Baseerat Online News Portal

’’ای وی ایم کے معاملہ کی جانچ ہونی چاہیے‘‘

اکھلیش یادو نے بھی اٹھایاسوال ، کہا:بات انتخابی عمل پرعوام کے اعتماد کی ہے
لکھنؤ،2؍اپریل -مدھیہ پردیش میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم )میں ہوئی گڑبڑی کو لے کر یوپی کے سابق وزیراعلیٰ اکھلیش یادونے بھی سوال کھڑا کیا ہے ۔ٹوئٹر پر اس پراپنی بات رکھتے ہوئے یادو نے لکھا کہ اس معاملے کی جانچ ہونی چاہیے، ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ بات صرف ای وی ایم کی جانچ کی نہیں ہے ،بلکہ انتخابی عمل پر عوام کے اعتماد کی ہے۔غورطلب ہے کہ اس سے پہلے کانگریس اور عام آدمی پارٹی (آپ)نے مدھیہ پردیش میں الیکٹرونک ووٹنگ مشین (ای وی ایم)میں گڑبڑی کے معاملہ کوالیکشن کمیشن کے سامنے اٹھا تے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ انتخابات میں ای وی ایم کا استعمال روک دیا جائے اور بیلٹ کے ذریعے انتخابات کروانے کے نظام کو بحال کیا جائے۔دونوں پارٹیوں کے لیڈروں نے ہفتہ کو مدھیہ پردیش میں وی وی پی اے ٹی مشینوں کے ٹرائل کو لے کر وائرل ہوئے ویڈیو کے حوالے سے ووٹنگ مشینوں میں خرابی کے اپنے دعوے کو مضبوط بتایا۔واضح رہے کہ وی وی پی اے ٹی وہ مشین ہوتی ہیں جس سے نکلنے والی پرچی سے پتہ چلتا ہے کہ ووٹر نے کسے ووٹ دیاہے ۔ دگ وجے سنگھ کی قیادت والے کانگریس کے وفد نے چیف الیکشن کمشنر نسیم زیدی کو اس معاملے کی شکایت کرکے ویڈیو میں دکھائی دے رہے حکام کو فوری طورپر ہٹاتے ہوئے معاملے کی جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔قابلِ ذکرہے کہ وائرل ہوئے ہوئے ویڈیو میں مدھیہ پردیش کی اٹیر اسمبلی سیٹ کے لیے کل ہونے جا رہے ضمنی انتخاب میں ای وی ایم کے ٹرائل کے دوران مشین میں گڑبڑی پائے جانے کا پردہ فاش ہوا تھا ۔وفد میں کانگریسی ممبر پارلیمنٹ جیوتی رادتیہ سندھیا، کانگریس قانونی سیل کے سربراہ کے سی متل، جنرل سکریٹری موہن پرکاش اور راجیہ سبھا رکن وویک تنکھا شامل تھے۔کانگریس نے ایک میمورنڈم میں کہاکہ ای وی ایم میں چھیڑ چھاڑ کے پیش نظر پورے عمل کی دوبارہ جانچ ضروری ہے۔آئندہ انتخابات میں ای وی ایم کے استعمال سے پہلے ان مشینوں کی دیکھ بھال ، آپریشنل اور ڈیٹا فیڈ کرنے والے لوگوں اور ایجنسیوں کی جانچ کی جانی چاہیے ۔پارٹی جنرل سکریٹری دگ وجے سنگھ نے کہا کہ اگلے انتخابات، بھلے ہی وہ گجرات میں ہو یا کہیں اور ، بیلٹ کے ساتھ ہونے چاہیے اورای وی ایم کا استعمال بند ہونا چاہیے ۔انہوں نے ای وی ایم کے استعمال کی مجبوری پر سوال اٹھایا، جس کے چپ درآمد کئے جاتے ہیں۔انہوں نے دلیل دی کہ اگر بینک آف بنگلہ دیش کے اکاؤنٹس کو ہیک کیا جا سکتا ہے اور آٹھ کروڑ ڈالر چرائے جا سکتے ہیں، روسی بینک سے تین کروڑ ڈالر نکالے جا سکتے ہیں تو ای وی ایم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کیوں نہیں کی جا سکتی؟دگ وجے سنگھ نے کہاکہ اڈوانی سے لے کر مایاوتی اور کیجریوال تک ،میں ان کے ساتھ ہوں۔قابل ذکر ہے کہ اڈوانی نے 2009کے انتخابات میں ای وی ایم کو لے کر سوال اٹھائے تھے، جب یوپی اے اتحاد مسلسل دوسری بار الیکشن جیتنے میں کامیاب ہوا تھا ۔

You might also like