فقہی سیمینارمضامین ومقالات

تجاویزفقہی سیمینار

بسم اللہ الرحمن الرحیم
اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیاکے بین الاقوامی چھبیسویں فقہی سیمینارمیں متفقہ رائے سے منظورکئے گئے تجاویز
(1)
تجاویز بابت: سرکاری اسکیموں سے استفادہ

۱- وہ سرکاری قرضے جن کا کچھ حصہ معاف کردیا جاتا ہے، اور لی ہوئی رقم سے کم واپس کرنا پڑتا ہے ایسے قرضوں کا لینا جائز ہے۔
۲- وہ قرضے جن میں ایک مقررہ مدت کے اندر واپس کرنے پر معافی ہوتی ہے ورنہ پوری رقم ادا کرنی پڑتی ہے، ایسے قرضوں کا لینا بھی درست ہے۔
۳- وہ قرضے جن میں مقررہ مدت کے بعد قرض واپس کرنے پر کل رقم کی واپسی کے ساتھ زائد رقم بھی ادا کرنی پڑے ایسے قرضے بلاضرورت شدیدہ لینا جائز نہیں ہے۔
۴- وہ قرضے جن کی واپسی پر اصل سے زائد رقم ادا کرنی پڑتی ہو وہ ناجائز ہے البتہ اگر وہ دیندار ماہرین اور معتبر اصحاب افتاء کی رائے کے مطابق اس جیسے عمل کے لئے واقعی سروس چارج کہلانے کے لائق ہو اور کسی طرح بھی سود لینے کا حیلہ نہ ہو تو لینے کی گنجائش ہے۔
۵- قرض پر لی جانے والی زائد رقم کا اوسط معمولی نہ ہو کہ جس کو انتظامی خرچ پر محمول کیا جاسکے وہ رقم سود ہے اور عام حالات میں ایسا قرض لینا جائز نہیں ہے۔
۶- مکان یا بیت الخلاء کی تعمیر یا تعلیمی ضروریات وغیرہ کے لئے گورنمنٹ کی طرف سے امداد کے طور پر جو رقم ملتی ہے اس کو حاصل کرنا اور اس کا استعمال کرنا درست ہے۔
۷- رشوت لینا اور دینا جائز نہیں ہے، البتہ گورنمنٹ کی طرف سے ملنے والی رقوم حاصل کرنے کا طریقہ کار سے کوئی شخص واقف نہ ہو یا کسی وجہ سے اس کو انجام دینے پر قادر نہ ہو اور وہ کسی ایسے شخص کی مدد حاصل کرے جو اس کے حصول کے لئے تگ ودو اور جدوجہد کرتا ہو اور یہ کوشش اس کی ذمہ داری میں داخل نہ ہوتو بطور محنتانہ مناسب مقررہ اجرت کا لین دین درست ہے۔
۸- امدادی رقوم یا قرض حاصل کرنے کے لئے جو شرائط و معیارات حکومت کی طرف سے متعین ہوں اس سلسلہ میں غلط بیانی سے کام لینا اور غلط طریقہ پر امداد یا قرض حاصل کرنا درست نہیں ہے۔
۹- تعلیم یا کسی اور مقصد کے لئے حکومت عوام کو بینک سے قرض دلائے اور اس پر عائد ہونے والی زائد رقم خود مقروض کو ادا نہ کرنا پڑے بلکہ خود حکومت ادا کرے تو اس طرح کا قرض لینا درست ہے۔
۱۰- جن اسکیموں میں حکومت نے محفوظ فنڈ قائم کرکے اس کو بینک میں ڈپازٹ کردیا اور اس کے انٹرسٹ سے حاصل شدہ رقم کا مالک ہوکر تعلیمی و رفاہی اداروں اور افراد و اشخاص کا تعاون کرتی ہے، ایسی اسکیموں سے فائدہ اٹھانے کی گنجائش ہے۔
۱۱- دوسری قومی اکائیوں کی طرح مسلمانوں کا بھی سرکاری خزانہ میں حق ہے، اس لئے سرکاری اسکیموں سے مسلمانوں کو استفادہ کرنا چاہئے، بشرطیکہ اس میں کوئی ایسی بات نہ ہو، جو شرعاً ممنوع ہے۔
۱۲- شرکاء سمینار مسلم دانش وروں، تنظیموں اور اداروں کے نمائندوں اور ذمہ داروں کو توجہ دلاتے ہیں کہ سرکاری جائز اسکیموں کا لوگوں میں زیادہ سے زیادہ تعارف کرائیں اور بلا معاوضہ ممکنہ تعاون کی صورت پیدا کریں۔
٭٭٭
(2)
تجاویز بابت: زمین کی خرید و فروخت سے متعلق مسائل

