Baseerat Online News Portal

ممبئی میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے واقعات کیوں رونما ہوتے ہیں ؟

ممبئی پولیس کیلئے ایک سوال، چیتاکیمپ کشیدگی معاملےمیں ملوث ملزمین کےپس پشت عناصر کی بھی پولیس کو تلاش
ممبئی ،۲۱مارچ:(نمائندہ خصوصی )ممبئی میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے واقعہ نے پولیس کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آخر فرقہ وارانہ تنائو اور مجمع مشتعل کیوں ہوتا ہے اور اسکی کیا وجوہات ہوتی ہیں۔ کیا اس مجمع کو مشتعل کرنے والوں کا کوئی مقصد کارفرما ہوتا ہے جو اسے اپنے فائدے کیلئے استعمال کرتے ہیں ؟۔ممبئی کے شمالی مضافات مسلم اکثریتی علاقہ چیتاکیمپ میں فرقہ وارانہ کشیدگی کی اصل وجوہات معلوم کر نے کیلئے پولیس اپنے طور پر تحقیقات کر نے کے ساتھ ایسے عناصر کی بھی جانچ کر رہی ہے جس کو اس فرقہ وارانہ کشیدگی سے فائدہ ہوسکتا ہے یا پھر قصداً سیاسی صورتحال اورفرقہ وارانہ ماحول کومکدر کرنے کیلئے یہ تشدد برپاکیا گیا تھا۔ پولیس اس معاملے کی بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا مشتعل مجمع نے پولیس اسٹیشن کو ہی اپنا تشدد کا نشانہ کیوں بنایا۔ کیونکہ پولیس اسٹیشن نے پہلے ہی اس معاملہ میں مذہبی جذبات مجروح کر نے کی شکایت درج کر لی تھی اور اس لکھی ہوئی شکایت کوباقاعدہ مجمع کو بتایابھی گیاتھا۔ پہلے مجمع خاموشی سے ایک مرتبہ چلا گیا تھااسکے بعد دوبارہ مجمع نے پولیس اسٹیشن پر حملہ کر کے وین کو نذر آتش کر کے آتشزنی کیوں کی؟ کیا مجمع کو کسی نے پولیس اسٹیشن پر حملہ کر نے کے لئے اشتعال دلایا تھا یا پھر مجمع کو ورغلا کر پولیس اسٹیشن پر لایاگیا تھا؟ایسی صورت میں مجمع کے پاس ہتھیار اورمٹی کا تیل کہاں سے آیا اورمجمع نے بوتل بم کا استعمال کیسے کیا ؟ پولیس ہر زاویے سے اس معاملے کی تہہ تک جانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایم آئی ایم کے کارپوریٹر شاہنواز حسین کو تو پولیس نے تشدد برپاکرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس اس کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ آیا سیاسی فائدہ حاصل کر نے کیلئے تو یہ تشدد برپا نہیں کیا گیا۔ پولیس نے اپنے طور پر چیتا کیمپ علاقہ میں مخبروں کو بھی سرگرم کر دیا ہے کہ یہ مجمع کیوں مشتعل ہوا تھااس کی وجہ معلوم کی جائے کیونکہ مجمع کے مشتعل ہونے کی کوئی وجہ ہی پولیس کے سامنے نہیں آرہی ہے۔ پولیس اس معاملہ کو سیاسی اور سماج دشمن عناصر کی سازش کے عینک سے بھی دیکھ رہی ہے جبکہ اس کے پس پشت کون لوگ کارفرما تھے اس کی بھی تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔ پولیس کے اعلی افسران اورممبئی پولیس کمشنر دتاترے پڈسلگیکر بذات خود اس معاملے میں گہرائی سے جانچ کررہے ہیں کہ آخر مجمع کارروائی کے باوجود تشدد پر کیوں آمادہ ہوا؟ پولیس اسٹیشن کی سطح پر بھی کارروائی سے متعلق مکمل تفصیلات اور ہر پہلو کی جانچ کی جارہی ہے ۔ پولیس کے اعلی افسران یہاں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے قیام کیلئے عوام میں جاکر انہیں یہ اطمینان بھی دلا رہے ہیں کہ انہیں خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ بے قصوروں کو پولیس ہراساں و پریشان نہیں کرے گی۔ ایسی صورت میں بھی چیتا کیمپ کے مسلمانوں میں خوف وہراس پایا جارہا ہے اور یہ دہشت اس قدر بڑھ گئی ہے کہ مسلم نوجوان تشدد کے بعد سے ہی اپنا گھر بار چھوڑ کر دیگر مقام یا اپنے رشتہ داروں کے یہاں تک منتقل ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

You might also like