Baseerat Online News Portal

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ- تعارف اور خدمات

تحریر: حضرت مولانا خالد سیفﷲ رحمانی صاحب دامت برکاتہم
(سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)
,,ایمان,,ﷲ تعالیٰ پر یقین کرنے کا اور’ ’ اسلام‘ ‘ ﷲ تعالیٰ کےاحکام کے سامنے سر جھکا دینے کا نام ہے ،ﷲ کے احکام پر عمل صرف اس لئےضروری نہیں ہے کہ اس میں اپنے خالق اور پروردگار کی خوشنودی اور آخرت کی نجات ہے٬بلکہ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ انسان کی دنیوی زندگی کی کامیابی اور راحت و سکون بھی ﷲ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی شریعت میں ہی مضمرہے ؛ کیوںکہ خدا اس کائنات کا بھی خالق ہے اورانسان کا بھی ، اور خالق سےبڑھ کر اپنی مخلوق کے نفع و ضرر سے کوئی اور ذات واقف نہیں ہوسکتی٬ چنانچہ قرآن مجید کاارشاد ہے کہ انسانیت کی تخلیق بھی خدا ہی نے کی ہے
اور اسی کا حکم اس لائق ہے کہ انسان اس پر چلے : ’’ أَلاَ لَہُ الْخَلْقُ وَالأَمْرُ‘‘ ۔ (الاعراف : ۵۴ )
اﷲ کی طرف سے اپنے بندوں کے لئے زندگی گزارنے کا جو طریقہ متعین کیا گیاہے ، اس کو ’’ شریعت ‘‘ کہتے ہیں ،شریعت الٰہی اپنی آخری اور مکمل صورت میں پیغمبر اسلام جناب محمد رسولﷲﷺ پر نازل کی گئی ، شریعت کے بعض احکام وہ ہیں ، جن میں بنیادی اُصول ومقاصد کی وضاحت کردی گئی ہے، جزئیات و تفصیلات کو زیادہ واضح نہیں کیا گیا ہے ، جیسے مالی معاملات اورسیاسی مسائل ؛ تاکہ زمانہ کی تبدیلیوں کے لحاظ سے ان احکام کومنطبق کیاجاسکے ، جب کہ زندگی کے بعض مسائل وہ ہیں ، جن میں مقاصد بھی بیان کردیئےگئے ہیں اور اس کی عملی شکل کو بھی زیادہ سے زیادہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے ، یہ ہیں عبادات اور خاندانی زندگی کے مسائل ۔
خاندانی زندگی کے مسائل سے مراد ہے : نکاح ، طلاق ، والدین و اولاد اورزوجین کے حقوق ، میراث وصیت وغیرہ ، ان کو فقہ اسلامی کے ماہرین ’’مناکحات‘‘سے تعبیر کرتے تھے اورموجودہ قانونی اصطلاح میں’’پرسنل لا‘‘ کہا جاتا ہے ، ان قوانین کی جڑیں کتاب و سنت میں نہایت گہرائی کے ساتھ پیوست ہیں ؛ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ نکاح و طلاق اور میراث وغیرہ کے احکام قرآن میں جس قدر وضاحت کے ساتھ مذکور ہیں ، نماز ، روزہ اور حج و زکوٰۃکے مسائل بھی اس درجہ صراحت و وضاحت کے ساتھ ذکر نہیں کئے گئے ہیں ؛ اس لئے مسلمان جہاں کہیں بھی ہوں ، مسلم ملک میں یا غیر مسلم ملک میں ، وہ ان قوانین پر عمل کرنے کے پابند ہیں ، اِن پر عمل نہ کرنے سے انسان گنہگار قرار پاتا ہے اوراگر ان قوانین کو ماننے ہی سے انکار کردے اور خداکی بھیجی ہوئی شریعت کے مقابلہ انسان کے بنائے ہوئے قانون کو ترجیح دینےلگے تو یہ کفر ہے ۔
