Baseerat Online News Portal

آپ کے شرعی مسائل

مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی
سجدہ میں کہنیاں پھیلانا
سوال :- اکثر ایسا ہوتا ہے کہ باجماعت نماز پڑھنے کے دوران جب سجدے میں جانا ہوتا ہے تو سجدہ کرنے میں دقت بلکہ سجدے کی باقاعدہ ادائیگی ناممکن ہوتی ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ میرے دائیں بائیں جو مصلیان ہوتے ہیں ، ان میں سے کوئی ایک یا دونوں اپنی کہنیاں اس قدر پھیلائے رکھتے ہیں کہ جس سے اُصولاً سجدہ کرنا محال ہوجاتا ہے ، بتائیے کہ مجھے کیا کرنا چاہئے ؟ اور یہ بھی بتائیے کہ سجدہ کرنے کے آداب کیا ہیں ؟ (محمد انعام الحق ، عادل آباد)
جواب :- رسول اللہ ا کا اُسوہ یہی ہے کہ سجدہ میں پیٹ رانوں سے اور بازو پہلوؤں سے الگ ہو ، اسی لئے فقہاء نے اس کو مستحبات نماز میں شمار کیا ہے ؛ لیکن اگر جماعت سے نماز پڑھ رہے ہوں ، صف کے درمیان میں ہوں اور بازو ہٹاکر اور کہنیاں پھیلاکر رکھنے کی وجہ سے پڑوسیوں کو زحمت ہوتی ہو تو پھر کہنیاں اس درجہ نہیں نکالنی چاہئے کہ دائیں بائیں کے نمازیوں کو دشواری پیش آئے اور ان کے لئے سجدہ کرنا دشوار ہوجائے ، شریعت کا مزاج یہی ہے کہ انسان ایسے عمل سے بچے ، جو دوسروں کے لئے باعث مشقت ہو ، فقہاء نے اس کی صراحت کی ہے : ’’ ویظھر عضدیہ فی غیر زحمۃ ویباعد بطنہ عن فخذیہ لیظھر کل عضو بنفسہ ، بخلاف الصفوف ، فإن المقصود اتحادھم حتی کأنھم جسد واحد ‘‘ ۔ ( الدرالمختار مع ردالمحتار : ۱؍۵۰۳)
صفوں میں مل کر کھڑے ہونے کا حکم
سوال:- کچھ لوگ مساجد ( یا کہیں ) میں باجماعت صف میں کرسیوں پر تشریف فرما ہوتے ہیں ، کیا یہ صف سیدھی ، درست اور برابر ہے ، جب کہ یہ کرسی پر بیٹھے ہوئے اور ہم کھڑے ہوئے ، نہ ان کے پیر ہمارے پیر کی قطار میں ، نہ ان کے سر ہمارے سر کے برابر اور نہ ہی ان کے کندھے ہمارے کندھے سے ملے ہوئے ! سرورِ کونین حضرت محمد مصطفی انے ارشاد فرمایا کہ :’’ اپنی صفوں کو برابر کرو ، بلا شبہ صفوں کا برابر کرنا نماز کے قائم کرنے میں سے ہے ‘‘ حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ا نے فرمایا اپنی صفیں ملی ہوئی رکھو ( یعنی کندھے سے کندھا اور قدم سے قدم ملاکر کھڑے ہو ) اور صفوں کے درمیان نزدیکی کرو ( یعنی دو صفوں کے درمیان اتنا فاصلہ نہ چھوڑ و کہ وہاں ایک اورصف کھڑی ہوسکے) اور گردنیں برابر رکھو ( یعنی سب برابر جگہ پر کھڑے ہوکہ گردنیں برابر ہوں ) قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، تحقیق کہ میں شیطان کو دیکھتا ہوں ، جو صف کے شگافوں میں داخل ہوتا ہے ، گویا وہ بکری کا سیاہ بچہ ہے ‘‘ ( مسلم الصلاۃ ، باب تسویۃ الصفوف ، حدیث نمبر : ۴۳۶) حضرت نعمان بن بشیر ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ انے لوگوں کی طرف منھ کرکے فرمایا : ’’ لوگو ! اپنی صفیں سیدھی کرو ، لوگو ! اپنی صفیں درست کرو ، لوگو ! اپنی صفیں برابر کرو ، سنو ! اگر تم نے صفیں سیدھی نہ کیں تواللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں اختلاف اور پھوٹ ڈال دے گا ، پھر تو یہ حالت ہوگئی کہ ہر شخص اپنے ساتھی کے ٹخنے سے ٹخنا ، گھٹنے سے گھٹنا اور کندھے سے کندھا چپکا دیتا تھا‘‘ ۔ ( ابوداود ، ابواب الصفوف ، باب تسویۃ الصفوف ، حدیث نمبر : ۶۶۲ ، ابن حبان : ۳۹۶)
چنانچہ اس ضمن میں کیا فرماتے ہیں علماء کرام ؟ (اشرف علی، صنعت نگر)
جواب :- بلا عذر کرسی پر پیٹھ کر نماز پڑھنا درست نہیں ؛ البتہ اگر کوئی شخص زمین پر سجدہ کرنے پر قادر نہ ہو ، یا زمین پر بیٹھ کر نماز نہ ادا کرسکتا ہو ، تو اس کے لئے کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کی گنجائش ہے ، کرسی پر نماز پڑھنے والوں کے لئے بہتر ہے کہ صف کے کنارہ نماز پڑھے ؛ تاکہ صف کے اندر خلل پیدا نہ ہو ، صف کو برابر رکھنے کی رسول اللہ انے تاکید فرمائی ہے ، جو لوگ کھڑے ہوکر نماز پڑھیں وہ اپنی صفوں کو قدم کے اعتبار سے برابر رکھیں گے اور جو لوگ بیٹھ کر نماز ادا کریں ان کے لئے یہ حکم ہے کہ جسم کا پچھلا حصہ کھڑے ہوئے نمازیوں کے قدموں کے برابر ہوجائے ، یہاں تک کہ قعدہ کے حالت میں تمام نمازی برابری میں نظر آئیں ، اس لئے جب کرسی پر نماز ادا کی جائے تو کرسی کے پچھلے دونوں پایوں کو نمازیوں کے قدم کے مقابلہ میں ہونا چاہئے ، گویا اس طرح کرسی پر بیٹھنے والا دوسرے نمازیوں کے قدم سے قدم ملاکر نماز ادا کرتا ہے ، نیز کرسیاں اس طرح ملاکر رکھنا چاہئے کہ درمیان میں فصل نہ ہوجائے ، بہر حال شریعت میں حالت ِاختیار اور حالت ِمجبوری کے الگ الگ احکام ہیں ، یہ حکم بھی مجبوری کے درجہ میں ہے کہ اس میں مکمل طورپر تو صف کی برابری نہیں ہوسکتی ؛ لیکن جس حد تک صفوں کو برابر رکھنا ممکن ہو ، اس کی کوشش کی جائے گی ۔
میاں بیوی کا مِل کر جماعت کرنا
سوال:- میں اور میری بیوی جماعت کرکے نماز پڑھ رہے ہوں اور میں امامت کررہا ہوں ، تو ہم دونوں کس طرح کھڑے ہوں ؟ (محمد سلیم ، لنگم پلی)
جواب :- شوہر اور بیوی ایک ساتھ جماعت بنالیں یہ درست ہے ، رسول اللہ انے بھی بعض ازواج مطہرات کے ساتھ جماعت کی ہے ، خاص کر حضرت میمونہؓ کے ساتھ آپ اکے نماز پڑھنے کا ذکر متعدد حدیثوں میں آیا ہے ، ایسی صورت میں عورت کو پچھلی صف میں کھڑا ہونا چاہئے ، تاہم اگر وہ اتنا پیچھے بھی کھڑی ہوجائے کہ اس کے پاؤں رکھنے کی جگہ مرد کے پاؤں رکھنے کی جگہ سے نیچے ہو ، تب بھی نماز درست ہوجائے گی : ’’ المرأۃ إذا صلت مع زوجھا فی البیت إن کان قدمھا محل أقدام الزوج لا تجوز صلا تھما بالجماعۃ ، وإن کان قدمھا خلف قدم الزوج إلا أنھا طویلۃ تقع رأس المرأۃ فی السجود قبل رأس الزوج جازت صلا تھما ‘‘ ۔
(البنایۃ شرح الہدایہ : ۲؍۳۴۹)
لڑکے کا غیر محرم جوان لڑکی سے قرآن مجید پڑھنا
