Baseerat Online News Portal

سیمی سے تعلق کے الزام میں ۵ برسوں سے قید مسلم نوجوانوں کے مقدمات کا ٹرائل جلد شروع ہونے کا امکان: مولانا ندیم صدیقی

ممبئی۔۲؍اپریل:(پریس ریلیز) سیمی سے تعلق کے الزام میں قید ۳ مسلم نوجوانوں کے التواء کے پڑے مقدمات کی سماعت کا امکان آج اس وقت پیدا ہوگیا جب ان کے مقدمات کی پیروی کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی جانب سے ایڈووکیٹ دلدار خان نے اکولہ کی عدالت میں باقاعدہ درخواست داخل کرکے ٹرائل شروع کرنے کی گزارش کی ہے جسے عدالت نے قبول کرتے ہوئے آئندہ کی سماعت کے لئے ۶؍اپریل کی تاریخ مقرر کی ہے۔ واضح رہے کہ اورنگ آباد اور کھنڈوہ سے سیمی سے تعلق رکھنے کے الزام میں ۵ مسلم نوجوانوں کو ۵ سال قبل اے ٹی ایس نے گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف عدالت میں چارج شیٹ داخل ہونے کے باوجود ابھی تک چارج فریم نہیں ہوا تھا۔ مقدمے کا ٹرائل شروع ہونے میں ہورہی تاخیر کی بناء پر جیل میں قید ان ملزمین نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر سے اس کی پیروی کی اپیل کی تھی ، جس کے بعد جمعیۃ کے وکلاء نے اس معاملے میں فوری طور پر عدالت میں ملزمین کے خلاف فردِ جرم داخل کرنے کی درخواست دی تھی۔جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدرمولانا ندیم صدیقی جو اس مقدمے پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں ، انہوں نے بتایا کہ مارچ ۲۰۱۲ اورنگ آباد کے حمایت باغ میں ایک انکاؤنٹر ہوا تھا، جس میں ایک مسلم نوجوان ماردیا گیا تھا۔ پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ موقع واردات پر دیگر ۳ لوگ موجود تھے، جنہیں اس نے مدھیہ پردیش کے کھنڈوہ سے گرفتار کیا تھا۔ ان لوگوں کے خلاف اقدام قتل سے لے کر تعزیراتِ ہند کی دیگر ۷ سنگین دفعات نیز آرمس ایکٹ و یو اے پی اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ ان کو گرفتار کرکے انہیں ملک کی مختلف جیلوں میں ڈال دیا گیا، اس کے بعد سے ان کے مقدمات مختلف وجوہات کی بناء پر التواء کے شکار ہوتے رہے۔ بالآخر ان ملزمین نے ہم سے درخواست کی کہ ان مقدمات کی پیروی ہم کریں لہذا ہم نے اپنے وکلاء سے صلاح ومشورہ کے بعد ان کی پیروی کا فیصلہ کیا۔ اب ہمارے وکیل ایڈوکیٹ دلدار خان نے عدالت میں اس کے ٹرائل شروع کرنے کی درخواست دیدی ہے، جس سے ہمیں قوی امید ہے کہ اب اس مقدمے کی سماعت بہت جلد شروع ہوجائے گی۔جمعیۃ علماء مہاراشٹر لیگل سیل کے سکریٹری ایڈووکیٹ تہور خان پٹھان کے مطابق ان ملزمین پر سیمی سے تعلق کا الزام عائد کیا گیا تھا، اوراگران کے مقدمات کی پیروی معمول کے مطابق بھی ہوئی ہوتی تو اب تک ان کا فیصلہ ہوچکا ہوتا ، مگر شاید ان کے مقدمات کی پیروی بھی ہمیں کرنا تھی، اس لئے یہ ابھی تک معلق رہا۔ یہ تینوں ملزمین گجرات کے سابرمتی جیل اور ناگپور سینٹرل جیل میں قید ہیں اور ان کے وکالت نامہ حاصل کرنے کے بعد ہم نے سب سے پہلے عدالت کے روبرو ان کے ٹرائل شروع کئے جانے کی درخواست دی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ جیسے ہی ٹرائل شروع ہوگا، سچائی سامنے آجائے گی۔ ایڈوکیٹ پٹھان کے مطابق ان ملزمین کے مقدمات کی پیروی سے قبل ہی ہم نے ان پر عائد الزامات اور پولیس کے موقف کا گہرائی سے مطالعہ کرلیا تھا، جس کی بناء پر ہمیں اس مقدمے کی پیروی سہل معلوم ہورہی ہے۔ لیکن کامیابی وناکامی اللہ رب العزت کے ہاتھ ہے، ہماری کوشش ہوگی کہ ہم اس کی ایماندارانہ پیروی کرتے ہوئے ملزمین کو انصاف دلانے کی کوشش کریں اور اللہ کی ذات سے ہمیں قوی امید ہے کہ وہ ہمیں مایوس نہیں کرے گا۔

You might also like