قیام کا پس منظراسی لئے ہندوستان میں مسلم حکومت کے ختم ہونے کے بعد ابتداء ہی سے علماء نے کوشش کی کہ مسلمانوں کو پرسنل لا کے معاملہ میں قانون شریعت پر عمل کرنے کی آزادی حاصل رہے ، ایک خاص واقعہ کے پس منظر میں علماء کی جدوجہدسے ’’ شریعت اپیلی کیشن ایکٹ ۱۹۳۷ء میں بنا ، جس میں یہ بات تسلیم کی گئی کہ پرسنل لا سے متعلق مسائل میں اگر مقدمہ کے دونوں فریق مسلمان ہوں ، توان پر شرعی قوانین کا اطلاق کیا جائے گا ، پھر ۱۹۳۹ء میں علماء کی کوششوں سے ’’ انفساخ نکاح‘ ‘ سے متعلق قانون پاس ہوا ، جس میں فقہ مالکی سےاستفادہ کرتے ہوئے پریشان حال خواتین کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی گئی ۔
آزادی کے بعد ملک کےدستور میں اقلیتوں کے لئے مذہب پر عقیدہ رکھنے ٬مذہب پر عمل کرنے اور مذہب کی تبلیغ کرنے کے حق کو تسلیم کیا گیا ہے ، مذہب پر عمل کرنے میں یقینی طورپر مسلم پرسنل لا شامل ہے٬چنانچہ معزز عدالتیں بھی اس کو تسلیم کرتی رہی ہیں ؛ لیکن دستور کے رہنما اُصول میں جو ہدایات شامل کی گئیں ، ان میں یہ بات بھی تھی کہ بتدریج ملک میں ’’ یکساں سول کوڈ ‘‘ نافذ کرنے کی کوشش کی جائے گی ؛ حالاں کہ دستور ساز کونسل کے بعض مسلم ممبران نے اس پر اعتراض بھی کیا ، مگر اسے قبول نہیں کیا گیا اور اس وقت حالات ایسے نہیں تھے کہ اس کے خلاف کوئی تحریک چلائی جائے٬اس لئے یہ دفعہ جوں کی توں باقی رہی ، پھر آخر کچھ عرصہ بعدمحسوس ہونے لگا کہ حکومت کے تیور اچھے نہیں ہیں اور وہ مسلمانوں کو ان کے شرعی قوانین سے محروم کرنے کے درپے ہے ، اس کا کچھ اندازہ تو اسی وقت ہوچکا تھا ، جب ۱۹۵۰ء میں ہندو کوڈ بل پیش کرتے ہوئے مرکزی وزیر قانون مسٹریائسکر نے کہا تھا کہ ہندوقوانین میں جواصلاحات کی جارہی ہیں ، وہ مستقبل قریب میں ہندوستان کی تمام آبادی پر نافذ کی جائے گی ، پھر ۱۹۶۳ء میں مرکزی حکومت نے مسلم پرسنل لا میں ’’ اصلاح ‘‘ کے لئے مستقل کمیشن قائم کیا ، جس نے حکومت کے منفی رویہ کو اور واضح کردیا ، اور اس کا کھل کر اظہار اس وقت ہوا ، جب ۱۹۷۲ء میں متبنٰی کے لئے ایسا قانون لانے کی کوشش کی گئی کہ اسے حقیقی بیٹے کی حیثیت حاصل ہو اورمسلمانوں پر بھی اس کا اطلاق ہو ۔
اس پس منظر میں امیر شریعت حضرت مولانا سید منتﷲ رحمانیؒ نے ۲۸؍ جولائی ۱۹۶۳ء کو ’’ انجمن اسلامیہ ہال ، پٹنہ ‘‘ میں بہار اسٹیٹ ’’مسلم پرسنل لا کانفرنس ‘‘ طلب کی ، امارت شرعیہ بہار اس کی داعی تھی ، ملک کی دو بڑی تنظیموں — جمعیۃ علماء ہند اور جماعت ِاسلامی ہند — کے اس وقت کے سربراہان مفتی عتیق الرحمن عثمانیؒ اور مولانا ابواللیث اصلاحی ندوی ؒکے علاوہ مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ ، مولانا عبدالرؤفؒ ایم ، ایل ، سی ( ناظم : جمعیۃ علماء اتر پردیش ) اور جناب منظور احسن اعجازی نے بھی اس اجلاس میں شرکت کی ، مولانا عثمانی نے صدارت کی اورمولانا ندوی نے افتتاح فرمایا ، اس طرح ملت ِاسلامیہ کی یہ پہلی مشترکہ آواز تھی ، جو ملک کے ایک کونہ سےبلندہوئی ، پھر حضرت مولانا سید منتﷲ رحمانیؒ کی تحریک پر ۱۳ و ۱۴؍ مارچ ۱۹۷۲ء کو حکیم الاسلام حضرت مولاناقاری