Baseerat Online News Portal

چیتا کیمپ فرقہ وارانہ کشیدگی کے بعد مسلمانوں پر پولیس کی زیادتی

مقامی لوگوں کا بلا وجہ مسلم نوجوانوں پر تشدد برپا کر نے کا الزام , رضا اکیڈمی کے وفد نے زخمیوں کی عیادت کی
حالات سے مکمل واقفیت کے بعد ہم اس معاملے میں اعلی افسران سے دوبارہ گفت و شنیدبھی کریں گے : سعید نوری
ممبئی ۲۱؍مارچ ۔ چیتا کیمپ فرقہ وارانہ کشیدگی کے بعد بھی یہاں مسلمانوں میں اس قدر خوف وہراس پایا جارہا ہے کہ مسلم نوجوان صبح اپنا گھر بار چھوڑ کر نکل جاتے ہیں اور رات دیر گئے تک گھر واپس آتے ہیں چیتا کیمپ کے مقامی لوگوں نے ایک طرف پولیس پر زیادتی کا بھی الزام عائد کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ فرقہ وارانہ کشیدگی کے بعد یہاں گھر کادروازہ توڑ کر پولیس نے مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے جبکہ ایسے دونوجوان بھی پلاسٹک کی گولیوں کی فائرنگ میں زخمی ہوئے ہیں جن کا اس تشدد سے کوئی تعلق نہیں تھا اس میں ایک نوجوان محمدعثمان 16 سالہ اور محمد ایوب شامل ہے اور فی الوقت جے جے اسپتال میں زیر علاج ہیں ان دونوں نوجوانوں کی عیادت اور سارے معاملے کی تفصیل جاننے کیلئے رضا اکیڈمی کے سر براہ الحاج محمد سعید نوری کے ہمراہ صحافی خلیل زاہد , مولانا خلیل الرحمن نوری , صابرخان پہنچے تو چیتا کیمپ کے مقامی لوگوں نے بتایا کہ پولیس مسلم نوجوانوں پر اس قدر برہم ہے کہ پہلے انہیں وہ تشدد کا نشانہ بناتی ہے اس کے بعد انہیں ہی گرفتار کیا جارہا ہے کچھ ایسے نوجوانوں کو بھی پولیس اپنا تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے جن کا اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے محمد رفیق نامی چیتا کیمپ کے ساکن نے بتایا کہ پولیس کا خوف علاقے میں طاری ہے اور ہر کوئی خوفزدہ ہے کہ اپنے گھر کے نوجوانوں کی کیسے حفاظت کرے۔ پولیس پر ظلم و زیادتی کا الزام عائد کرتے ہوئے رفیق نے بتایا کہ پولیس نے ایک دسویں کے طالب علم کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا اور گھر والوں کے ہال ٹکٹ بتانے کے باوجود اس کی ہال ٹکٹ ہی پھاڑ دی اس طرح سے پولیس اب فرقہ وارانہ کشیدگی کے بعد مسلمانوں پر ظلم و ستم اور زیادتی کر رہی ہے ۔سعید نوری نے بتایا کہ ہم نے زخمیوں کی عیادت کی ہے اور حالات سے واقفیت کے لئے مقامی لوگوں سے رابطہ بھی کیا ہے اس معاملے میں ضرورت پڑنے پر ہم چیتا کیمپ کا دورہ بھی کریں گے اور ساتھ ہی پولیس کے اعلی افسران سے ایک مرتبہ پھر ملاقات کی جائے گی ۔

You might also like