مضامین ومقالات

کون تھیں بھان متی ؟

ایس اے ساگر
اردو ادب میں مشہور ہے کہ’بھان متی نے کنبہ جوڑا، کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا ؛روڑا یعنی کنکر پتھر۔ اگر بے مصرف اور بے جوڑ چیزوں کو ملا کر کام نکالنے کی کوشش کی جائے یا کسی گروہ میں ایسے لوگ ہوں جو آپس میں بنیادی اختلافات رکھتے ہوں تو یہ کہاوت استعمال کی جاتی ہے۔فکشن کی آڑ میں’شیطانی آیات ‘ کے ذریعہ سیدھے سادے عوام کے ذہنوں کو پراگندہ کئے ہوئے ابھی زیادہ وقت نہیں گذرا ہے کہ’بھان متی نے کنبہ جوڑا، کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا‘ کہاوت کو بنیاد بناکر ’اہل ادب‘ نے کہنا شروع کردیا ہے کہ’ ’تقریباً سب ہی لوگ اس کے معنی سے بھی واقف ہیں۔ اسے اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب ادھر ادھر سے چیزیں پوری کر کے کام چلانے کی تدبیر کی جائے۔جیسے کسی منسٹری میں کوئی نیا محکمہ کھولا جائے تو اس کے عملے کی بھی اور فرنیچر کی بھی ضروریات پوری کرنے کیلئے دوسرے محکموں سے لوگ لئے جاتے ہیں اور ضرورت کا سامان بھی۔ یا ٹی وی کا کوئی نیا چینل کھلے تو اس کو بھی جو آدمی جہاں سے مل جائے اسے لے کر کام شروع کر دیا جاتا ہے۔ یہ کہاوت عموماً طنز کے پیرائے میں استعمال کی جاتی ہے یا حقارت آمیز لہجے میں۔
مگر کتنے لوگ جانتے ہیں کہ
بھان متی کا کیا مطلب ہے؟
بھان ہندی لفظ ہے جس کے معنی کرن، شعاع، روشنی کے ہوتے ہیں۔ اس کو کبھی سورج کے معنوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔مت بھی ہندی لفظ ہے جس کے معنی عقل اور سمجھ کے ہیں۔ اسی لئے عام محاورہ ہے مت ماری جانا، یعنی عقل چوپٹ ہوجانا۔ بدھ مت، ہندو مت میں اسے علم، راستے یا طریقے کے معنے میں لیا جا سکتا ہے۔ عربی لفظ مذہب کے لغوی معنی بھی راستے کے ہیں۔بھان مت کا مطلب ہے عقل کی روشنی۔ اس کو آپ سائنس بھی کہہ سکتے ہیں۔ بھان متی وہ عورت جو عقل کی روشنی میں کام کرتی ہو۔ کبھی کبھی ایسے مرد کیلئے بھان متا کی ترکیب بھی استعمال کی جاتی ہے۔اصطلاحی معنوں میں بھان متی ایسے لوگوں کو کہتے تھے جو عقل کی روشنی، سدھ بدھ کو استعمال کرتے ہوئے کام کرتے تھے، جیسے شعبدے بازی یا پتلیوں کا کھیل۔ ایسے کام کرنے والے اپنے کام کیلئے جو پتلیاں یا دوسری چیزیں استعمال کرتے تھے وہ ادھر ادھر پڑی ہوئی لکڑیوں سے بنائی جاتی تھیں اور اگر ان کے گھر بنانا ہوں تو کہیں سے کوئی اینٹ اٹھالی اور کہیں سے کوئی روڑا اور گھر بنا لیا۔ اسی طرح پھٹے پرانے کپڑے استعمال کرتے ہوئے ان کے لباس بنائے جاتے تھے۔تو بھان متی کو جب اپنا تماشہ دکھانا ہوتا تھا تو وہ ادھر ادھر سے چیزیں جمع کر کے اپنا کام شروع کرتی تھی۔ اس پس منظر سے یہ کہاوت چلی۔قابل غوربات یہ ہے کہ زمانہ قدیم میں ایسے لوگوں کی تحقیر نہیں کی گئی بلکہ انہیں عقل کی روشنی سے کام لینے والوں کا نام دے کر توقیر کی گئی۔ جبکہ ہمارے روایتی نظام میں عقل کو گمراہی کے معنوں میں لیا گیا اور تقلید کو ہدایت سمجھا گیا۔‘‘
کیا کہتے ہیں اہل علم؟