محمد طیب صاحبؒ نے دیوبند میں مسلم پرسنل لا کے موضوع پر ایک کل جماعتی اجلاس منعقد فرمایا ، اجلاس کے شرکاء میں ان دونوں بزرگوں کے علاوہ مفتی عتیق الرحمن عثمانیؒ (صدر مسلم مجلس مشاورت ) مولانا سیدمحمداسعد مدنیؒ ( ناظم جمعیۃ علماء ہند ) مولانا مجاہد الاسلام قاسمیؒ (قاضی شریعت بہار و اُڑیسہ و جھارکھنڈ ) ڈاکٹر فضل الرحمن گنوریؒ ( مسلم یونیور سٹی علی گڑھ ) مولانا سعید احمد اکبر آبادی ؒ، ڈاکٹر طاہرمحمود،مولانا عامر عثمانیؒ وغیرہ شریک ہوئے ، اس نشست میں طے ہوا کہ چوں کہ مسلم پرسنل لا کی زیادہ تر آواز ممبئی سے اُٹھ رہی ہے ٬ اس لئے یہیں اس موضوع پر ایک کنونشن منعقد کیا جائے ۔ چنانچہ ۲۷و۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۲ء کو یہ تاریخ ساز کنونشن منعقد ہوا ، جس کومسلمانان ہند کے تمام مکاتب فکر کی بھرپور تائید حاصل تھی ، اس اجلاس میں باتفاق رائے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا اور۷؍ اپریل ۱۹۷۳ء کو اجلاس حیدرآباد میں بورڈ کی تشکیل عمل میں آئی ، حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ بورڈ کے پہلے صدر اور حضرت مولانا سیدمنتﷲ رحمانی صاحبؒ بورڈ کے پہلے جنرل سکریٹری منتخب ہوئے ، ۱۷؍ جولائی۱۹۸۳ء کو حضرت قاری صاحبؒ کی وفات ہوئی اور ۲۸؍ دسمبر ۱۹۸۳ء کو چنئی کےاجلاس میں مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کو بورڈ کادوسرا صدر منتخب کیا گیا ، پھر حضرت مولانا علی میاں صاحبؒ کی وفات کے بعد ۲۳؍ اپریل ۲۰۰۰ء کو لکھنؤ کے ایک خصوصی اجلاس میں فقیہ ملت حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ کو بورڈ کا تیسرا صدر منتخب کیا گیا ،مولانا قاسمیؒ کی وفات کے بعد ۲۳؍جون ۲۰۰۲ء کو حیدرآباد کے اجلاس میں موجودہ صدر حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی دامت برکاتہم کا بحیثیت صدر انتخاب عمل میں آیا٬مختلف اوقات میں دیوبندی حلقہ سے امیر شریعت حضرت مولانا ابوالسعود احمدؒ ، بریلوی مکتبہ فکر سے حضرت مولانا مفتی برہان الحق جبل پوریؒ ، حضرت مولانا مظفر حسین کچھوچھویؒ ، حضرت مولانامحمد محمدالحسینیؒ( سجادہ نشیں گلبرگہ شریف )شیعہ مکتبہ فکر سے حضرت مولانا کلب عابد مجتہد ، اہل حدیث حلقہ سےحضرت مولانا ڈاکٹر عبد الحفیظ سلفیؒ ، حضرت مولانا مختار احمد ندویؒ ، جماعت اسلامی سے حضرت مولاناابواللیث اصلاحی ندویؒ ، مولانا محمدیوسف صاحبؒ اور مولانا سراج الحسن صاحب مدظلہٗ بورڈ کے نائب صدر رہ چکے ہیں، اس وقت حضرت مولانا محمد سالم قاسمی ، حضرت مولانا سید شاہ فخر الدین اشرف ( سجادہ نشیں آستانہ عالیہ مخدوم اشرف )حضرت مولانا کلب صادق ( لکھنؤ )حضرت مولانا سیدجلال الدین عمری اورحضرت مولانا کاکا سعید احمد عمری نائب صدر ہیں ۔ بورڈ کے پہلے جنرل سکریٹری حضرت مولانا سید منتﷲ رحمانیؒ جن کا بورڈ کی تاسیس میں بنیادی حصہ رہا ہے — کی ۱۹؍ مارچ ۱۹۹۱ء کو وفات ہوئی اور مئی ۱۹۹۱ء میں جنرل سکریٹری امیر شریعت حضرت مولانا سید نظام الدین صاحب بورڈ کےدوسرے جنرل سکریٹری منتخب کئےگئےتھے،ان کے انتقال کے بعد اب موجودہ جنرل سکریٹری مفکراسلام حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب مدظلہ ہیں ٬سابق سکریٹریزمیں جناب محمدیوسف پٹیل صاحب اورجناب محمد عبد الرحیم قریشی صاحبؒ، جناب عبد الستار یوسف شیخؒ،صاحبان ﷲکی جوار رحمت میں تشریف لے جاچکے۔ موجودہ سکریٹریز میں جناب ایڈوکیٹ ظفر یاب جیلانی صاحب٬حضرت مولانافضل الرحمان مجددی صاحب٬مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب٬اوریہ حقیر خدمت انجام دے رہے ہیں — ۱۹۷۳ءسے ۱۹۸۳ء تک مصطفی فقیہ صاحب پھر ۱۹۸۳ء سے ۲۰۰۴ء تک مولانا عبدالکریم پاریکھؒ ( ناگپور ) بورڈ کے خازن رہے اور ۲۰۰۵ء سےپروفیسر ریاض عمر (دہلی ) سے یہ خدمت اب تک متعلق ہے ۔
بورڈ کی خدمات: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے چالیس سالہ عہد میں جو خدمات انجام دی ہیں ، یہاں اختصار کے ساتھ ان کا ذکر کیا جاتا ہے : ۲۳؍ مئی ۱۹۷۲ء کو پارلیمنٹ میں ہندو قانون تبنیت و نفقہ ۱۹۶۵ء کی جگہ نئے قانون کا بل پیش کیا گیا ؛ تاکہ مسلمانوں کے بشمول تمام شہریوں پر اس کا اطلاق ہو ، بورڈ نے اس کے خلاف اول روز سے تحریک چلائی ، بالآخر ۱۹؍جولائی ۱۹۷۸ء کو جنتا پارٹی کی حکومت نے اس بل کو واپس لے لیا ، پھرکانگریس کی حکومت واپس آنے کے بعد ۱۶؍ دسمبر ۱۹۸۰ء کو دوبارہ یہ بل پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا ؛ لیکن بورڈ کی کوشش سے مسلمانوں کو اس قانون سے مستثنیٰ کردیا گیا ۔
٭جون ۱۹۷۵ء میں اس وقت کی وزیر اعظم محترمہ اندرا گاندھی نے ایمرجنسی نافذ کردی ، اس کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ تھا کہ آنجہانی سنجے گاندھی نے جبری طورپر نس بندی کی مہم چلائی ، مسلمان اس تحریک کا خاص نشانہ تھے،ظلم و جور کا بازار گرم تھا اور حکومت کے کسی فیصلہ کے خلاف زبان کھولنے کی بھی اجازت نہیں تھی ، ان حالات میں ۱۷؍ و۱۸؍ اپریل ۱۹۷۶ء کوبورڈ کی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا ، جس میں جبری نس بندی کے خلاف تجویز منظور کی گئی ، پریس نے ان تجاویز کو شائع کرنے سے انکار کردیا ؛ لیکن بورڈ نے ورقیہ شائع کرکے ملک کے کونے کونے تک اسے پہنچایا ، نیز اسی ماحول میں امیر شریعت حضرت مولانا سید منت اﷲ رحمانیؒ نے’’خاندانی منصوبہ بندی‘‘ کے نام سے رسالہ تالیف فرمایا،جو اُردو،ہندی اورانگریزی میں بڑی تعداد میں شائع کیا گیا اور اس کی تقسیم عمل میں آئی ۔
٭اکتوبر ۱۹۷۸ء میں الہٰ آباد ہائیکورٹ کے لکھنؤ بینچ نے ایک ایسافیصلہ دیا ، جس کے تحت لکھنؤ کی دو مسجدوں،ایک قبرستان اورجئے پور کی ایک مسجد کو وہاں کی میونسپل کارپوریشن نے ایکوائر کرلیا ، بورڈ کی کوششوں سے یہ قبرستان اور مسجدیں مسلمانوں کو واپس کردی گئیں ۔
