Baseerat Online News Portal

آپ کے شرعی مسائل

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
کہنیوں سے نیچے تک کے ٹی شرٹ میں نماز
سوال:- آج کل ٹی شرٹ پہننے کا رواج بڑھتا جارہا ہے ، ان میں بعض تو اتنی چھوٹی ہوتی ہے کہ کہنی بھی کھل جاتی ہے اور بعض کی آستین کہنیوں سے نیچے تک ہوتی ہے ، اس طرح کی ٹی شرٹ پہن کر نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے ؟ (حمید اللہ شریف ، عنبر پیٹ )
جواب:- اس طرح کے قمیص جس میں کہنیاں کھلی ہوئی ہوں نماز کی حالت میں پہننا مکروہ ہے ، اگر آستین اتنی لمبی ہو کہ کہنیاں ڈھک جائیں تو صحیح یہ ہے کہ ایسے کپڑے میں نماز پڑھنا مکروہ نہیں ہے ، اگرچہ بہتر ہے کہ پوری آستین ہو :
وقید الکراھۃ فی الخلاصۃ والمنیۃ بأن یکون رافعاً کمیہ الٰی المرفقین وظاھرہ أنہ لا یکرہ الی مادونھا ۔ ( ردالمحتار : ۱؍۶۴۰)
عورت جماعت میں مرد سے کتنی پیچھے کھڑی ہو ؟
سوال:- زید اگر مسجد نہیں جاپاتا ہے تو گھر پر ہی اپنی بیوی کے ساتھ جماعت کرلیتا ہے ؛ تاکہ جماعت کے ثواب سے محروم نہ ہوجائے اور جیساکہ آپ حضرات بتاتے ہیں کہ عورت کو نماز میں پیچھے کھڑا ہونا چاہئے تو اگر نماز میں ایک ہی عورت ہو تو کیا اس کا پچھلی صف کی طرح کھڑا ہونا ضروری ہے ؟ یا وہ اپنے شوہر کی دائیں جانب اس طرح کھڑی ہو جس طرح ایک مرد دوسرے مرد کے بازو کھڑا ہوتا ہے ؟ (عبد المومن ، قادری چمن )
جواب:- بہتر صورت یہی ہے کہ عورت ایک صف کے بقدر پیچھے کھڑی ہو؛ چنانچہ رسول اللہ ا کے ساتھ جب حضرت عبد اللہ بن عباسؓ اور حضرت میمونہؓ نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو آپ نے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کو اپنی دائیں جانب کھڑا کیا اور حضرت میمونہؓ کو اپنے پیچھے ؛ لیکن عورت کا اتنا پیچھے کھڑا ہونا ضروری نہیں ، کتنا پیچھے ہونا چاہئے ، اس سلسلہ میں ایک نقطۂ نظر کے مطابق اگر عورت کے پاؤں کا اگلا حصہ مرد کے پاؤں کے پچھلے حصے کے مقابل ہو ، پنڈلی اور ٹخنہ ایک دوسرے کے برابر نہ ہو تو یہ کافی ہے اور یہی زیادہ درست ہے ، دوسرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ عورت کا پورا قدم مرد کے پورے قدم سے پیچھے ہو ، یعنی پنڈلی اور ٹخنے کا پیچھے ہونا کافی نہیں ؛ بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے پاؤں کا اگلا حصہ بھی مرد کی ایڑیوں سے پیچھے رہے ؛ اس لئے احتیاط اس میں ہے کہ اگر تنہا بیوی شوہر کے ساتھ نماز پڑھ رہی ہو تو اس کا پاؤں مرد کی ایڑی سے پیچھے ہو :
المعتبر فی المحاذات الساق والکعب فی الأصح وبعضھم اعتبروا القدم اھ فعلیٰ قول البعض لو تأخرت عن الرجل ببعض القدم تفسد ، وان کان ساقھا وکعبھا متأخرا عن ساقہ وکعبہ وعلیٰ الأصح لا تفسد الخ ۔ ( ردالمتحار : ۱؍۵۷۲ ، کتاب الصلاۃ)
اگر رات میں ایک جگہ قیام کرے اور دن میں مختلف علاقوں میں؟
سوال:- میں بیڑی کے پتوں کا تاجر ہوں ، ہم پتوں کی خریدی کے لئے شہر میںقیام کرتے ہیں ، رات وہیں گزرتی ہے اور دن میں کاروبار کے سلسلے میں بھی قریب کے جنگل میں اور کبھی دوسری آبادی میں جانا ہوتا ہے ، اس طرح مہینہ دو مہینہ شہر میں قیام رہتا ہے ، ایسی صورت میں ہمیں نمازوں میں قصر کرنا چاہئے یا پوری پڑھنی چاہئے ؟ (عبد الستار ، فلک نما)
جواب:- اگر رات کا قیام ایک جگہ طے کرتا ہے اور دن میں مختلف مقامات پر جاکر اپنی جگہ واپس آجاتا ہے ، تو اگر اس طرح پندرہ دن یااس سے زیادہ قیام کا ارادہ ہوتو وہ مسافر ہے اور اس کو چار رکعت والی نمازوں کو دو رکعت پڑھنا چاہئے :
ولو نویٰ الإقامۃ فی موضعین خمسۃ عشر یوما لا یصیر مقیما ، إلا أن ینوی أن یقیم لیالیھا فی أحدھما وأیامھا فی أخریٰ ، فإنہ یصیر مقیما ، إذا دخل القریۃ التی نوی الإقامۃ فیھا خمسۃ عشر لیلۃ ولا یصیر مقیماً بدخولہ أولاً فی القریۃ الأخریٰ ۔ (خلاصۃ الفتاویٰ ، باب صلاۃ المسافر : ۱؍۱۹۹ ، ط :اشرفیہ دیوبند ، نیز دیکھئے : حلبی کبیر ، کتاب الصلاۃ ، باب صلاۃ المسافر : ۵۳۹)
اگر کہے : تو میری بیوی نہیں ہے ؟
سوال:- میرے ایک دوست سعودی عرب میں رہتے ہیں ، فون پر ان کی اپنی بیوی سے تیز گفتگو ہوگئی اوراس نے کہا : تو میری بیوی نہیں ہے ، وہ کہتا ہے میری نیت طلاق دینے کی نہیں تھی ، صرف ڈانٹنے کی تھی ، توکیا ان الفاظ سے اس کی بیوی پر طلاق واقع وجائے گی ۔( مصباح الاسلام ، چار مینار)
جواب:- اس طرح کے الفاظ میں شوہر کی نیت معتبر ہوتی ہے ؛ لہٰذا اگر اس نے کہا کہ میری نیت طلاق دینے کی تھی تو طلاق واقع ہوگئی ، اور اگر کہتا ہو کہ میرا مقصود صرف ڈانٹ ڈپٹ کرنا یا غصے کا اظہار کرنا تھا تو طلاق واقع نہیں ہوگی ؛ کیوںکہ اس نے یہ نہیں کہا کہ میں طلاق دے رہا ہوں ؛ بلکہ وہ نکاح کا اور اس کے بیوی ہونے کا انکار کررہا ہے ، یہ اکثر غصہ کے طورپر ہوتا ہے ، نیز اگر طلاق کی نیت بھی ہو تو اس کی وجہ سے صرف ایک طلاق رجعی واقع ہوگی :
( قولہ وتطلق بلست لی بإمرأۃ أو لست لک بزوج إن نوی طلاقا ) … لو قال لا نکاح بیننا یقع الطلاق والأصل ان نفی النکاح أصلا لا یکون طلاقاً بل یکون جحوداً … واشار بقولہ تطلق إلی أن الواقع بھذہ الکنایۃ رجعی ۔ ( البحر الرائق : ۳؍۳۰۶ ، باب الکنایات )
اگر شوہر قادیانی ہوجائے؟
سوال:- ہندہ کا شوہر قادیانیوں کی صحبت میں رہا کرتا تھا ، بالآخر ان کے زیر اثر ایمان سے محروم ہوگیا اور اب وہ مرتد ہوچکا ہے ، ایسی صورت میں ہندہ کے لئے کیا حکم ہے ؟ کیا وہ اسی مرد کے ساتھ اپنی زندگی گزارسکتی ہے ؟ (نصیر علی ، فلک نما)
جواب:- قادیانی کافر اور زندیق ہیں ، اگر کوئی شخص مسلمان تھا اور قادیانی ہوگیا تو وہ صرف کافر ہی نہیں ہے ؛ بلکہ مرتد بھی ہے ، قادیانی مرد کے ساتھ کسی مسلمان عورت کا زندگی گزارنا جائز نہیں ہے ، جیسے ہی وہ شخص مرتد ہوا ہندہ کا نکاح ختم ہوگیا ، اب وہ اس کی بیوی باقی نہیں رہی ؛ البتہ اگر دوسرا نکاح کرنا چاہتی ہے تو عدت کا گزر جانا ضروری ہے ، جس وقت وہ شخص مرتد ہوا تھا ، اس وقت سے اگر جوان عورت ہو تو تین حیض آجائے ، عمر دراز ہو تو تین مہینے گزر جائیں اور حاملہ ہوتو ولادت ہوجائے ، اس کے بعد وہ دوسرا نکاح کرسکتی ہے :
وارتداد أحدھما فسخ عاجل … وعلیہ نفقۃ العدۃ وفی الشامی : قولہ وعلیہ نفقۃ العدۃ ، أی لو مدخولاً بھا ، إذ غیرھا لا عدۃ علیھا ، وأفاد وجوب العدۃ سواء ارتد أو ارتدت بالحیض أو بالأشھر لو صغیرۃ أو آیسۃ او بوضع الحمل کما فی البحر ۔ (الدرالمختارمع الشامی : ۳؍۱۹۴-۱۹۶ ، باب نکاح الکافر)
ایک طلاق کے بعد منھ بند کردیا
سوال:- میرے ایک رشتہ دار کا اپنی بیوی کے ساتھ جھگڑا ہوگیا اور بات اتنی بڑھ گئی کہ اس نے کہا کہ اب میں معاملہ ختم ہی کردیتا ہوں ، پھر اس نے جیسے ہی کہا : تم کو طلاق ، کہ لڑکے کی ماں نے ہاتھ رکھ کر اس کا منھ بند کردیا اور آگے وہ کچھ نہیں بول سکا ، وہ کہتا ہے کہ اس کا ارادہ تین دفعہ طلاق بولنے کا تھا ؛ لیکن وہ دوسری اور تیسری بار طلاق کا لفظ نہیں بول پایا ، تو اب اس کی بیوی پر ایک طلاق واقع ہوئی یا تین ؟ (حسیب الرحمن ، سعید آباد)
جواب:- طلاق صرف ارادے سے واقع نہیں ہوتی ہے ؛ الفاظ طلاق بولنے سے واقع ہوتی ہے ؛ اس لئے جب ایک دفعہ طلاق کہنے کے بعد دوسری اور تیسری بار وہ طلاق کا لفظ نہیں بول پایا تو اس کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی ، عدت کے اندر وہ اسے لوٹا سکتا ہے اور عدت گزرنے کے بعد باہمی رضامندی سے نئے مہر پر نکاح کرسکتے ہیں ، دوسری اور تیسری طلاق واقع نہیں ہوئی :
ولو قال : أ تت طلاق وھو یرید أن یقول ثلا ثاً ، فقبل أن یقول ثلا ثاً أمسک غیرہ فمہ أو مات تقع واحدۃ ، کذا فی المحیط السرخسی ۔ ( الفتاویٰ الہندیہ : ۱؍۳۵۹)
اگر دوسرے کو قسم دے ؟
سوال:- عام طورپر یہ رواج ہے کہ بعض دفعہ دوسروں کو کسی کام کا اصرار کرنے کے لئے کہتے ہیں : ’’ تم پر قسم ہے کہ تم ایسا کرو ‘‘ اس صورت میں کیا قسم ہوجاتی ہے ؟ اور اگر وہ شخص اس کام کو نہ کرے تو اس کی قسم کا کفارہ دینا پڑے گا ؟ (رشید احمد ندوی ، بنگلور)
جواب:- یہ صورت قسم کی ہے اور یہ قسم دینے والے کی طرف سے قسم سمجھی جائے گی ؛ لہٰذا اگر مخاطب نے اس کی اس خواہش کی تعمیل نہیں کی تو قسم دینے والا حانث ہوجائے گا اور اس پر کفارہ واجب ہوجائے گا :
قال لغیرہ : واﷲ لتفعلن کذا فھو حالف ، فإن لم یفعلہ المخاطب حنث ما لم ینوا لاستحلاف ۔ (الدرالمختار : ۱؍۳۰۵،کتاب الایمان)
مسجد میں اُتاری ہوئی دوسروں کی چپل پہن لینا
سوال:- یہ عام رواج ہوگیا ہے کہ مسجد میں لوگ جوتا اُتارتے ہیں اور دوسرے لوگ جوتے والے سے اجازت لئے بغیر جوتا یا چپل پہن کر وضو خانہ یا طہارت خانے کی طرف چلے جاتے ہیں ، اس طرح دوسروں کے جوتے چپل پہن لینا جائز ہوگا ؟ (محمد عرفان ، نئی دہلی)
جواب:- مسجدوں میں جو چپلیں وضو خانہ یا استنجاخانہ کے لئے رکھی جاتی ہیں ، ان کو استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ؛ کیوںکہ یہ عمومی استعمال ہی کے لئے رکھی گئی ہیں ؛ لیکن جو جوتا چپل کسی خاص شخص کا ہو تو اس کی اجازت ضروری ہے ، یا تو صریحاً اجازت ہو ، یا وہاں تھوڑی دیر کے لئے دوسرے کی چپل استعمال کرنے پر وہ شخص برا نہیں مانتا ہو ، اور اس کا رواج ہو تو یہ بھی ایک طرح کی اجازت ہے ، جیساکہ فقہاء نے درخت کے گرے ہوئے پھلوں کے بارے میں لکھا ہے ، یا کوئی ذبیحہ جنگل میں سرِ راہ مل جائے اور گزرنے والے کو خیال ہو کہ اس کو مسافرین کے استفادے کے لئے یہاں رکھا گیا ہوگا اور کوئی مالک نظر نہ آئے تو اس سے استفادہ کی اجازت ہے :
قوم أصابوا مذبوحاً فی طریق البادیۃ وقد وقع فی قلبہ أن صاحبہ قد فعل إباحۃ للناس لا بأس بأکلہ ۔ (الفتاویٰ السراجیہ :۳۰۷)
(بصیرت فیچرس)

You might also like