصوف ایک قادرالکلام شاعر بھی تھے، آپ کا مجموعہ کلام شوق منزل شائع ہو کر منظر عام پر آچکا ہے۔ آپ کی کئی نظمیںبہت مشہور ہوئیں جو ملک و بیرون ملک پڑھی گئیں۔مولانا اشتیاق احمد مبلغ کل ہند مجلس نے مرحوم کی صفات حسنہ پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ بہت متواضع، کم گو اور بردبار شخصیت کے مالک تھے ۔ پسماندگان میں تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔دیر رات نماز جنازہ کے بعدقاسمی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔مرحوم کے لئے مرکز التراث الاسلامی میں ایصال ثواب اور ترقی درجات کے لئے دعاء کا نظم کیا گیا۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور درجات بلند فرمائے۔مرحوم کے انتقال پر،جناب ماسٹر نظام الدین صاحب ،مولانا مقبول عالم چمپارنی ،مولانا محمد حذیفہ گجراتی، مولانا بادشاہ کیرالوی،محمد احمد ایم اے گورکھپوری ، مولوی عبد الماجد اور مولوی عبد اﷲ متعلمین تحفظ ختم نبوت وغیرہ نے گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے پسماندگان سے تعزیت مسنونہ کا اظہار کیا۔

You might also like