٭نیو سی ، آر ، پی ، سی ، کی دفعہ ۱۲۵ میں یہ بات کہی گئی ہے کہ طلاق کے بعد بھی جب تک مطلّقہ کا دوسرا نکاح نہ ہوجائے ، وہ نفقہ کی حقدار رہےگی ، مسلم پرسنل لا بورڈ کے مطالبہ پر دفعہ ۱۲۷ کا اضافہ کیا گیا ، جس کیرو سے طلاق دینے والا شوہر اگر واجبات ادا کردے ، تو پھر نفقہ منسوخ ہوجائے گا ، یہ ایک حد تک دفعہ ۱۲۵ کے مضر اثرات کا ازالہ کرتی ہے ، مگرمختلف عدالتوں کے فیصلوں نے اس ترمیم کو بے اثر کرکے رکھ دیا ، بالآخربورڈ نے اس سلسلہ میں زبردست مہم چلائی اور ۶؍ مئی ۱۹۸۶ء کو ’’ قانون حقوق مسلم مطلقہ ‘‘ پاس ہوا ، جو بورڈ کی ایک بڑی کامیابی تھی،مگرافسوس کہ تعبیر کے نقائص کی وجہ سے یہ قانون سازی بھی بے فائدہ رہی ، جسکی اصلاح کے لئے جدوجہد جاری ہے ۔
٭اپریل ۱۹۸۰ء میں ایک ایسا قانون بنا ، جس کے تحت ایسی تمام جائدادوں پرانکم ٹیکس عائد ہوتا تھا ، جن میں ۱۹۷۳ء کے بعد آمدنی میں اضافہ ہوا تھا ، سوائے اس کے کہ اس اضافہ شدہ جائداد کو فروخت کرکے اس کی رقم کسی نیشنلائزڈ بینک میں فکس ڈپازٹ کردی جائے ، بورڈ نے اس کے خلاف سخت جدوجہدکی اور بالآخر یہ بلا ’ ’مسلم اوقاف‘ ‘ کے سر سے ٹل گئی ۔
٭بورڈ عرصہ سے اس بات کے لئے کوشاں رہا ہے کہ قانون وقف کو ایسا بنایاجائے کہ وقف کا تحفظ آسان ہو ، وہ با اختیار ادارہ ہو اور مسلمانوں کانمائندہ ہو ، ۱۹۸۴ء میں حکومت نے اچانک ایسا بل پیش کردیا ، جو اوقافی جائدادوں کے لئے نہایت نقصان دہ تھا ، اس کے بعد وقف ایکٹ ۱۹۹۵ء بنایاگیا،جس میں بورڈ کی کئی تجاویز شامل کی گئیں ؛ لیکن افسوس کہ ماضی قریب میں وقف بل ۲۰۱۰ء بھی نہایت عجلت میں لوک سبھا سے پاس کرالیا گیا ، جس میں بہت ساری خامیاں ہیں اور جو مسلمانوں کے جذبات کا آئینہ دار نہیں،بورڈ اس میں ترمیم کے لئے جدوجہد کررہا ہے ۔
٭۱۹۸۶ء میں غلط طورپر بابری مسجد کا تالہ کھولوادیا گیا اور ۱۹۴۸ء میں غلط طریقہ پر رکھے گئے بتوں کی عام پوجا شروع ہوگئی ، اس مسئلہ کے لئےایکشن کمیٹیاں قائم ہوئیں ؛ لیکن بعد کو یہ اندیشہ محسوس کیا جانے لگا کہ کہیں بعض خداناترس افراد ہندو فرقہ پرست تنظیموں سے مسجد کا سودا نہ کرلیں ، اس پس منظر میں حضرت مولانا سید منت اﷲ رحمانیؒ نے ۳؍دسمبر۱۹۹۰ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس طلب کیا، اور عاملہ نے طے کردیا کہ یہ جگہ ہمیشہ کے لئے مسجد ہے ، نہ اس کی حیثیت میں کوئی تبدیلی کی جاسکتی ہے،نہ اس کی خرید و فروخت کی جاسکتی ہے،نہ کسی مصالحت کی بنیاد پر کسی فرد،جماعت یا حکومت کے حوالہ کی جاسکتی ہے اور نہ کوئی حکومت اس سے انکارکرسکتی ہے ، افسوس کہ ۶؍ دسمبر ۱۹۹۲ء کو مسجد شہید کردی گئی ، اس کے بعدمسلمانوں کے مطالبہ پر بورڈ نے اس معاملہ کو اپنے ہاتھ میں لیا ، بورڈاراضی بابری مسجد کی حقیت اور انہدام مسجد سے متعلق مقدمات کی پیروی کررہا ہے ، حقیت کے سلسلہ میں الہ آباد ہائیکورٹ کے نزاعی فیصلہ کے بعدبورڈ نے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے ۔
٭حکومت دینی مدارس کے نظام میں دخیل ہونے کے لئے طویل عرصہ سے کوشاں ہے٬چنانچہ ۲۰۰۶ء میں اس نے ’’ مرکزی مدرسہ بورڈ‘ ‘ کے قائم کرنے کا فیصلہ کیا٬تاکہ مدارس گورنمنٹ سے مربوط ہوجائیں ، مسلم پرسنل لا بورڈ نے ہمیشہ اس سے اختلاف کیا اورحکومت سے نمائندگی کی٬ چنانچہ بالآخر حکومت سرکاری مدرسہ بورڈ کی تجویز سے دست بردار ہوگئی ۔
٭ایک مقدمہ میں جسٹس کاٹجو نے ایک مسلمان طالب علم کے داڑھی رکھنے کی اجازت طلب کرنے پر نقد کرتے ہوئے اسے’’طالبانی کلچر‘ ‘ قرار دے دیا،بورڈ کی جانب سے اس کے سکریٹری مولانا سید محمد ولی رحمانی نے اس ریمارک کے خلاف خطوط و مراسلات بھیجنے کی مہم چلائی اور بالآخر جسٹس کاٹجو نےاپنے ریمارک واپس لینے کا اعلان کیا ۔
٭بعض ریاستوں میں ’’ وندے ماترم ‘‘ اور ’’ سوریہ نمسکار‘‘ نافذ کرنے کی بات کہی گئی ، بورڈ نے اس کی مخالفت کی ، جس کے بہتر اثرات مرتب ہوئے ۔

٭ بورڈ کے علمی کارناموں میں ایک ’’ مجموعۂ قوانین اسلامی‘ ‘ کی ترتیب واشاعت ہے ، شاہ بانو مقدمہ کے موقع پر ایک ایسے مجموعہ کی شدت سے ضرورت محسوس کی گئی ، جس میں دفعہ وار اسلام کے عائلی قوانین ذکر کئے جائیں٬چنانچہ حضرت مولانا سید منت اﷲ رحمانیؒ نے اپنی خصوصی رہنمائی اورنگرانی میں اس کی ترتیب کا کام شروع کرایا اور چند علماء و ماہرین قانون کےتعاون سے ۱۹۹۹ء میں اس کی ترتیب مکمل ہوئی ، پھر نظر ثانی وغیرہ کے بعد ۱۹؍ اگست ۲۰۰۱ء کو حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ نے اس کی رسم اجراء انجام دی ، جس کے کئی ایڈیشن نکل چکے ہیں ، اس کا انگریزی ترجمہ بھی شائع ہوا٬لیکن ضرورت محسوس کی گئی کہ دوبارہ انگریزی میں اس کا ترجمہ ہو٬چنانچہ انگریزی ترجمہ کا اور بعض جہتوں سے اصل کتاب پر بھی نظر ثانی کا کام چل رہا ہے اور اب اس میں فقہ شافعی ، فقہ سلفی اور فقہ جعفری کے اضافہ کی سعی کی جارہی ہے ۔
٭ حکومت کافی عرصہ پہلے نکاح کے لازمی رجسٹریشن کا قانون لانے کے لئےکوشاں تھی ؛ اس لئے بورڈ نے کافی پہلے طے کیا تھا کہ وہ خود ایک ’’نکاح نامہ‘‘ مرتب کرے اور مسلمانوں میں اسے رواج دینے کی کوشش کی جائے ٬چنانچہ یہ نکاح نامہ مرتب ہوا اور اجلاس بھوپال ۲۰۰۵ء میں اسے منظوری دی گئی ، نکاح کی تفصیلات کے اندراج کے علاوہ اس نکاح نامہ کی خصوصیت یہ ہےکہ اگر زوجین اس پر دستخط کردیں تو انھیں ازدواجی نزاعات حل کرنے کے لئےعدالتوں میں جانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی اور دارالقضاء یا شرعی پنچائت کے ذریعہ ان کے اختلافات حل ہوجائیں گے ۔
٭بورڈ شروع ہی سے دارالقضاء کے نظام کو قائم کرنے کے لئے کوشاں رہا ہے ٬تاکہ مسلمان شرعی طریقہ پر اپنے مسائل کو حل کیا کریں٬چنانچہ اب تک دو درجن کے قریب دارالقضاء بورڈ کے تحت قائم ہوچکے ہیں اور اس کے لئے ایک مستقل کمیٹی قائم ہے ، پہلے اس کے کنوینر حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ تھے ، ان کی وفات کے بعد اب اس کے کنوینر مولانا عتیق احمد بستوی ہیں ۔
٭مسلمانوں کا صرف حکومت سے مطالبہ کرنا کہ ان کے شرعی قوانین میں مداخلت نہیں کی جائے ، کافی نہیں ، یہ بھی ضروری ہے کہ وہ رضاکارانہ طورپر اپنی زندگی میں شریعت کو نافذ کریں ، اس مہم کے لئے بورڈ میں اصلاح معاشرہ کا ایک مستقل شعبہ قائم ہے اور اس کمیٹی کے کنوینر بورڈ کے جنرل سکریٹری حضرت مولاناسید محمد ولی رحمانی صاحب ہیں ، بورڈ کی جانب سے اصلاح معاشرہ کی غرض سے
بہت سے رسائل شائع کئے گئے ، ورکشاپ منعقد ہوئے اور اجتماعات کا اہتمام کیا گیا ؛ چنانچہ اب یہ دینی مدارس اور مذہبی و سماجی تنظیموں کے جلسوں اور اجتماعات کا اہم عنوان بن گیا ہے ۔
٭اس بات کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ مسلم اور غیر مسلم قانون دانوں کو شریعت کے احکام اور ان احکام کی حکمتوں سے واقف کرانے کے لئے مناسب نظم کیا جائے ؛ تاکہ لوگ قانون شریعت کی روح سے واقف ہوسکیں اور ان کی غلط فہمیاں دور ہوں ، اسی پس منظر میں اجلاس بھوپال ۲۰۰۵ء میں ’’ تفہیم شریعت‘ ‘ کمیٹی تشکیل دی گئی ، اور مولانا جلال الدین عمری اس کے کنوینربنائے گئے ، پھر جب وہ جماعت ِاسلامی کے امیر منتخب ہوئے تو عدیم الفرصتی کی وجہ سے اس ذمہ داری سے معذرت کردی ؛ چنانچہ اِس وقت یہ حقیر اس کمیٹی کا کنوینر ہے ، وکلاء اور قانون دانوں کے درمیان تفہیم شریعت کے پروگرام منعقد ہوتے رہتے ہیں اور بورڈ نے اس موضوع سے متعلق متعدد رسائل بھی شائع
کئے ہیں ۔
٭ بورڈ کی ایک اہم ترین کمیٹی ’’ لیگل کمیٹی‘ ‘ ہے ، جو شریعت پر اثرانداز ہونے والے عدالتی فیصلوں اور پارلیمنٹ سے پاس ہونے والے ایسےقوانین پر نظر رکھتی ہے جو مسلم پرسنل لا پر اثر انداز ہوتے ہیں ، اوربورڈ جن مقدمات کی پیروی کررہا ہے ، ان کے لئے شرعی اورقانونی امداد فراہم کرتی ہے ، اس کمیٹی میں وکلاء بھی ہیں اور علماء بھی ، اور جناب یوسف حاتم مچھالہ اس کے کنوینر ہیں ۔
٭مسلم پرسنل لا سے متعلق مسائل زیادہ تر خواتین سے مربوط ہیں ؛ اس لئےمسلم خواتین کو باشعور بنانے اور شرعی احکام سے واقف کرانے کو بورڈ نےشروع سے خصوصی اہمیت دی ہے ؛ چنانچہ اجلاس کانپور ۱۹۸۹ء میں بورڈ نے ’’ مسلم خواتین سیل‘‘ قائم کرنے کا فیصلہ کیا اور اس سال کو ’’ سالِ خواتین‘‘ کی حیثیت سے منایا ، مختلف شہروں میں اس سیل کے تحت خواتین کے اجتماعات منعقد ہوتے رہتے ہیں ۔
٭ بورڈ رائے عامہ کو بیدار کرنے ، لوگوں میں شعور پیدا کرنے اور مسلم پرسنل لا کی اہمیت اور افادیت سے واقف کرانے کے لئے اُردو ، انگریزی اورہندوستان کی مختلف مقامی زبانوں میں لٹریچر کی اشاعت پر توجہ دیتا رہا ہے٬چنانچہ اب تک بورڈ سے بحیثیت مجموعی تین درجن کے قریب کتابیں اور رسائل شائع ہوچکے ہیں،جو اپنے موضوع پر بڑے مفید اور اہم ہیں ۔
٭بورڈ مسلمانوں کو اپنی کارکردگی سے مطلع رکھنے اور مسلمانوں تک اپناپیغام پہنچانے کے لئے ۲۰۰۵ء سے مسلسل پابندی کے ساتھ سہ ماہی خبرنامہ شائع کررہا ہے ، جس میں بورڈ کی خدمات کے علاوہ مسلم پرسنل لا سے متعلق اہم مضامین بھی شامل اشاعت ہوتے ہیں ۔
٭ بورڈ اپنی تحریک کو آگے بڑھانے اور اپنے مقاصد کو بروئے کار لانے کےلئے ملک کے بڑے شہروں میں اجلاس عام بھی منعقد کرتا آرہا ہے؛ چنانچہ اب تک ۲۳؍ اجلاس منعقد ہوچکے ہیں اور۸۶؍ مجلس عاملہ کی مشاورتی نشستیں منعقدہوئی ہیں ۔
٭یہ تو مسلم پرسنل لا بورڈ کی ان خدمات کا مختصر تذکرہ تھا ، جو محدوداور متعین طورپر انجام پائی ہیں ؛ لیکن بورڈ کا سب سے اہم کارنامہ یہ ہےکہ اس نے مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق اور مشترکہ ایجنڈہ کے لئے اشتراک وتعاون کا مزاج پیدا کیا ہے،ان کے اندر اپنی مذہبی شناخت اورتہذیبی تشخص کے جذبہ کو پروان چڑھایا ہے ، اور انھیں اجتماعیت کی دولت سے سرفراز کیاہے ، یہ بورڈ کا سب سے بڑا اورسب سے اہم کارنامہ ہے ، اﷲ تعالیٰ اس کیفیت کو باقی رکھے ۔
موجودہ سرگرمیاں: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اس وقت اصلاح معاشرہ ، دارالقضاء ، تفہیم شریعت اور قانونی جائزہ وغیرہ کے علاوہ جن معاملات اورمسائل کو حل کرنےمیں عدالتی اور سیاسی سطح پر کوشش کررہا ہے ، وہ حسب ذیل ہیں :
٭بابری مسجد کی حقیت کے سلسلہ میں سپریم کورٹ میں زیر دوراں مقدمہ کی پیروی کی جارہی رہے ۔
٭بابری مسجد سے متعلق ’ ’لبراہن کمیشن‘‘ میں بورڈمسلسل پیروی کرتا رہاہے اور اب کمیشن کی رپورٹ حکومت کے حوالہ ہوچکی ہے ۔
٭بابری مسجد کی شہادت سے متعلق رائے بریلی اور لکھنؤ کی عدالتوں میں زیر دوراں مقدمات میں پیروی کی جارہی ہے ۔
٭اتر پردیش کے مروجہ قانون کے مطابق زرعی زمینوں میں لڑکیوں کو حصہ نہیں ملتا ، اس کے لئے یوپی گورنمنٹ سے بورڈ ربط میں ہے ۔
٭’’وقف ایکٹ ۲۰۱۰ئ‘‘ میں ترمیم کے لئے سرکاری سطح پر کوشش کی جارہی ہے ۔
٭یہ بل اوقافی جائدادوں کے لئے نہایت نقصاندہ ہے ، بورڈ کی مخالفت کی بناء پر حکومت نے اسے سلیکٹ کمیٹی کے حوالہ کردیا ہے ، بورڈ اس کی اصلاح
کے لئے کوشش کررہا ہے ۔
٭’’لازمی نکاح رجسٹریشن ایکٹ ‘‘ میں تبدیلی کے لئے بھی سرکاری سطح پرکوششیں جاری ہیں ۔
٭سپریم کورٹ میں زیر دوراں نفقہ مطلقہ سے متعلق ایک مقدمہ میں بورڈ فریق بن چکا ہے اور عدالتی سطح پر اس کی اصلاح کے لئے کوشاں ہے ، نیز سرکاری سطح پر بھی اس کی کوشش کی جارہی ہے ۔
٭ بعض مقدمات میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ جب تک ثالث بناکر باہمی اختلافات کو حل کرنے کی کوشش نہ کی جائے ، اگر مرد طلاق دے دے تب بھی طلاق واقع نہیں ہوگی ، بورڈ قانون کے ذریعہ ایسے فیصلوں کو بے اثر کرنےکے لئے حکومت سے رابطہ میں ہے ۔
٭سپریم کورٹ میں تبنیت سے متعلق ایک مقدمہ دائر کیا گیا ہے ، جس کا حاصل یہ ہے کہ مسلمانوں پر بھی متبنٰی کے حقیقی بیٹے ہونے کا اطلاق ہو ، بورڈاس مقدمہ میں فریق بن کر اس دعوی کو رد کرانے کے لئے کوشاں ہے۔
٭سپریم کورٹ میں ایک فرقہ پرست مدعی کی طرف سے دعویٰ داخل کیا گیا ہے کہ دارالقضاء اور دارالافتاء کو بند کرادیا جائے ، اس کے خلاف فریق بن کربورڈ مقدمہ کی پیروی کررہا ہے اور حکومت سے رابطہ میں ہے ۔

(بصیر ت فیچرس)

You might also like