Baseerat Online News Portal

ایودھیا انہدام معاملے میں سپریم کورٹ کے مشورے کو مسترد نہیں کیا جانا چاہیے: بخاری

نئی دہلی،21 مارچ (یو این آئی) دہلی کی جامع مسجد کے شاہی امام سید احمد بخاری نے بابری مسجد انہدام کے معاملے کے حل کے لیے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے مشورے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے آج کہا کہ اس مشورے پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی اس طرح کی تجاویز آتی رہی ہیں لیکن آج تک اس کا کوئی قابل قبول حل نہیں نکل سکاہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ اس بار چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس جے۔ایس۔ کبیر نے خود یہ مشورہ دیا ہے اس لئے اسے مستردکرنے کی بجائے اس پر مسلمانوں کو سنجیدہ سے غور کرنا چاہیے۔
شاہی امام نے مزید کہا کہ 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کے انہدام کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے جس میں جان و مال کا اتلاف ہوا تھا ۔ اس لئے متاثرین کے ساتھ انصاف ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے ذریعے بڑے بڑے مسائل حل ہوجاتے ہیں اس لیے بات چیت کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہنا چاہیے۔ اگر بات چیت کے ذریعے کوئی حل نہیں نکل سکا تو پھر اس مسئلے کا آخری حل عدالت میں ہی ہوگا۔
خیال رہے کہ بابری مسجد انہدام کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس جے۔ ایس، کبیر نے اس کیس کے دونوں فریقوں کو آپس میں مل بیٹھ کر دوستانہ ماحول میں اس مسئلے کو حل کرنے کا مشورہ دینے کے ساتھ ہی اپنی ثالثی کی پیشکش بھی کی ہے۔

You might also like