سوال:- ایک بالغ غیر شادی شدہ لڑکا اپنے چچا کے گھر جاکر چچا کی لڑکی بالغہ غیر شادی شدہ سے بغیر پردہ کے تعلیم قرآن حاصل کرتا ہے ، جب کہ لڑکا آسانی سے کسی مرد استاذ سے قرآن کی تعلیم حاصل کرسکتا ہے ، کیا ان کا اپنی چچا کی لڑکی سے قرآن کی تعلیم حاصل کرنا جائز ہے ؟ (ایک قاریہ ، بشیر باغ)
جواب:- آپ نے جو صورت لکھی ہے ، اس میں کئی قباحتیں ہیں ، ایک یہ کہ اس میں پڑھنے والے اور پڑھانے والی کے درمیان تنہائی کی نوبت آسکتی ہے ، جو قطعاً جائز نہیں ، رسول اللہ انے ارشاد فرمایا کہ جب دو غیر محرم مرد و عورت کے درمیان تنہائی ہوتی ہے تو ان میں کا تیسرا شیطان ہوتا ہے : ’’ لا یخلون رجل بإمرأۃ إلا کان ثالثھا الشیطان‘‘ ( ترمذی ، کتاب الفتن ، باب ماجاء فی لزوم الجماعۃ ، حدیث نمبر : ۲۱۶۵) ، دوسرے : بظاہر اس تعلیم و تعلم میں لڑکی کے چہرہ کھولنے کی بھی نوبت آئے گی اور چوںکہ دونوں کی عمر کے لحاظ سے اس میں فتنہ کا اندیشہ ہے ؛ اس لئے یہ بھی درست نہیں : ’’ وتمنع المرأۃ الشابۃ من کشف الوجہ بین الرجال لا لأنہ عورۃ بل لخوف الفتنۃ‘‘ ( الدر المختار مع ردالمحتار : ۲؍۷۹) ، تیسرے : گفتگو اور آواز میں بھی کشش ہوتی ہے اور یہ چیز بھی انسان کے نفسانی جذبات کو مہمیز کرتی ہے ؛ اسی لئے فقہاء نے عورت کی مترنم آواز کو قابل ستر قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ بہتر ہے کہ عورت عورت ہی سے قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرے نہ کے مرد سے ، مرد کے اجنبی عورت کی قرا ء ت کو سننے کی نوبت نہیں آنی چاہئے : ’’ نغمۃ المرأۃ عورۃ وتعلمھا القرآن من المرأۃ أحب … فلا یحسن أن یسمعھا رجل‘‘ (ردالمحتار : ۲؍۷۸-۷۹) — اس لئے جو صورت آپ نے ذکر کی ہے ، وہ درست نہیںہے ، اس لڑکے کو چاہئے کہ مدرسہ ، مکتب یا مسجد میں جاکر ، یا کسی مرد استاذ کا وقت حاصل کرکے ان سے تعلیم حاصل کرے ، بالحضوص عمر کے اس مرحلہ میں فتنہ کا قوی اندیشہ ہوتا ہے ، واللہ ھو الموفق۔
مسجدوں میں سیاسی جلسے و اعلانات
سوال:- کیا مساجد میں سیاسی جلوس و جلسوں کا اعلان کہ فلاں دن فلاں مقام جلسہ منعقد کیا جارہا ہے ، و نیز دیگر سرکاری محکمہ جات کے اعلانات جیسے کہ محکمہ آب رسانی کی طرف سے فلاں دن پانی کی سربراہی نہیں ہوگی ، فلاں دن پولیو کے ڈروپس دیئے جائیں گے ، آدھار کارڈ یا ووٹر لسٹ میں ناموں کے اندراج کا یا محکمہ پولیس کی جانب سے اعلانات اور محلہ میں کمسن بچوں کی گمشدگی کے اعلانات کرانا درست ہے ؟ اگر درست نہیں ہے تو مساجد کی انتظامیہ کا کیا اقدام ہونا چاہئے ؟ (اشفاق احمد ، شمشیر گنج)
