Baseerat Online News Portal

مدارس اسلامیہ انسانی معاشرے کو اپنی نافعیت کا احساس دلائیں :مولانا محمد ارشد فیضی

جالے ۔۲؍اپریل: (رفیع ساگر) مخلوط عصری نظام تعلیم کے طوفان خیز ماحول میں اگر ملک کے چپے چپے تک پھیلے چھوٹے بڑے مدارس اسلامیہ اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کرکے انسانی معاشرے میں اپنی عظمت کی موثر لکیریں قائم کرنا چاہتے ہیں تو انہیں عملی طور پر سماج کو اپنی نافعیت کا احساس دلانا ہوگا اور انہیں قدیم وجدید کے فاصلے کو کم کرتے ہوئے علم نافع کی بنیاد پر ایسے اہم اقدامات کرنے ہونگے جو آنے والے وقت میں مسلمانوں کے شاندار تعلیمی ومعاشی مستقبل کی ضمانت ثابت ہو سکیں یہ باتیں پیام انسانیت ایجوکیشنل ٹرسٹ کے صدر مولانا محمد ارشد فیضی قاسمی نے تعلیمی بیداری کارواں کے ارکان سے ملاقات کے دوران اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہیں انہوں نے کہا کہ مسلم معاشرے کے رشتے جس تیزی کے سا تھ مدارس سے کمزور ہوتے جارہے ہیں اور جس طرح سماج میں مدارس کے تعلق سے بے اعتمادی پھیلتی جارہی ہے اگر فوری طور پر پورے احساس ذمہ داری کے ساتھ ان کو دور کرنے کی کوشش نہ کی گئی تو اس کے بھیانک نتائج سماج کو کسی بھی لمحہ غیر یقینی حالات کا شکار بنادیں گے ۔انہوں نے کہا کہ عصری نظام فکر وتعلیم نے ہماری نئی نسل کے ذہن وفکر پر نہ صرف گہرا اثر ڈالا ہے بلکہ آزادانہ ماحول نے انہیں ایسا مبہوت بنا دیا ہے کہ اس کی وجہ سے ان کے دلوں میں مدارس سے بیگانگی افسوسناک حد تک بڑھتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے اور یہ صورت حال اتنی گہری ہوتی جارہی کہ اس کی سنگینی کا صحیح اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا اور یہی نہیں بلکہ حالات کے اشاروں سے پتہ چلتا ہے کہ اگر منظر نامہ یہی رہا تو سماج کو بھاڑی نقصان کا سامنا کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔مولانا فیضی نے کہا مدارس کی اپنی ایک شاندار تاریخ رہی ہے اور اپنی تاریخ کے اب تک کے دور میں انہوں نے اس ملک کی آزادی اور اس کے جمہوری قدروں کی حفاظت سے لیکر انسانی زندگی کے بیشتر مسائل کو حل کر نے کا سارا مرحلہ اس خوبصورتی اور ذمہ داری کے ساتھ طے کیا ہے کہ اس کو نظر کر دینا حقیقت کو جھٹلانے کے مترادف ہوگا۔لیکن اس وقت دنیا جس روش کی شکار ہے اس میں محض ماضی کی تاریخوں کے حوالے مدارس کے کردار کو موثر نہیں بنا یا جاسکتا بلکہ اس کے لئے موجودہ دور کے مدارس کو حالات کے سارے منظر نامے کی روشنی میں سماج کو اپنی حیثیت اور وقعت بتانی ہوگی اور ان کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ ان کی نئی نسل کا مستقبل مدارس میں ہی محفوظ رہ سکتا ہے کیونکہ یہ ادارے صرف تعلیم کا مرکز ہی نہیں بلکہ تہذیب وشرافت کے گہوارے بھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت مسلم قوم تعلیمی میدان میں یقینا پیچھے ہے لیکن اس کے لئے کسی دوسرے کو ذمہ دار ٹھرانے کی بجائے ہمیں اس حوالے سے خود اپنے کردار کا محاسبہ کرنا ہوگا اور سوچنا ہوگا کہ نئی نسل کی تعلیمی بہتری کے لئے ہم خود کتنا سنجیدہ ہیں ان سب کے ساتھ ہماری یہ بھی ذمہ داری ہو نی چاہئیےکہ ہم مدارس کے تعلیمی نظام کو موثر بنانے کے لئے اہم۔اقدامات کو عملی شکل دیں تاکہ امت کے سامنے اس کی نافعیت ابھر کر آسکے ۔

You might also like