۱- شہر کی ضرورتوں سے وابستہ اراضی یا وہ اراضی جن کو حکومت نے کسی ضرورت کے لیے متعین کر رکھا ہے، پر قبضہ غصب ہے اور غاصبین سے ایسی اراضی کی خرید و فروخت جائز نہیں ہے، لیکن وہ اراضی جو شہروں کی ضرورتوں سے فاضل ہیں، یا حکومت نے اس کو کسی ضرورت کے لیے خاص نہیں کیا ہے ان کی خرید و فروخت کی گنجائش ہے، بشرطیکہ قانونی تقاضوں کی تکمیل کرلی جائے۔
۲- غیر مجاز طور پر اوقاف کی زمین کو فروخت کرنا ناجائز اور سخت گناہ ہے اور ایسے غاصبین سے اس کا خرید کرنا بھی درست نہیں ہے۔
۳- مورث کے انتقال کے بعد فوراً ہی ورثہ کے درمیان ترکہ کی تقسیم ہونی چاہئے؛ لیکن اگر ترکہ کی تقسیم نہیں ہوسکی اور کسی وارث نے مشترک اراضی کو فروخت کردیا تو یہ فروختگی صرف اس فروخت شدہ جائیداد میں اس کے حصہ کے بقدر محدود رہے گی اور اس کے حصہ سے زائد میں دیگر ورثہ کی اجازت کے بغیر درست نہیں ہوگی۔
۴- حرام مال سے جو زمین و جائیداد خریدی گئی ہے، حقیقت حال سے واقف حضرات کے لئے اس کا خریدنا جائز نہیں ہے، ہاں! لاعلمی کی صورت میں خریدنے سے خریدار کی ملکیت ثابت ہوجائے گی۔
۵- الف: کالونی بسانے کی خاطر جو لے آوٹ منظور کرایا جاتا ہے، اس کی خلاف ورزی درست نہیں ہے، لیکن اس کی وجہ سے وہ زمین کالونی بسانے والے کی ملکیت سے خارج نہیں ہوتی ہے؛ اس لئے منظور شدہ نقشہ کے برخلاف اپنے نقشہ کے مطابق بھی بیچنے کی گنجائش ہے بشرطیکہ اس میں ضروری عوامی مفادات متاثر نہ ہوتے ہوں۔
ب: نقشہ کے مطابق قطعات کی فروخت ہوجانے کے بعد مفاد عامہ کے لئے متعین قطعات کی خرید و فروخت جائز نہیں ہے۔
۶- مسجد مسلمانوں کی اہم ترین دینی ضرورت ہے، اس لئے کالونی بننے سے پہلے اگر کالونی بنانے والا پلے گراؤنڈ وغیرہ جیسے مفاد عامہ کی زمین کو مسجد کے لئے تبدیل کردیتا ہے، نیز مسجد کے لئے مطلوبہ شرائط بھی پائی جاتی ہیں تو اس پر مسجد بنانا درست ہوگا اور وہ مسجد شرعی تصور کی جائے گی؛ البتہ کالونی بن جانے کے بعد مفاد عامہ کے قطعات سے تمام باشندگان کا حق متعلق ہوجاتا ہے؛ اس لئے باہمی رضامندی سے ہی مسجد بنائی جاسکتی ہے۔
۷- کالونی بسانے میں مسلمانوں کو چاہئے کہ قانونی طریقہ اختیار کریں؛ لیکن دشواریوں کے پیش نظر کالونیاں بسالی جائیں تو اس کی گنجائش ہے؛ البتہ قانونی منظوری حاصل کرنے کی کوشش جاری رکھیں۔
۸- حتی الامکان سودی قرض سے بچنا لازم ہے؛ البتہ ضرورت کے وقت بینک سے قرض لیکر مکان خریدنے اور زمین خرید کر کالونیاں بسانے کی گنجائش ہے۔
