Baseerat Online News Portal

مسعود مدنی پر حملہ کرنے والا بی جے پی لیڈرپولیس کی گرفت میں

دیوبند 3؍اپریل (رضوان سلمانی) گزشتہ دو روز قبل مسعود مدنی کے ایک مقدمے میں سہارنپور جیل سے دیوبند عدالت میں سماعت کے دوران ہندو شدت پسند تنظیموں اور بی جے پی لیڈران کے ذریعہ پٹائی اور ہنگامہ آرائی کے معاملے میں آج دیوبند پولیس نے دیوبند کے متصل گائوں ننہیڑا آسا کے گائوں پردھان کو گرفتار کیا ہے ، پولیس کے مطابق مذکورہ پردھان سماعت کے دوران مسعود مدنی پر ہوئے حملے میں شامل تھا وہیں مسعود مدنی کے حامیوں نے پولیس انتظامیہ پر الزام عائد کیا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے مسئلے میںپولیس کی جانب سے لاپرواہی برتی جارہی ہے ۔ موصولہ اطلاع کے مطابق گزشتہ دنوں مسعود مدنی کو ایک مقدمہ کی سماعت کے لئے سہارنپور جیل سے دیوبند عدالت میں لایا گیا تھا اسی دوران بی جے پی اور بجرنگ دل کے کارکنان کے ذریعہ عدالت احاطہ میں ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے ان پر جان لیوا حملہ کیا گیا تھا ، 3روز قبل ہوئے اس ہنگامہ آرائی کے بعد آج پولیس نے مدنی پر حملے کے ملزم ننہیڑا کے گائوں پردھان رویندرچودھری کے گھر پر دبش دیتے ہوئے اسے گرفتار کیا ہے ، پولیس نے آناً فاناً میں ملزم گائوں پردھان کو جیل بھیج دیا ہے پولیس کے مطابق اس کی گرفتاری ویڈیوفوٹیج کی بنیاد پر کی گئی ہے ، دیگر فرار افراد کی گرفتاری پر دبش دے رہی ہے ، انہیں بھی جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔ وہیں بی جے پی لیڈر ٹھاکر انل سنگھ نے پولیس انتظامیہ پر بے قصور کارکنان کا استحصال کرنے کا الزام عائد کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دیوبند پولیس بی جے پی حکومت میں ہی ان کے کارکنان کا اعتماد توڑنے کوشش کررہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پولیس کی یہ تانا شاہی کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کی جائے گی۔ دوسری جانب مسعود مدنی کے حامیوں نے پولیس انتظامیہ پر الزام عائد کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار نہ کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ حملے میں ملوث ملزمان شہر میں بے خوف گھوم رہے ہیں لیکن انتظامیہ ان افراد کی گرفتاری نہیں کررہی ہے صرف خانہ پورتی سے کام لے رہی ہے جسے کسی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔ واضح ہو کہ پولیس کے ذریعہ نرم رویہ اختیار کرنے کو لے کر مختلف قسم کی افواہیں گشت کررہی ہیں ، ایک جانب پولیس کے اعلیٰ افسران اس معاملے کو نہایت سنجیدگی سے لینے کی بات کررہے تھے لیکن پولیس کے ڈھل مل رویہ سے یہ بات واضح ہوگئی کہ انتہا پسندوں کو کہیں نہ کہیں پولیس کی حمایت حاصل ہے جس کے سبب آج وہ بے خوف ہوکر کھلے عام گھوم رہے ہیں ۔ پولیس کی لاپرواہی کے سبب جان لیوا حملے کو جتنا وقت گزررہاہے اتنی ہی ہندو شدت پسند تنظیموں کے کارکنان کے تئیں ہمدردیاں بڑھتی جارہی ہیں اور یہ معاملہ اب سیاست زدہ ہوتا جارہا ہے ، ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ بی جے پی کے ایک ممبر پارلیمنٹ مداخلت کررہے ہیں اور مسعود مدنی پر حملہ کرنے والے نامزد ملزمان کو اس معاملہ سے باہر کرنے کی کوشش میں پیش رفت کررہے ہیں۔

You might also like