Baseerat Online News Portal

دارالقضااہمیت وافادیت

مولانامنعام الدین رحمانی
معاون قاضی شریعت دار القضاء امارت شرعیہ
اللہ ہی وہ ذات ہے جو ساری کائنات کا خالق ہے ، انسان مرد ہوں یا عورت، باپ بیٹے ہوں یا بھائی بہنیں ، گورے ہوں یا کالے ، کوئی سا بھی خاندان ہو یا قبیلہ ، غرض کہ ہر انسان اور کائنات کی تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا وہی ہے ، وہ جانتا ہے کس چیز کو اس نے کس لئے پیدا کیا اور کس شئی کے اندر کس بوجھ کو اٹھانے کی صلاحیت ہے ، وہ کسی کا محتاج نہیں ، اسی لئے وہ پوری انسانیت کے ساتھ عدل وانصاف کا برتاؤ کرتا ہے ، اور اس نے اپنا پسندیدہ دین اسلام قرار دیا ، اور اسے مکمل نظام حیات بنایا۔ لہذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ خدا کے ہر حکم پر عمل کرے اور نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ اور سیرت طیبہ کی اتباع کرے ۔
اسلام در اصل سپردگی اور حوالگی کا نام ہے ، جب تک انسان پورے طور پر اپنے کو خدا کے حوالہ نہ کر دے اور اس کے حکم کے آگے سر نہ جھکادے اس وقت تک اسلام ہماری زندگی میں نہیں آ سکتا اور نہ مسلم معاشرہ میں اس کی برکت نظر آسکتی ہے ، اللہ کا حکم ہے ۔’’ اُدْخُلُوْا فِیْ السِّلْمِ کَآفَّۃً‘‘ (سورۃ بقرۃ آیت ۲۰۸) یعنی اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ ، مطلب یہ کہ ایسا نہیں کہ بعض حکم پر عمل کریں اور بعض کو چھوڑ دیں خواہ عبادات ہوں یا معاملات یا مکارم اخلاق ہو یا معاشرتی مسائل غرض ہر شعبہ زندگی میں اسلامی تعلیمات پر مکمل طور پر عمل کرنا ہوگا۔
افسوس ہے کہ ہمارے سماج کا ایک بڑ اطبقہ اسلام کی بنیادی اور معاشرتی تعلیمات سے بالکل بے گانہ ہے ، خصوصا ہماری نئی نسل جو عصری تعلیم گاہوں میں تعلیم وتربیت پا کر نکل رہی ہے ، اسلام کے بنیادی عقائد اور عائلی قوانین سے نہ صرف بے گانہ، بلکہ ناواقف ہے ، نکاح ، طلاق ، میراث اور دوسرے عائلی مسائل کے بارے میں اسلامی تصورات وتعلیمات سے اکثر مسلمان نا واقف ہیں، خاندان کے افراد دوسرے کے حقوق اور اپنے فرائض سے بے خبر ہیں۔
اسلامی تعلیمات سے نا واقفیت اور صحیح اسلامی تصورات سے دوری کا نتیجہ ہے کہ ہماری خانگی زندگی کا سکون غارت ہو چکا ہے ، اور ہر شخص دوسرے سے بر سر پیکار ہے ، ہر آن نئے نئے تنازعات وجود میں آ رہے ہیں، شوہر بیوی سے نا خوش ، بیوی شوہر سے تنگ ، والدین اولاد سے نالاں، اولاد والدین سے شاکی ، پھر یہ خانگی معاملات ونزاعات گھر کی چہار دیواری تک محدود نہیں رہتے، بلکہ بعض اوقات فتنہ وفساد ، قتل وقتال ، اور عدالتی چارہ جوئی کی صورت اختیار کر لیتے ہیں، جبکہ پوری دنیا میں اسلام ہی وہ واحد دین ہے جو دین ودنیا کا جامع ہے ، وہ ایک طرف انسان کا رابطہ خالق کے ساتھ استوار کرتا ہے اور دوسری طرف مخلوق کے ساتھ اس کا تعلق جوڑتا ہے ، دینی امورمیں ایک مسلمان توحید ، رسالت ، آخرت ، فرشتوں ، کتابوں، او رتقدیر کے اچھا یا برا ہونے پر ایمان لانے کا پابند ہے ۔