مندرجہ بالا عبارت پڑھنے کے بعد اب اہل علم کا موقف جانئے جن کے مطابق’’ تقلید کا لفظ صرف ایک چیز میں استعمال ہورہا ہے ،اگر چہ اس کے معنی اور بھی ہوں گے ،اسی وجہ سے گویا ایک خاص معنی کیساتھ مخصوص ہوگیاہے اوروہ معنی ہیں قرآن و سنت اور اجماع کی روشنی میںتخریج کردہ فقہی مسائل میں چار مشہور ائمہ ؛امام اعظم ابو حنیفہ،امام شافعی،امام مالک اور امام احمد بن حنبل رحم اللہ علیہم سے کسی ایک کی تقلید کرنا ،ان کے اجتہاد پر اعتماد کرتے ہوئے عمل کرنا۔لہذا اس طرح عقل و سمجھ کی روشنی میں کوئی اہم کام کرنے کے مقابلہ دوسروں کے پیچھے بغیر سوچے سمجھے چلنے لگنا جیسے میڈیا وغیرہ کی باتوں پر اعتماد وغیرہ،اس کو تقلید کے لفظ سے تعبیر کرنا یا تو انتہائی ناواقیت کی دلیل ہے یا انتہائی چالاکی اور دجالیت کی دلیل ہے ۔جو لفظ اسلامی نکتہ نظر سے کسی خاص معنی میں استعمال ہو رہا ہو اس سے اس طرح کھیلنا گمراہوں کی علامت ہے ۔اگر غلطی سے اس قسم کی پوسٹ نقل ہوگئی تو بات دیگر ہے لیکن آئندہ ایسی مخصوص اصطلاحات کا استعمال بہت سوچ سمجھ کر کرنا چاہئے۔‘‘
کیا ہے حقیقت؟
کہتے ہیں کہ بھان متی ہندوستان کی ریاست چتوڑ میں کافروں کے درمیان روشنی کا منارہ تھیں۔ ظلمت و کفر کے پروردہ انہیں اپنے جیسا سمجھ کر ان کا مذاق اڑا رہے تھے۔وہ بظاہر ایک مجذوبہ کی شکل میں نظر آنے والی خاتون تھیں۔ لیکن درحقیقت تمام ریاست چتوڑ میں وہ واحد خاتون تھیں۔ جو کفرسے بیزار توحید پرستی کی شمع کو اپنے سینے میں چھپائے بیٹھی تھیں۔ اور جس وقت کافر وزیر کی صاحبزادی کے خفیہ ایمان لانے کے بعد اسے اپنے گھر میں پناہ دیکر علاالدین خلجی کے معتوب سفیر کو اپنے گھر لے آئی تھیں۔ تب کفر کے پرستار ان کا مذاق اڑانے کیلئے یہ جملہ’ بھان متی نے کنبہ جوڑا، کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا‘ پھبتی کسنے کیلئے استعمال کیا کرتے تھے۔ کیوں کہ بھان متی نے نہ ہی شادی رچائی تھی۔ اور نہ ہی تمام چتوڑ میں کوئی ان کا رشتہ دار تھا۔ بس اسلام کے رشتے سے انہوں نے مسلم سفیر کو اپنا بیٹا اور وزیر زادی کو اپنی بیٹی بنا لیا تھا۔ اور کفار انہی دونوں پاکباز کرداروں کو اینٹ ، روڑے سے تشبیہ دیا کرتے تھے۔اب کتنی بدنصیبی کی بات ہے۔ کہ کل تک کفار جو طعنہ اللہ کی ایک ولیہ کو دیا کرتے تھے۔ جو کہ نا صرف مسلم سفیر و مسلم وزیر دادی کی محسنہ تھیں بلکہ ہندوستان کے تمام مسلمانوں کی محسنہ تھیں کہ مسلمانوں کے سفیر کی مدد فرمارہی تھیں۔ ہم بجائے ان کے احسان مند ہوتے۔ آج تک ہنود کی روش اپناتے ہوئے ناسمجھی میں وہی طعنہ اپنے مسلمان بہن بھائیوں کو بھی دیتے ہیں۔
دجالی نظام سے رہیں محتاط:
اہل علم کے نزدیک دور حاضر میںمیڈیاکی طاقت تسلیم شدہ ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیامیڈیا کوئی قتل کرتا ہے،آگ لگاتا ہے،بم بلاسٹ کرتا ہے؟نہیں بلکہ یہ میڈیا اور تحریریں ایک خطرناک کھیل ہے جو لفظوں سے کھیلا جاتا ہے۔ذرا چوکے کہ تباہی پھیلادے۔یہ اللہ کا احسان ہے کہ اس باریک جملہ پر ذہن میں اچانک جھٹکا لگا ورنہ پورا مضمون سوائے ایک لفظ’بھان متی‘کی تحقیق کے کچھ نہیں ہے ،پھر اس میں تقلید جیسی اہم شرعی اصطلاح کو داخل کرنے کا کیا مطلب ؟درحقیقت یہ ایک یہ دجالی نظام کا ایک حصہ ہے ۔مومن وہ ہے جو ہر چیز پر نظر تیز رکھے ،بالخصوص مذہب کے معاملہ میں کہ جب تک جان میں جان باقی ہے اسلام کی شناخت کو اس کی اصلی ہیئت پر باقی رکھنے کی کوشش کرنا ہمارا فرض ہے۔اللہ پاک ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے!
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker