Baseerat Online News Portal

سنگینیوں کے سائے میں رام نومی کا جلوس اختتام پذیر

مسلم اکثریتی علاقہ جری مری میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے بعد پولس کا سخت ایکشن ، صرف پالکی کو ہی مسجد کے قریب سے گزرنے کی اجازت،قانون شکنی کرنے والے بجرنگ دل کے رضا کاروں پر پولس کی سخت نظر
ممبئی۔۲؍اپریل(نمائندہ خصوصی ) ممبئی کے مضافات مسلم اکثریتی علاقہ کرلا ۔ جری مری میں آج اس وقت کرفیو جیسے حالات پیدا ہوگئے جب یہاں سے رام نومی کی پالکی انتہائی سخت پولیس بندوبست میں نکالی گئی پالکی میں صرف 5 بھکتوں کو ہی شریک کیا گیا تھا اور ڈی سی پی ونائک دیشمکھ کی سربراہی میں یہ پالکی ہری مسجد سے گزرتی ہوئی شیواجی نگرمیںدت مندر بجرنگ دل کے دفتر میں اختتام پذیر ہوئی اس دوران پولیس نے سختی حفاظتی انتظامات بھی کئے تھے ہری مسجد کے قریب اس سے قبل گزشتہ دو برسوں سے بجرنگ دل کے زیر اثر رام نومی کے جلوس میںشامل شرپسند عناصر اپنا نشانہ بناتے تھے جس کے بعد یہاں فرقہ وارانہ کشیدگی بھی پیدا ہوجاتی تھی اس لئے احتیاطی طور پر پولیس نے جلوس کو یہاں سے گزرنے کی اجازت نہیں دی صرف پالکی کو اپنی نگرانی میں لیجاکر جلوس کو اختتام پذیرکیا ۔ اس دوران پولیس نے یہاں کی تمام دکانیں , ہوٹلیں اور گلی محلوں تک کو بند کر دیا تھا بلکہ کرلا اندھیری روڈ بھی اس دوران بند کر دیا گیاتھا ٹریفک نظام پوری طرح سے ٹھپ ہو کررہ گیا تھا ۔اس جلوس میں شرکاء اشتعال انگیزی کا مظاہرہ بھی کر رہے تھے اور اشتعال انگیز نعرہ ہندوستان ہندوئوں کا ہے اور سبھی گھروں پر ہندو پرچم لہرائے گا , گرو سے کہیںکہو ہم ہندو ہے جیسے نعرے لگائے گئے ۔پولیس کے دستہ نے جلوس میں شامل ہو کر نہ صرف یہ کہ شرپسندوں پر نگرانی رکھی بلکہ جلوس کو تیز رفتاری سے چلنے کیلئے بارہامجبور بھی کر دیا جلوس کو ہری مسجد کی طر ف آنے روکنے کیلئے کرلا اندھیری روڈ پرواقع ہندوستان کاٹے کے قریب ہی پولیس کی وین اور رکاوٹیں لگادی گئی تھی جس کے بعد صرف پانچ لوگوںکو ہی پالکی لے کر مسجد کے پاس سے گزرنے کی اجازت دی گئی اور بقیہ جلوس دوسری جانب سے موڑ دیاگیا۔ جری مری میں دو مرتبہ فرقہ وارانہ تشدد اور کشیدگی کے بعد پولیس نے بجرنگ دل کی اشتعال انگیزی اور انکی شرپسندی پر پابندی لگانے کیلئے سخت ترین اقدامات کئے تھے اور دونوں زون کے ڈی سی پی کو اس جلوس پر مامور کر دیا گیا تھا اس کے علاو ہ ان دونوں زون کے ڈی سی پی و عملہ کی چھٹیاںبھی منسوخ کر دی گئی تھیں سریع الحرکت فورسیز , کمانڈرس کے دستے بھی تعینات کئے گئے تھے ۔ جوائنٹ پولیس کمشنر نظم و نسق دیوین بھارتی نے اس سے قبل اس جلوس کے اجازت نامہ منسوخ کر نے کی بھی ہدایت جاری کی تھی لیکن بعد میں اسے مشروط اجازت دی گئی اوررات کا اندھیرا ہونے سے قبل ہی اس جلوس کو ختم کر دیا گیا تاکہ فرقہ پرست عناصر رات کے وقت کسی قسم کی کوئی گڑ بڑی پیدا نہ کر سکیں انہوں نے بتایا کہ اس جلوس کے روٹ تبدیل کر نے پر بھی غور و خوص کیا گیا تھا لیکن بعد میں ہم نے مشروط اجازت دے کر جلوس کی پالکی کو ہی مسجد کے پاس سے گزارنے کی اجازت دی تھی انہوںنے بتایاکہ فرقہ پرستوں کی اشتعال انگیزی اور شدت پسندی کے سبب پولیس نے یہ اقدامات کئے تھے تاکہ ممبئی شہر میںنظم و نسق بر قرار رہے ۔ ڈی سی پی ونائک دیشمکھ نے بتایاکہ رام نومی کے جلوس کے پیش نظر جری مری سمیت دیگر علاقوں میں سخت بندوبست کئے گئے تھے اورجلوس کے راستوں کو پوری طرح سے بند بھی کردیا گیا تھا تاکہ شرارت پسند عناصر کو جلوس میں گڑ بڑی کر نے کا کوئی موقعہ نہ ملے انہوں نے بتایا کہ راستہ بند کر نے کے سبب ٹریفک کا مسئلہ ضرور پیدا ہوگیا تھا لیکن اسے بعد میں درست کر لیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہری مسجد کے قریب ہم نے واچ ٹاور بھی بنایا تھا ساتھ اس کے قریب سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب کئے تھے اس کے علاوہ سادہ لباس میں پولیس اہلکاروں کی تعیناتی بھی عمل میںلائی گئی تھیں۔ ڈی سی پی زون 5 پرم جیت سنگھ داہیا نے بتایاکہ چونکہ جلوس کی اجازت مشروط طور پر دی گئی تھی اس لئے شام ہونے سے قبل ہی اسے ختم کروانے کیلئے پولیس ٹیم کو سر گرم کر دیا گیا تھا اور شام7 بجے تک جلوس اختتام کو پہنچ گیا چونکہ یہ زون انتہائی حساس ہے اس لئے پولیس کی بھاری جمعیت کو ڈیوٹی پر مامور کیاگیا تھا۔ جری مری میں رام نومی کے جلوس سے قبل ہی ڈر و خوف کے حالات تھے یہاں مکینوں میںاس قدر خوف تھا کہ وہ اپنے گھروں سے باہر نکلنے میںبھی ڈر محسوس کررہے تھے آج صبح سے ہی پولیس کی ٹیمیں کیمرہ ہاتھوں میں لئے مسلم اکثریتی علاقوں کی گلی کوچے اور محلے کی خاک چھانتی ہوئی نظر آئی مسلم مکینوں کا کہنا ہے کہ جہاں ریلی کا انتظام ہے وہاں تو پولیس ٹہل نہیں رہی ہے بلکہ مسلم اکثریتی علاقوں میں گشت کر کے یہاں کے ماحول میں دہشت پیدا کر رہی ہے جبکہ پولیس نے اس سے صاف انکار کیا اور کہاکہ یہ معاملہ حفظ ماتقدم کا تھا اس لئے علاقوں میں پولیس دستے گشت کر رہے تھے اس سے کسی کو بھی خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔اس علاقہ کے مقامی کارپوریٹر واجد قریشی بھی رام نومی کے جلوس اور یہاں پیدا شدہ حالات کا جائزہ لینے کیلئے صبح سے ہی پولیس کے شانہ بشانہ جائے وقوع اور ہری مسجد کے پاس موجود تھے ساتھ ہی وہ عوام سے بھی امن وامان بحال رکھنے کی اپیل کر رہے تھے ۔ ممبئی پولیس نے جس طرح سے رام نومی میں شرپسندوں کو شکست دی وہ قابل تعریف بھی ہے کیونکہ اسی کے سبب وہ یہاں کشیدگی اور فرقہ وارانہ تشدد برپا کر نے کے در پے تھے لیکن پولیس نے بروقت ان کی سازشوں کو سمجھ کر ناکام کر دیا اس میں اہم رول جوائنٹ پولیس کمشنر نظم و نسق دیوین بھارتی , ڈی سی پی ونائک دیشمکھ , ڈی سی پی پرم جیت سنگھ داہیا کا بھی تھا جنہوں نے گزشتہ دیر تک اس مسئلہ پر میٹنگ کی اور پھر بجرنگ دل کے رضا کاروں کو پہلے تو اجازت دینے سے انکار کر دیا بعد میں انہیں مشروط اجازت دیدی اور کہا کہ نظم و نسق کی بر قراری میں اگر کوئی رخنہ اندازی کی گئی یا پھر کسی شرپسندی کا مظاہرہ ہوا تو پولیس ان بجرنگیوں پر سخت کارروائی کرے گی ایسے میںبجرنگ کا آج کا جلوس بھی انتہائی پھیکا پھیکا سا تھا اس جلوس میں بمشکل 5 سو شرکاء ہی شامل تھے جبکہ بجرنگ دل کے اس جلوس میں ڈے جے کا کھل کر استعمال بھی کیا گیا ۔ پولیس کے اعلی افسران نے ممبئی شہر میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بحال رکھنے کیلئے جو اقدامات کئے تھے وہ اس لئے بھی مستحسن قدم ہے کیونکہ ان کی تیاریوں کے سبب یہاں فرقہ وارانہ تشدد ہونے سے بچ گیا اور عوام نے بھی چین کی سانس لی کیونکہ یہاں کے عوام بھی امن پسند ہے اور وہ کسی قسم کا کوئی جھگڑا یا فرقہ وارانہ تشدد نہیں چاہتے ہیں ۔

You might also like