۹- کالونی بسانے کے لئے نقشہ میں دکھائے گئے پلاٹ نمبر کی تعیین سے مبیع متعین ہوجاتی ہے اور خرید و فروخت کا یہ عمل درست ہے اور کالونی بسانے والے کیلئے اس میں کسی طرح کا تغیر و تبدل جائز نہیں ہے۔ اور اگر زمین کے بیچے گئے حصہ پر بیچنے والا خریدار کی اجازت سے کاشت بھی کرتا رہتا ہے تب بھی خریدار اس کا مالک رہے گا۔
۱۰- الف: زمین و جائیداد کی بیع میں قبضہ ضروری نہیں ہے صرف ملکیت میں آجانا کافی ہے؛ اس لئے زمین اگر کالونی بنانے والے کی ملکیت میں آگئی ہو تو اس کو فروخت کرسکتا ہے اور خریدنے والا اس کو خرید سکتا ہے۔
ب: اگر زمین ملکیت میں نہیں آئی بلکہ ابھی صرف وعدۂ بیع ہوا ہے اور اس وعدہ کو مستحکم کرنے کے لیے بیعانہ کی رقم دی گئی ہے تو وہ اس کو آگے فروخت نہیں کرسکتا۔
ج: کالونی بسانے والا مالک زمین سے اپنی مرضی کے مطابق زمین کو فروخت کرنے اور مدت متعینہ میں قیمت ادا کرنے کا معاملہ طے کرلیتا ہے اور اس کے لیے بیعانہ کے نام پر کچھ رقم بھی ادا کردیتا ہے تو یہ معاملہ کرنا اور اس کی خرید و فروخت کرنا شرعاً جائز ہے؛ البتہ اگر فروخت کرنے کے بعد آئندہ قبضہ دلانے میں کوئی قانونی رکاوٹ پیش آتی ہے تو اس کی پوری ادا کردہ قیمت واپس کرنی لازم ہوگی۔
۱۱- دلال کے ذریعہ خرید و فروخت کا یہ طریقہ جس میں زمین اور مالک زمین کا کچھ پتہ نہ ہو، ناجائز نہیں ہے۔
۱۲- پلاٹس کے مالک کا معاملے کو اس طرح مشروط کرنا کہ جب خریدار بیچنا چاہے تو بیچنے والے سے ہی فروخت کرسکتا ہے، جائز نہیں ہے؛ البتہ بغیر کسی پیشگی شرط کے معاملہ کیا جائے پھر معاملہ کے دونوں فریق اپنی رضا و رغبت سے اپنی سہولت کے لیے اس طرح کا وعدہ کرلیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
۱۳- قسطوں پر زمین کی خریداری کی یہ شکل کہ ’اگر متعینہ مدت تک قیمت ادا نہیں کی گئی تو معاملہ کینسل ہوجائے گا‘ اگر اس کی وضاحت معاملہ کے وقت ہی کردی جائے تو اس طرح کا معاملہ کرنا جائز ہے اور مقررہ وقت پر پوری قسطیں ادا نہ کرنے کی صورت میں اس کو صرف اپنی جمع کردہ قسطوں کی واپسی کا حق ہوگا۔
۱۴- دلال کی اجرت جائز ہے، مگر اجرت کا معلوم ہونا اور معاملہ کا صاف ستھرا ہونا ضروری ہے، لہٰذا زمین کی خرید و فروخت کے دلال کا ایک فریق سے قیمت کو چھپاکر زیادہ لینا یا جھوٹ بول کر زیادہ لینا جائز نہیں ہے۔
۱۵- دلال کا قبضہ نہ دلانا بیع کے تقاضا کے خلاف ہے اور ظلم ہے، نیز شرط لگانا کہ جب بھی بیچنا ہو ہم سے بیچنا ہوگاشرط فاسد ہے جو کہ جائز نہیں ہے۔
٭٭٭

(3)
تجاویز بابت: سونا چاندی کی تجارت سے متعلق مسائل

آج مورخہ ۶؍ مارچ ۲۰۱۷ء کو سونا چاندی کی تجارت سے متعلق چند مسائل کے سلسلہ میں تجویز ساز کمیٹی نے درج ذیل تجاویز پر اتفاق کیا:
۱- کرنسی سے سونا چاندی خریدا جائے تو یہ بیعِ صرف نہیں ہے، اس لئے بدلین میں سے کسی ایک کا ادھار ہونا درست ہے۔
۲- سونے چاندی کی مقررہ نرخ سے زیادہ یا کم قیمت پر خرید و فروخت درست ہے۔
۳- سونے چاندی کی زیور سازی میں نکلنے والے ذرات کو اجرت بنانا درست ہے، جب کہ مقدار میں ایسی جہالت نہ ہو جو نزاع کا سبب بنے، البتہ بہتر ہے کہ الگ سے اجرت متعین کی جائے۔
۴- سونے چاندی کے پرانے زیورات کا نئے زیورات سے کمی بیشی کے ساتھ تبادلہ جائز نہیں ہے، اگر تبادلہ کرنا ہی ہے تو پرانے کو قیمتاً بیچ دے اور پھر اس قیمت سے نیا زیور خرید لے۔
۵- کمیوڈٹیز ایکسچینج میں سونے چاندی کی اس طرح خرید و فروخت درست نہیں ہے کہ مبیع اور ثمن پر قبضہ ہی نہ ہو اور صرف خریداری اور ادائیگی کے وقت نرخ میں جو کمی بیشی آتی ہے، اس کا لین دین کرلیا جائے۔
۶- گراں فروشی کی نیت سے سونے کی ذخیرہ اندوزی احتکار کے دائرہ میں داخل نہیں ہے، البتہ اس کو روک کر رکھنے کی صورت میں دوسری ضروری اشیاء کی قیمتیں متاثر ہوتی ہوں تو اس سے بچنا چاہئے۔
۷- اسمگلنگ غیر قانونی عمل ہے، لہٰذا اس طریقہ پر سونے کی خرید و فروخت سے بچنا چاہئے، لیکن اس راہ سے کسی نے سونا خرید لیا ہے تو وہ اس کا مالک ہے۔
۸- پلاٹینیم سونا نہیں ہے، لہٰذا عقود نیز زکاۃ وغیرہ میں اس پر سونے کے احکام جاری نہیں ہوں گے۔
٭٭٭

(4)
تجاویز بابت: فضائی و صوتی آلودگی

صحت مند زندگی کے لئے ایک پاکیزہ ماحول کی ضرورت ہے؛ لیکن جدید ٹکنالوجی کی وجہ سے جہاں بہت سے فوائد حاصل ہوئے ہیں، وہیں بہت سی ایسی چیزیں بھی وجود میں آ رہی ہیں، جن سے صحت اور زندگی کو خطرات لاحق ہیں؛ اس لئے قدرتی اور فطری ماحول کی حفاظت کے لئے درج ذیل تجاویز منظور کی جاتی ہیں:
۱- تمام ضرورتوں میں حتی الامکان کم آلودگی پھیلانے والے ایندھن کا استعمال کیا جائے اور قدرت و استطاعت کے باوجود زیادہ آلودگی پھیلانے والے ایندھن کے استعمال سے گریز کیا جائے۔
۲- گاڑیوں میں ایسے ایندھن کے استعمال کو ترجیح دی جائے جس سے کم سے کم آلودگی پیدا ہوتی ہو اور اگر اس سلسلہ میں حکومت کی جانب سے ہدایات موجود ہوں تو ان کی پابندی کی جائے۔
۳- روشنی اور دیگر مقاصد کے لئے جن ذرائع کا استعمال کیا جاتا ہے، مثلاً جنریٹر وغیرہ، ان میں بھی کم سے کم آلودگی پیدا کرنے والے ایندھن کا استعمال کیا جائے اور اگر حکومتی ہدایات اس سلسلہ میں موجود ہوں تو ان کو ملحوظ رکھا جائے۔
۴- جن علاقوں میں شمسی توانائی کا حصول آسان اور مفید ہو وہاں اس کا استعمال بہتر ہے ۔
۵- کارخانوں اور فیکٹریوں کی آلودگی پر قابو پانے کے لئے حکومت نے جو قوانین بنائے ہیں، ان کی پابندی ضروری ہے؛ البتہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس کے لئے مناسب سہولیات فراہم کرے۔
۶- جانور کے ناقابل استعمال اجزاء کے سلسلہ میں ایسی تدابیر اختیار کی جائیں، جن سے تعفن اور ماحول میں آلودگی پیدا نہ ہو۔
۷- بلاضرورت پلاسٹک کی تھیلیوں کے استعمال سے احتراز کیا جائے اور اس کے متبادل وسائل کے استعمال کو ترجیح دی جائے۔
۸- تمباکو اور اس سے بنی اشیاء کے استعمال سے احتراز کیا جائے، خاص طور پر عوامی مقامات پر اس کا استعمال نہ کیا جائے۔
۹- عوامی جگہوں پر قضائے حاجت جائز نہیں ہے۔ اسی طرح حتی الامکان کھلی نالیوں میں فضلات کے بہانے سے احتراز کیا جائے۔
۱۰- عوامی مقامات پر تھوکنا مکروہ اور ناپسندیدہ ہے اور اگر حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں ہدایات ہوں تو ان پر عمل کرنا چاہیے۔
۱۱- شعاع خارج کرنے والے الکٹرانک آلات (فریج، واشنگ مشین، موبائل، اے سی وغیرہ) کے ضرورت سے زیادہ استعمال سے اجتناب کرنا چاہئے۔
۱۲- اسلام میں شجرکاری کی بڑی اہمیت ہے؛ اس لئے بلا ضرورت جنگلات اور ہرے درختوں کو کاٹنے سے احتراز کیا جائے۔
٭٭٭

صوتی آلودگی

صوتی آلودگی اس دور کا انتہائی اہم مسئلہ ہے اور اس سلسلہ میں ہونے والی بے اعتدالیاں اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں؛ اس لئے:
۱- پُرشور مشینوں کے سلسلہ میں جو سرکاری ہدایات جاری کی جاتی ہیں، ان کی پابندی کی جائے۔
۲- غیر ضروری ہارن بجانا یا بہت تیز آواز کا ہارن لگانا درست نہیں اور اس سلسلہ میں حکومتی ہدایات کی پاسداری لازم ہے۔
۳- DJ اور ضرورت سے زیادہ تیز آواز پیدا کرنے والے آلات کا استعمال کرنا درست نہیں ہے، کیونکہ اس کی آواز انسانی صحت اور ماحول کے لئے بھی سخت نقصاندہ ہے۔
۴- جلسوں اور مشاعروں میں ضرورت سے زیادہ لاوڈ اسپیکر کا استعمال درست نہیں ہے اور اس سلسلہ کے قوانین کی پابندی کرنی چاہیے۔
٭٭٭

(بصیرت فیچرس)

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker