Baseerat Online News Portal

اجودھیا تنازعہ پر عدالت کے مشورے کا متعدد وزراء نے خیر مقدم کیا

نئی دہلی، 21 مارچ (یو این آئی) اترپردیش کے اجودھیا میں بابری مسجد- رام مندر معاملے کو عدالت سے باہر آپسی رضامندی سے حل کرنے کی عدالت عظمی کی صلاح کا مرکزی وزیر سیاحت مہیش شرما اور مرکزی وزیر آبی وسائل اوما بھارتی نے خیر مقدم کیا ہے۔ مسٹر مہیش شرما نے اس فیصلے پر فوری رد عمل ظاہر کرتے ہوئے صحافیوں سے کہا کہ وہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ بات چیت سے رام مندر بنائے جانے کا راستہ ہموار ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ فریقوں کو ساتھ لے کر بات چیت کی جائے گی اور مسئلے قابل قبول حل تلاش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مرکز اور اتر پردیش دونوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہونے سے اس معاملے میں اس سے قبل آنے والی رکاوٹیں اب نہیں رہیں گی اور اس طرح سے ترقیاتی کاموں میں بھی رفتار آئے گی۔ حکومت اور پارٹی کی سوچ ہے کہ اجودھیا میں رام مندر بننا چاہیے۔ مسٹر مہیش شرما نے کہا کہ رام مندر کوئی سیاسی مسئلہ نہیں ہے بلکہ وہ کروڑوں عقیدتمندوں کے جذبات کا معاملہ ہے اور سپریم کورٹ نے جو راستہ اپنایا ہے اس پر آگے چل کر اس مسئلے کو حل کرلیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی وزارت نے رامائن سرکٹ کے لئے 154 کروڑ روپے مختص کئے ہیں اور عدالت کے اس فیصلے سے اس کام میں اور تیزی آئے گی۔محترمہ اوما بھارتی نے بھی کہا کہ یہ معاملہ عدالت سے باہر حل کیا جا سکتا ہے۔

You might also like