اسی طرح دنیوی امور میں سے نکاح ، طلاق ، خرید وفروخت ، وراثت ، ہبہ ، وقف ، وصیت اور اسی طرح دوسرے معاملات میں بھی شریعت پر عمل پیرا ہونا اس پر فرض ہے، کیونکہ کسی بھی قوم کی نشو ونما اور تعمیر وترقی کے لئے نظام ِعدل وانصاف ایک بنیادی ضرورت ہے جس سے مظلوم کی مد دونصرت ، ظالم کے ظلم کا قلع قمع اور جھگڑوں کا فیصلہ ہو سکے ، اس طرح حقوق کو ان کے مستحقین تک پہونچا یا جاتاہے تا کہ معاشرے کے ہر فرد کی جان ومال ، عزت وآبرو ، اور مال واولاد کی حفاظت کی جا سکے ، چنانچہ اس کے لئے دین اسلام کی تعلیمات میں سے ایک اہم تعلیم یہ ہے کہ مسلمان اپنے جملہ امور میں اللہ، اس کے رسول اور جو مسلمانوں کے ا میر ہوں ان کی اطاعت کریں ، حکم خدا وندی ہے ۔’’یَآ اَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْآ اَطِیْعُوْا اللَّٰہَ وَاَطِیْعُوْا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ الآیۃ(سورۃ نساء آیت۵۹)کہ اے ایمان والو تم اللہ کا کہنا مانو اور رسول کا کہنا مانو اور تم میں جو امیر ہیں ان کا بھی ، پھر اگر کسی معاملہ میں تم باہم اختلاف کرنے لگو تو اس معاملہ کو اللہ اور اس کے رسول کے حوالہ کر دو اگر تم اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہو، یہ سب باتیں بہتر ہیں اور ان کا انجام اچھا ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ اسلام نے قضاء یعنی قیامِ عدل کا غایت درجہ اہتمام کیا ہے اور اسے انبیاء کرام کی سنت بتایا ہے، اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں میں فیصلہ کرنے کا حکم د یتے ہوئے فرمایا ۔ ’’وَاَنِ احْکُمْ بَیْنَھُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ‘‘(المائدۃ آیت۴۹) کہ (اے نبی کریم ؐ) آپ لوگوں کے درمیان اللہ کی نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلہ کریں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حیات طیبہ میں مسلمانوں کے لئے دین ودنیا کے تمام امور میں مرجع کی حیثیت رکھتے تھے، آپ کی ذات مبارکہ میں حاکم ، قائد، مربی، مرشد ، اور منصفِ اعلیٰ کی تمام خصوصیات جمع تھیں ، جو لوگ آپ کے فیصلے پرر اضی نہیں ہوئے، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے ۔ ’’ فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ حَرَجاً مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْماً‘‘(سورۃ النساء آیت۶۵) کہ (اے پیغمبر ؐ) قسم ہے آپ کے رب کی کہ یہ لوگ اس وقت تک مومن نہ ہوں گے جب تک اپنے جھگڑوں کا فیصلہ آپ سے نہ کرائیں، پھر آپ کے فیصلے پر اپنے دلوں میں کوئی پریشانی (تنگی) نہ محسوس کریں اور وہ اسے دل وجان سے قبول کریں ۔
اور اس سے بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ اسلام نے عورتوں کو جو حقوق دیئے ہیں اور انہیں جو مقام عطا کیا ہے دنیا کے کسی مذہب اور کسی قانون میں شاید ہی اس کی مثال مل سکے، لیکن مشکل یہ ہے کہ ہمارے ملک کے عدالتی نظام نے ان حقوق کے حاصل کرنے کو بہت ہی دشوار بنا دیا ہے ، مقدمات کی طویل کارروائیاں اور اخراجات کے بوجھ کی وجہ سے مظلوموں کو اپنا حق حاصل کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ۔ لہذا قانون شریعت سے فائدہ اٹھانے کے لئے دار القضاء کا نظام نہ صرف شرعی نقطۂ نظر سے، بلکہ سماجی اعتبار سے بھی نہایت ضروری اور اہم ہے؛ اس لئے کہ مسلمان خواہ کسی خطہ میں ہوں انہیں اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے دائرہ میں رہتے ہوئے ہی زندگی گذارنی ہے اور کتاب وسنت کے فیصلوں کے سامنے ہمیشہ سر تسلیم خم رکھنا چاہئے اور ہمیں تو دستور ہند کے دفعہ نمبر ۲۵؍ اور ۲۶؍ کے تحت اس ملک کے ہر باشندے کو اپنے مذہب پر عمل اور اس کے فروغ کے لئے کوشش نیز اپنے مذہبی معاملات کو منظم کرنے اور انہیں حل کرنے کی اجازت دی گئی ہے ، انہی جیسے خوابوں کو شر مندہ تعبیر کرنے مظلوموں اور خاص طور سے عورتوں کو ظلم وستم سے نجات دلانے ، ان کو اسلام کے دیے ہوئے حقوق اور عدل وانصاف دلانے کے لئے اللہ رب العزت نے مفکر اسلام حضرت مولانا ابو المحاسن محمد سجاد ؒ کے ہاتھوں امارت شرعیہ کا قیام عمل میںلایا جو تقریبا ایک صدی سے اپنے قیام مقاصد کے تحت عمل پیرا ہے ، اور جہاں’’ وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعاً‘‘(سورۃ اٰل عمران آیت ۱۰۳) کے تحت ایک امیر کی اطاعت کرتے ہوئے بلا تفریق مذہب وملت عدل وانصاف کی نعمت حاصل ہو رہی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے شریعت کے مطابق فیصلے کو بلا چوں چرا تسلیم کر لینے کو جزوایمان قرار دیتے ہوئے (جیسا کہ مذکورہ آیت میں آیا ) قرآن کریم میں مومنوں کی شان بیان فرمائی ۔ ’’اِنَّمَا کَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْا اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ لِیَحْکُمَ بَیْنَھُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَاط وَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ‘‘ (سورۃالنورآیت ۵۱)کہ مومنوں کی شان تو یہ ہے کہ جب اللہ اور اس کے رسول کی طرف فیصلے کے لئے بلائے جائیں تو ان کا جواب اس کے سوا کچھ نہ ہو کہ ہم نے حکم سنا اور حکم مانا ۔ یقینا ایسے ہی لوگ ہیں جو (دنیا اور آخرت ) میں کامیاب ہوئے۔
مذکورہ آیات کا حاصل یہ ہے کہ مسلمان جس طرح عبادات میں ا للہ اور رسول کے حکم کے پابند ہوتے ہیں، اسی طرح ان پر تمام معاملات اور باہمی تنازعات وحقوق کے بارے میں بھی قوانین اسلام کی پابندی لازم ہے ، نیز دنیا وی لحاظ سے بھی یہ بات نا مناسب ہے کہ جو مقصد آسانی سے مسلمانوں کو اپنی قومی عدالت (دار القضاء) سے حاصل ہو جائے اس کے لئے دوسروں کے پاس جا کر زیر باری، پریشانی ، اور بے عزتی اور اور ذلت برداشت کی جائے ، اس لئے ہر مسلمان کا فرض ہے کہ دار القضاء میں اپنے معاملات پیش کرے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے آگے اپنا سر جھکائے۔
دین ودنیا کی سر خروئی وبھلائی کا یہی سیدھا راستہ ہے ، اور نفس امارہ کے حکم پر نہ چلے کہ وہ ہمیشہ بری باتوں کی طرف لے جاتا ہے ، اس کا بہترین نقشہ قرآن کریم نے کھینچا ہے ۔
’’اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَۃٌ بِالسُّوٓئِ‘‘(سورہ یوسف آیت۵۳) کہ نفس امارہ تو بری باتوں کا ہی حکم دیتا ہے۔
لہذا ایک مسلمان پر لازم ہے کہ وہ تمام معاملات اور آپسی جھگڑوں کو نظامِ دار القضاء کے ذریعہ حل کرائے اسی طریقہ میں امن وسلامتی ہے اور اللہ کی رضا کا ذریعہ بھی ہے اور تمام زیر باریوں سے راحت ونجات بھی ۔

دار القضاء میں درخواست دائر کرنے کا طریقہ
اگر قاضی شریعت امارت شرعیہ کی عدالت میں کوئی شخص دعویٰ دائر کرنا چاہے تو عرضی دعویٰ (درخواست مقدمہ) میں مندرجہ ذیل امور کاخیال رکھے۔
۱ درخواست کے سر نامہ پر
بعدالت دارالقضاء امارت شرعیہ، بہار، اڑیسہ وجھارکھنڈ…
لکھے، خالی جگہ پر اس مقام کانام لکھے جہاں کے دارالقضاء میںدرخواست دیناہے۔
۲ اس سرنا مہ کے نیچے (مقدمہ نمبر…… ؁ھ ) لکھ کرجگہ خالی چھوڑدے ،اسے دارالقضاء کے کارکن پُر کریںگے۔
۳ اس کے بعد درخواست دینے والے کانام، اس کے والد کانام، مقام وڈاک خانہ،وایا، تھانہ،بلوک، ضلع، صوبہ اورپن کوڈ نمبرلکھ کر آخر میں مدعی یامدعیہ لکھ دیاجائے۔
۴ اس کے نیچے درمیان میں بنام لکھ کر جس کے خلاف درخواست دینی ہو اس کا نام ، والد کانام ، مقام ،ڈاک خانہ ، وایا، تھانہ،بلوک، ضلع ،صوبہ اورپن کوڈ نمبر لکھاجائے اور آخر میں مدعاعلیہ یا مدعا علیہا لکھ دیا جائے۔
۵ اس کے بعد قاضی شریعت کو مخاطب کرتے ہوئے دعویٰ سے متعلق واقعات کی تفصیل لکھ دی جائے۔
۶ اسباب اورواقعات کی تفصیل کے بعد درخواست دہندہ کو چاہئے کہ مدعا علیہ کے خلاف اس کا جو مطالبہ ہو، اسے صاف صاف اور واضح کرکے لکھے اور یہ کہ وہ کیا چاہتا ہے۔
۷ درخواست کے آخر میں درخواست دہندہ کا دستخط یا نشان انگوٹھا بھی ضروری ہے،اگر درخواست پر نشانِ انگوٹھا لگایاجائے تو درخواست لکھنے والے کو چاہئے کہ اس کے نیچے نشان انگوٹھا لگانے والے کانام لکھ کردستخط کردے کہ میرے سامنے یہ نشان انگوٹھا لگایا گیاہے۔
۸ ہردرخواست کے ساتھ اس کی ایک نقل(فوٹی کاپی) شامل ہونا ضروری ہے،اگر مدعا علیہ چند ہوں تو مدعیٰ علیہم کی گنتی کے مطابق درخواست کی نقلیں آنی چاہئیں۔
۹ درخواست مکمل کرلینے کے بعد بذریعہ رجسٹری ڈاک یا دستی ،درخواست قاضی شریعت کے پتہ پر بھیج دی جائے۔
۱۰ ۔ درخواست دائرنمبر ہونے کے لئے ضروری ہے کہ مبلغ …روپے اخراجات ڈاک کے لئے بذریعہ’منی آرڈر یا دستی دارالقضاء میں داخل کیے جائیں، روپے اگر منی آرڈرسے بھیجے جائیں تو کوپن پردرخواست کا حوالہ دے دیا جائے ۔
۱۱ ۔درخواست ہمیشہ فل اسکیپ سائز (بڑے سادہ) کے کاغذ پر لکھی جائے۔
۱۲۔ مناسب یہ ہے کہ فریقین کا پتہ صاف صاف انگریزی میں بھی لکھ دیا جائے۔ فریقین اپنا موبائل نمبر لکھیں اور شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی بھی لگادیں۔
۱۳۔مدعا علیہ (فریق دوم ) کے دو رشتہ داروں اور اس کے محلہ/بستی کے دو معززین کے نام مع ولدیت، پتے اور پن کوڈ اردو وانگریزی میں بھی الگ سے لکھ دئے جائیں۔نمونہ درخواست درج ذیل ہے۔
بعدالت دارالقضاء امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ وجھارکھنڈ …
مقدمہ ………… ؁ھ
مسماۃ……بنت/ولد…ساکن…ڈاکخانہ…وایا…تھانہ…… ضلع…پن کوڈ… مدعیہ /مدعی
بنام
مسمی……ولد/بنت……ساکن…ڈاکخانہ…وایا…تھانہ……ضلع…پن کوڈ…مدعاعلیہ/مدعا علیہا
بحضور جناب قاضی شریعت صاحب دارالقضاء امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ وجھارکھنڈ ……گذارش خدمت یہ ہے کہ…
(اس ہدایت کے مطابق دوسرے کاغذ پر درخواست بھیجی جائے۔)
عرضی
نام درخواست دہندہ ……بقلم …… تاریخ تحریر ……
دستخط یا نشانِ انگوٹھا درخواست دہندہ
8
نوٹ:۔ اس مضمون کو شائع کرنے کا مقصد صرف عوام الناس کو اپنے معاشرتی مسائل کو حل کرنے کے لئے شرعی دار القضاء کی طرف متوجہ کرناہے آپ سے گذارش ہے کہ آپسی مسائل کو حل کرنے کے لئے دنیاوی عدالت میں رجوع کرنے کے بجائے دینی اور شرعی عدالت دار القضاء سے رجو ع کریں اوردیگر حضرات جو خاندانی یا ازدواجی مسائل سے دوچار ہیںانہیں بھی مشورہ دیں اور ان کی راہ نمائی فرمائیں۔ اللہ آپ کو بہتر بدلہ دے گا۔
مزید جانکاری کے لئے دار القضاء امارت شرعیہ سے کتاب الفسخ والتفریق اور رہنمائے دارالقضاء منگوا کر پڑھیں۔
(بصیر ت فیچرس)

You might also like