مضامین ومقالات

تنازع بابری مسجد۔ باہمی گفتگو ، نئی بات نہیں!

تجزیہ خبر۔ رشید انصاری
سپریم کورٹ نے بابری مسجدکے مقدمہ میں الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف کی گئی اپیل کی سماعت کرتے ہوئے یہ ریمارک کیا ہے کہ چونکہ یہ معاملہ حساس نوعیت کا ہے اور مذہب اور عقیدہ سے جڑا ہوا ہے اس لئے بہتر ہے کہ دونوں فریق باہمی گفتگو سے مسئلہ حل کرلیں اگر ضرورت پڑی تو سپریم کورٹ بھی ثالثی کیلئے تیار ہے۔
سپریم کورٹ نے درحقیقت کیا کہا ہے اس کی تفصیلات ہمارے سامنے نہیں ہیں اس لئے سپریم کورٹ کے ریمارک پر کوئی تبصرہ یا رائے زنی نہیں کرسکتے ہیں۔ تاہم یہ بتادیں کہ باہمی گفتگو یا مل بیٹھ کر تنازع حل کرنے کی بات کوئی نئی نہیں ہے۔ بابری مسجد پر 23؍دسمبر 1949ء کو ہندتووادیوں کے ناجائز قبضہ کے بعد یوپی کی پولیس اور انتظامیہ چاہتی تو مورتیوں کو ہٹاکر آسانی سے تنازع ختم کرسکتی تھی اور یہ کارروائی جس قدر سرعت سے کی جاتی مسئلہ اتنا ہی آسان ہو تا لیکن انتظامیہ زیرسرپرستی پنڈت گووندولبھ پنت چاہتی یہی تھی کہ کسی بھی طرح مسجد مسلمانوں کو واپس نہ کی جائے اور مسجد کو مندر بنادیا جائے۔ اس وقت یوپی کے وزیر داخلہ لال بہادر شاستری تھے لیکن پنت کے آگے وہ مجبور تھے۔ پنت کو اس معاملے میں سردار پٹیل کی جو وزیر داخلہ تھے مکمل حمایت و مدد حاصل تھی۔ پنت نے اسی لئے مسجد سے مورتیوں کو فوری ہٹانے کی پنڈت نہرو کی بھی تجویز نہیں مانی اور زبردست فساداور خون خرابے کا ڈربتاکرمسئلے کو ٹالتے رہے۔
بیرسٹر اے جی نورانی نے برسوں قبل مدراس (چنئی ) کے انگریزی رسالے ’’فرنٹ لائن ‘‘ میں اس سلسلے میں سردار پٹیل سے گووند ولبھ پنت کی خط و کتابت شائع کی تھی جس میں بتایا گیا ہے کہ پٹیل نے ہی پنت کو مشورہ دیا تھاکہ مسلمانوں کو راضی کیا جائے کہ وہ مسجد سے دستبردار ہوجائیں اور بھائی چارے اور یکجہتی کی خاطر خوش گوار ماحول میں مسئلہ نمٹالیا جائے۔ اس سلسلے کی بات چیت میں لو اور دو کا سوال نہیں ہے۔ مندر بنانے والے چاہتے ہیں کہ ان کی ناجائز کارروائی اورصریح دھاندلی کو مسلمان جائز تسلیم کرکے مسجد کی جگہ مندر بنانے کے لئے ہندوؤں کو مسجد دے دیں یا ہندو مندر بنانے کے دعوے سے دستبردار ہوکر مورتیاں ہٹالیں۔ ظاہر ہے کہ یہ دونوں صورتیں ناممکن ہیں۔ کئی بار بات چیت ہوئی اور ناکام رہی ہے۔ پتہ نہیں سپریم کورٹ کی اس بارے میں کیا سوچ ہے؟
(بشکریہ ممبئی اردو نیوز) 

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker