Baseerat Online News Portal

کیا بابری مسجد کا مسئلہ اقوام متحدہ میں حل کیاجائے گا؟

۶۸ برس سے حکومتوں اور عدالتوں نے بابری مسجد۔رام جنم بھومی مقدمے کا جرأتمندی سے حل ڈھونڈنے اور فیصلہ سنانے کے بجائے ٹال مٹول سے کام لیا ہے، یہ رویہ مایوس کن ہے کیوں کہ آج بھی مسلمانوں کا عدلیہ پر اعتماد قائم ہے!
تجزیہ وتبصرہ: سعید حمید (ممبئی اردو نیوز)
۱۹۴۹ ءمیں ایک تنازعہ کھڑا کیاگیا تھا، ۶۸ برس کے دوران حکومتوں اور عدالتوں نے کبھی یہ عزم نہیں کیا کہ اس معاملے کو میرٹ کی بنیاد پر حل کردیاجائے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ ٹال مٹول کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ سپریم کورٹ نے اگر ۶۸ برس بعد یہ مشورہ دیا کہ اس معاملے کو عدالت کے باہر مفاہمت کے ذریعہ حل کردیاجائے، تو اس سے مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد کو مایوسی ہوئی ہے۔
کیو ںکہ ۔آج ملک میں وہ عناصر جو بابری مسجد کے متعلق یہ موقف اختیار کرچکے ہیں، کہ بابر نے رام مندر کو منہدم کرکے بابری مسجد بنائی ہے، اور اس مسجد کی جگہ ایک شاندار مندر تعمیر ہوناچاہئے، سیاسی اور سرکاری طور پر یوپی اور دیگر کئی صوبوںاور مرکز میں برسراقتدار وہ بااختیار ہوچکے ہیں۔ اس مقدمے کے دوسرے فریق یعنی مسلمان بڑی حد تک سیاسی طور پر کمزور بنادئیے گئے ہیں۔ اس لیے بابری مسجد تنازع کے دونوں فریقوں میں سے ، جن میں سے ایک حکمراں بن چکا ہے، دوسرا سیاسی طور پر مغلوب ہے عدالت کے باہر مفاہمت ،انصاف کے تقاضوں کو پورا کیسے کرسکتی ہے؟ فریق ثانی، یعنی مسلمان شدید دبائو میں آچکے ہیں اور وہ مفاہمت کی میز پر کیسے بیٹھ سکتے ہیں کہ ان کا پرانا حریف اور فریق ہی آج کا حکمراں ہے۔ وہ اپنی بات منوانے کے لئے مفاہمت کے مرحلے کو بھی استعما ل کرنے کی کوشش کرے گا۔
اسلیے۔ آج مسلمانوں کے لئے بہتر یہی ہے کہ عدالت ہی کوئی فیصلہ سنادے۔ کم از کم مفاہمت کے نتیجے کے مقابلے میں عدالتی فیصلے میں امید کے کچھ امکانات باقی رہ سکتے ہیں (حالانکہ الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے سے مایوسی کے اشارے ملتے ہیں جس نے حقائق نہیں بلکہ عقیدے اور آستھا کی بنیاد پر بابری مسجد کے پلاٹ کی تین حصوں میں تقسیم کا فیصلہ سنایاتھا)
حکومتوں اور عدالتوں کی جانب سے ٹال مٹول کا یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہا ، تو(حالانکہ اس حقیقت کا اعتراف کرناچاہئے کہ عدلیہ پرہندوستانی مسلمانوں کا اعتماد قائم ہے) اس بات کا شدید اندیشہ ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں میں کچھ ایسے طبقات بھی اُٹھ کھڑے ہوں گے جو یہ مطالبہ کردیں کہ بابری مسجد کے مسئلے کو اقوام متحدہ میں پیش کیاجائے او را قوام متحدہ بابری مسجد کا مسئلہ حل کرے۔ ہمارے اندورنی معاملات کو بین الاقوامی بنانا اور اس میں بیرونی مداخلت کی بات کرنا یقینا درست حکمت عملی نہیں، لیکن بابری مسجد جیسے انتہائی اہم اور سلگتے ہوئے مسئلے پر ٹال مٹول کی حرکت رفتہ رفتہ کمیونٹی کے ایک طبقہ کو اس مایوس کن حد تک ڈھکیل دے کہ وہ بابری مسجد تنازع کو اقوام متحدہ کے ذریعے حل کرنے کا مطالبہ کر بیٹھیں تو اس کی بنیادی ذمہ داری اس اہم مسئلہ کو حل کرنے کی بجائے آگے ڈھکیلنے او رٹال مٹول کے رویے پر عائد ہوگی۔
آج یوگی آدتیہ ناتھ یوپی کے وزیراعلیٰ ہیں اور نریندر مودی ملک کے وزیراعظم ہیں، جن کے پیچھے سنگھ پریوار ہے۔ بی جے پی ہے۔ وشوہندوپریشد ہے۔ آر ایس ایس ہے۔ دھرم سنسد ہے۔ یہ سب کے سب رام مندر نرمان تحریک سے وابستہ ہیں تو کیاآج مسلمان عدالت کے باہر بابری مسجد کا تنازعہ، گفتگو اور بات چیت کے ذریعہ حل کرنے کی پوزیشن میں ہیں؟
دوئم ۔بابری مسجد معاملہ میں عدالتی فیصلہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ یہ ایک نظیرثابت ہوگا(اگر منصفانہ طو پر اور حقائق کی بنیاد پر یہ فیصلہ صادر ہوگیا۔۔۔تب۔۔۔) بابری مسجد جیسے ملک بھر میں 3500 معاملات ہیں جہاں کسی مسجد یا درگاہ یا قبرستان یا کسی مسلم دینی جائیداد پر کوئی جنم بھومی یا مندر ، یا سمادھی یا کوئی دھارمک جگہ ہونے کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔ ان سارے معاملات کی منصفانہ سماعتوں کے لئے بابری مسجد کے متعلق ایک منصفانہ اور جرأت مند فیصلے کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کو امید تو ہے کہ عدالتیں اپنے وقار سے بہت زیادہ نیچے نہیں اُتر سکتی ہیں لہذا انہیں امید ہے کہ عدالت کے فیصلے سے انہیں انصاف ملے گا۔

You might also like