Baseerat Online News Portal

مسلمانوں کووقف املا ک کی بازیابی کیلئے کمر بستہ ہونا ہوگا: شبیر احمد انصاری

وقف املا ک اللہ کی امانت ہے جو قوم امانت کی حفاظت نہیں کرسکتی اس کی ترقی کیسے ممکن ہے۔
بیڑمیں منعقدہ تحریک اوقاف کے جلسہ میں شہریان کی کثیر تعدادمیں شرکت
ترقیاتی کاموں کے لیے تحویل میں لی گئی وقف اراضی کا کروڑں روپیہ بیڑ کلکٹر کے پاس جمع ہے آپسی نااتفاقی وجہ سے مسلمانوں کو اس کا کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہاہے۔
بیڑ ۲۱؍مارچ(نامہ نگار)وقف بورڈکا قیام مسلمانوں کی درگاہوں،مساجد،خانقاہ،قبرستانوں کی حفاظت کے لیے آیا تھا۔ افسوس آج وقف بورڈ کے ذمہ داران اورحکومتوں کی مہربانیوں کی وجہ سے ہزاروںکرورڑکی املاک کوکوڑیوں کے داموںمیں سرمایہ داروں اور بلڈروں کی جھولیوں میںڈال دیاگیا ہے اور یہ سب مہاراشٹرکی سابقہ حکومت کے دوراقتدارمیںہواہے ،اس میں کچھ ہماری بھی کوتاہیوں کو بھی دخل ہے کہ ہم نے بروقت مخالفت نہیں کی اگر ہم اس وقت مخالفت کرتے تو آج یقینا ہزاروں ایکڑ زمین مسلمانوں کے قبضہ و تصرف میںہوتی ۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان ،مسلم ریزروریشن مورچہ کے طرز پرپوری ریاست میں وقف املا ک کے لیے تحریک چلائیں اور اگر ہم نے اب بھی کوئی ٹھوس اقدام ولائحہ عمل طئے نہیں کیاتو جو کچھ بچا کچا ہے وہ بھی ہمارے ہاتھوں سے نکل جائے گا۔ان خیالات کا اظہار گزشتہ دنوں میں بیڑ میں منعقدہ مختلف کامگار بھون میں تحریک اوقاف کی جانب سے وقف املاک کی موجودہ صورتحال اور ہمارا رویہ کے عنوان سے منعقدہ اجلا س عام میں جس میں بیڑ شہر کی ذہبی،سماجی تنظیموں کے ذمہ داران کی کثیر تعداد موجود تھی آل انڈیا مسلم او بی سی آرگنائزیشن کے قومی صدر اور’تحریک اوقاف ‘ کے صدر شبیراحمد انصاری نے کیا۔ انہوںنے یہ بھی کہاکہ وقف بورڈآج کرپشن کا اڈہ بناہواہے ۔ بورڈ ممبران کی آپسی رسہ کشی ،مستقلCEOنہ ہونا ،بجٹ کی قلت،ملازمین کا وفقدان اور ہزاروں فائلوں کا انبارو قف بورڈمیںلگا پڑاہے ۔ابتداء میںتحریک اوقاف کے جنرل سیکریڑی مرزاعبدالقیوم ندوی نے نشست کی غرض و غایت اور تحریک اوقاف کے قیام کا مقصد بتاتے ہوئے حاضرین سے اپیل کی کہ وہ اس تحریک کو تقویت پہنچائیںکیونکہ اس طرح کی کوئی تحریک اس سے قبل مہاراشٹر میںچلائی نہیں کی گئی ہے۔بلاشبہ کچھ جماعتوں ،تنظیموں و انفرادی طورپر وقف املاک کے تحفظ کے لیے کوششیں کئی گئیں مگر وہ زیادہ دیر وپاو ثمرآور نہیں ہوسکی ۔اب ہمیں متحد ومنظم ہوکر منصوبہ بند طریقے سے اس تحریک کو چلانا ہے۔بیڑ کے ریٹائرڈ پی ایس آئی مصباح اللہ نے اپنے خطاب میں کہاکہہ ہمارے نوجوانوںکووقف قوانین سے واقفیت ضروری ہے۔ انہوںنے اپنے طویل تجربات بھی پیش کیں۔بیڑ کے سنیئر قائد اور سماجی رہنما عبدالخالق پینٹر نے کہا کہ اس وقت بیڑ میں ایک اندازے کے مطابق تقریباََ ۲۲ہزار کے قریب وقف املاک ہے جو ہنوزمسلمانوں کے دسترس سے باہر ہے اور یہ اراضی مختلف درگاہوں اورمسجدوںکے لیے وقف کئی گئی ہیں ،جامع مسجد بیڑکی433ایکڑ زمین ہے جو آج اپنوںکے کرم سے غیروں کے قبضے میں ہے۔ ۶۲؍ ایکڑ زمین عید گاہ ،۹ ؍ ایکڑ زمین حضرت شاہ ولی کی جس میں سے کچھ راستے کے لیے دی گئی تھی جس کا 3کروڑ97لاکھ روپیے آج بھی کلکڑ کے پاس جمع ہے ۔ایک عام غلط فہمی یہ پائی جاتی ہے کہ وقف اراضی 99سال کے لیے کرایہ پر دی جاتی تھی یہ سب غلط ہے اس طرح کا کوئی قانون نہ تو وقف ایکٹ میں ہے اور نہ ہی ملک کے کسی قانون میں اس کا ذکر ہے۔ اس غلط بیانی کی وجہ سے آج مہاراشٹر میں ہزاروں ایکڑ زمین کرایہ کے نام پر غیر وں کے قبضے میں چلی گئیںہیں۔ اجلاس کی صدرات جمعیۃ العلماء مولانا ذاکر صاحب فرمارہے تھے۔انہوںنے کہا کہ قرآن و حدیث میںوقف املا ک کے بارے میں تفصیل سے احکامات درج ہیں ہمیں چاہئے کہ ہم اس پرعمل کریں ۔انہوںنے آخرمیں یہ بھی کہا کہ وقف املا ک اللہ کی امانت ہے جو قوم امانت کی حفاظت نہیں کرسکتی اس کی ترقی کیسے ممکن ہے۔ مہمانان خصوصی کی حیثیت سے اسٹیج پرشفیع بھائی ،غضنفرجاویدسنیئرصحافی اورنگ آباد،غفران انصاری موجودتھے ۔ خورشید عالم نے پروگرام کو کامیاب بنانے میں بڑی محنت کی ۔ر محمد رفیق باغبان نے مہمانان کا استقبال کیا ۔نشست میں ،بابا قمر الدین ،نسیم بھائی انعامدار،عبدالحفیظ انعامدار،شیخ معین الدین پینٹر،شیخ طیب ،سید فاروق منیار،غلام دستگیر سیٹھ ،حفیظ انعامدار،شفیق رسول تنبولی ودیگرتنظیموں کے ذمہ دار کثیر تعداد میں موجود تھے۔

You might also like