Baseerat Online News Portal

جمعیۃ علماء ہند کی نشہ وفحاشی مخالف کانفرنس کل

شراب نوشی تمام برائیوں کی جڑ ہے ،لباس تہذیب وشرافت کا آئینہ ہے :حکیم الدین قاسمی
دیوبند 3؍اپریل (رضوان سلمانی) کل (آج)دیوبند میں ہونے والی جمعیۃ علماء ہندکی جانب سے ضلع سطحی قومی یکجہتی کانفرنس کے سلسلہ میں آج محمود ہال میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد عمل میں آیا اس موقع پر جمعیۃ علماء ہند کے قومی سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند نے نے اجمیر میں منعقداپنے 33ویں اجلاس عام میں یہ اعلان کیا تھا کہ 2017 کا پورا سال نشہ اور فحاشی مخالف مہم کے طور پر منایا جائے گا ، چنانچہ اسے عملی جامہ پہناتے ہوئے جمعیۃ کے صوبائی و ضلعی یونٹوں نے ملک کے مختلف حصوں میں بڑے بڑے اجلاس کیے اور کر رہے ہیں ۔ دیوبند کی کل منعقد ہونے والی یہ ’’قومی یک جہتی کانفرنس‘‘ اس مہم کے سلسلہ وار پروگرام کا ایک حصہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند جرائم اور اخلاق سوز رسم و رواج سے پاک معاشرہ کی تشکیل کے لیے ہمیشہ کوشاں رہی ہے ، بالخصوص سماج کے وہ طور و طریق جو موجودہ دور میں سماجی روایات کے بجائے متعدی جرم بن چکی ہیں ، ان کے خاتمہ کے لیے ہر ممکن جدوجہد کرتی رہی ہے اور کل کی یہ کانفرنس ان شاء اللہ ان برائیوں کے خاتمے کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگی۔مولانا قاسمی نے سماجی جرائم کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات میں سے انسان کو اشرف و اعلیٰ اسی وجہ سے قرار دیا ہے کہ اللہ پاک نے اسے عقل جیسی نعمت عطا کی ہے۔یہ عقل ہی کی خوبی ہے جو اسے حیوان سے ممتاز بناتی ہے ،لیکن لیکن منشیات اور شراب پی کر اللہ کی بخشی ہوئی اس بیش قیمت نعمت ی ناشکری کرنا اور اسے زائل کرکے حیوانیت کے صف میں داخل ہونے کی حرکت کرنا انسان کے درجہ سے گرا ہوا اور انتہائی ذلیل کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے رب کریم نے قرآن کریم میں شراب اور نشہ کو تمام بیماریوں کی جڑ بتایا ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ نعمت دی ہے، تو اس کی حفاظت کرنا ضروری ہے۔ منشیات کے استعمال سے جہاں انسان کی صحت متاثر ہوتی ہے، وہیں طلاق، لڑائی اور گالم گلوچ جیسی سماجی برائیاں بھی جنم لیتی ہیں۔اور گھر کاگھر تباہ ہوجاتا ہے۔ مولانا قاسمی نے کانفرنس کے ایک ایجنڈے فحاشی و عریانیت کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ سماج کی ایک دوسری بڑی برائی ہے۔ لباس تہذیب و شرافت کا آئینہ ہے، شرم و حیا کا معیار ہے ، اس لیے اسلام میں مرد اور عورت دونوں کے لیے لباس کے حدود طے کردیے گئے ہیں، لیکن آج پورا معاشرہ مغرب کی اندھی تقلید میں اس حد تک حد سے گذر گیا ہے کہ اسے نہ اپنی تہذیب و شرافت کا خیال ہے اور نہ شرم و حیا کی کوئی پرواہ، جس کا منفی نتیجہ یہ سامنے آرہا ہے کہ معاشرے میں جنسی بے راہ روی بڑی تیزی پھیل رہی ہے اور صنف نازک کے ساتھ انسانیت کو شرمسار کردینے والے واقعات پیش آرہے ہیں، اس کانفرنس میں اس کے سد باب کے طریقوں پر غور کیا جائے گا۔انھوں نے سماج میں پنپ رہی جہیز، سودی کاروبار، جنین کشی اور غیر اسلامی طریقے سے طلاق دینے جیسے غلط کاموں کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ کل کی کانفرنس میں ان کی روک تھام کے لائحہ عمل پیش کیے جائیں گے۔ مولانا نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہ کانفرنس قومی اور ملی اتحاد کا آئینہ دار بھی ہے ، مشترک سماجی اور ملی مسائل میں برداران وطن کو شریک کرنا اور ان کے ساتھ ایسی تحریکوں کو چلانا یہ جمعیۃ علماء ہند کی قدیم روایت رہی ہے او ریہی وہ راہ ہے جس کے ذریعے سے فرقہ پرستی اور ہندستان کے شہریو ںکے درمیان ذات اور مذہب کے نام پر تقسیم کرنے والوں کو شکست دی جاسکتی ہے ۔ملک میں جس طرح فرقہ پرستی کا عروج ہو رہا ہے اور جس طرح لوگوں کے دلوں میں نفرت پیدا کی جارہی ہے ، اس کا مقابلہ انتہائی ناگزیر ہے ۔ اترپردیش میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد پیدا ہونے والے حالات کسی سے مخفی نہیں ہیں ۔جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا سید محموداسعد مدنی ہمیشہ سے بزرگوں کے اس طریقے پر قائم رہے ہیں کہ ہمیں سرکار کے بدلنے سے نہیں ڈرنا ہے ، کیوں کہ مسلمان کوئی بتاشہ نہیں ہے کہ پانی پڑنے سے پگھل جائے ، ہاں برادران وطن کی اکثریت جومسلمانوں سے اچھا تعلق رکھتی ہے ، ہم ان کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط کریں او را پنے کردار اور اعمال سے خود کو دوسروں کے لیے مفید بنائیں۔استقبالیہ کمیٹی کے سرپرست مولانا حسیب صدیقی خازن جمعیۃ علماء ہند نے کاپریس نفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام ایک دین فطرت ہے ، اس میں کوئی ایسی ہدا یت یا تعلیم نہیں ہے، جو ذرہ برابر بھی انسان اور انسانیت کے لیے نقصان دہ ہو، کیوں کہ یہ کسی انسان کا بنایا ہوا دستور نہیں ہے؛ بلکہ خود خالق فطرت کی عطا کردہ شریعت ہے، جس میں نہ کسی نقص کا شائبہ ہوسکتا ہے اور نہ ہی کمی کا گزر ہوسکتا ہے؛ لیکن موجودہ دور میں جہاں ایک طرف اسلام کی خوبیوں سے ناواقف افراد منصوبہ بند طریقے سے مذہب اسلام کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلانے کی مذموم مہم چلا رہے ہیں، وہیں دوسری طرف مسلمانوں کے خود اپنے اسلام مخالف کردار اوراسلامی طرز حیات کے خلاف زندگی گزارنے کی وجہ سے غیر قوموں کی نگاہ میں اسلام کی شبیہ داغدار ہوتی جارہی ہے ، فرد ہو یا معاشرہ دونوں سطحوں پر ہم اسلامی تعلیمات سے دور ہوتے چلے جارہے ہیں، جس کی وجہ سے غیر مسلموں کو اسلام پر انگلی اٹھانے کا موقع مل رہا ہے۔ ایسی صورت حال میں ہمارا کیا کردار ہونا چاہیے ، اور اس کے لیے کون کونسی مناسب تدابیر اختیار کی جانی چاہیے ، ان تمام حوالوں سے اجلاس میں بات کی جائے گی۔انھوں نے کانفرنس کے دیگر ایجنڈوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس اس کانفرنس میں اور کئی اہم ایجنڈے ہیں ، جس میں مسلمانوں کی تعلیمی اور اقتصادی مسائل و حالات ، قومی و ملی معاملات میں مسلکی تحفظات سے اوپر اٹھ کر متحدہ جدوجہد کرنے پر زور اور قومی یک جہتی کے فروغ بھی شامل ہیں۔ کانفرنس کے تعلق سے معلومات دیتے ہوئے کانفرنس کے کنوینر سید ذہین احمد جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ضلع سہارنپور نے بتایا کہ سرزمین دیوبند قاسم پورہ میںکل یعنی 4؍اپریل شام پانچ بجے قومی یکجہتی کانفرنس کا انعقاد ، جمعیۃ علماء ہند کے نشہ اور فحاشی مخالف مہم 2017کا حصہ ہے ۔جس میں جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری اور قائد جمعیۃ مولاناسید محمو اسعدد مدنی کے علاوہ ، آچاریہ پرمود کرشنم، مولانا متین الحق اسامہ صدر جمعیۃ علما ء یوپی اوربرادران وطن کے ذمہ دارا ر افرا د کو مدعو کیا گیا ہے ۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ کانفرنس جمعیۃ علماء سہارن پور کے زیر اہتمام منعقد ہو رہی ہے ، جس کی صدارت مولانا ظہور احمد صدر جمعیۃ علماء ضلع سہارن پور فرمائیں گے، جب کہ جمعیۃ علماء اترپردیش کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد مدنی اس کی نگرانی اور سرپرستی کریں گے۔

You might also like