جواب:- مسجدیں عبادت جیسے نماز ، اعتکاف ، تلاوت اور ذکر وغیرہ کے لئے ہیں ، خالص دینی اعمال کو مسجد میں انجام دینا درست ہے ، جیسے دینی جلسے ، نکاح میں بھی چوںکہ عبادت کا پہلو پایا جاتا ہے ، اس لئے رسول اللہ انے مسجد میں محفل نکاح رکھنے کی ترغیب دی ہے ، جو دنیوی اُمور ہیں ، مسجد میں ان کی اجازت نہیں ، اسی لئے مسجد میں جائز دنیوی باتوں ، خرید و فروخت کی گفتگو اور گمشدہ چیز کے اعلان کو بھی منع فرمایا گیا ہے ؛ لہٰذا سیاسی جلسہ و جلوس اور دوسرے سماجی و سرکاری اُمور کا مسجد میں اعلان کرنا درست نہیں ، اگرچہ یہ جائز اُمور ہیں ؛ لیکن ان کا اعلان مسجد سے باہر ہونا چاہئے ، حکم شرعی کے علاوہ یہ موجودہ ماحول اور مصلحت کے بھی خلاف ہے ، اگر آپ ایک پارٹی کا اعلان کریں گے تو دوسری پارٹی کے لوگ بھی آپ سے اعلان کا مطالبہ کریں گے اور کل ہوکر مسجد کے پڑوس میں رہنے والے غیر مسلم بھائی بھی اپنی کمیونٹی سے متعلق اعلانات کے لئے آپ کو مکلف کریں گے ؛ لہٰذا مسجد کو ایسے مقاصد کے لئے ہرگز استعمال نہیں کرنا چاہئے ، یہ شریعت کے مزاج کے بھی خلاف ہے اورموجودہ حالات کی مصلحت کے بھی ۔
پولیو ڈروپ پلانا
سوال:- کیا اپنے بچوں کو پولیوں کا ڈروپ پلانا چاہئے یا نہیں ، بعض لوگ اس کو پلانے کا اہتمام کرتے ہیں ، یہ اعتقاد کرتے ہوئے کہ کہیں بچہ کو پولیوں کا مرض لاحق نہ ہوجائے ، اس کا حل مطلوب ہے ؟ ( مصباح الحق ، ٹولی چوکی)
جواب:- علاج کرانا درست ہے ، علاج کی دو صورتیں ہوتی ہیں ، ایک یہ کہ بیماری پیدا ہونے کے بعد اس کو دور کرنے کے لئے علاج کرایا جائے ، دوسری صورت یہ ہے کہ جس بیماری کے پیدا ہونے کا اندیشہ ہو ، احتیاطی طورپر پہلے ہی سے ایسی تدبیر اختیار کیا جائے کہ انسان اس امکانی بیماری سے محفوظ ہوجائے ، یہ دونوں ہی صورتیں علاج میں شامل ہیں ، رسول اللہ انے خود علاج کرایا ہے ، اپنے رفقاء کے علاج کے لئے بھی معالج کی مدد لی ہے ، اور علاج کرانے کی ترغیب بھی دی ہے ، علاج کی حیثیت ایک انسانی تدبیر کی ہے جس میں انسان اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی چیزوں کا استعمال کرنا ہے ، دوائیں کوئی بھی ہوں ، وہ بہر حال سبب کے درجہ میں ہیں اور ان کا مفید ہونا اور نہ ہونا اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کے تابع ہے ؛ اس لئے اگر کوئی شخص دوا کو بذات خود مؤثر سمجھنے لگے اور اسی کو ذریعۂ شفا ء یقین کرے تو یہ عقیدۂ توحید کے مغائر ہے ؛ البتہ اگر تجربہ اور معالج کے مشورہ کی بنیاد پر کسی دوا کے فائدہ مند ہونے کا گمان ہو اور یقین ہو کہ اصل شفا ء و صحت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
مریض کی سود کی رقم سے مدد
سوال:- اگر کوئی مریض بہت ہی غریب ہو ، علاج کے لئے پیسے نہ ہوں ، تو کیا سود کی رقم سے اس کا علاج کرایا جاسکتا ہے ؟ ( عبد الکریم ، بنجارہ ہلز)
جواب:- اگر کسی شخص کے پاس انٹرسٹ کی رقم آگئی ہو اور وہ کسی فرد سے حاصل کی گئی ہو ، تو یہ رقم اصل مالک کو واپس کردینا واجب ہے ؛ لیکن اگر اس شخص کا پتہ نہ ہو ، جس سے سود لیا گیا تھا ، یا بینک سے ملنے والی انٹرسٹ کی رقم ہو ، تو اس کا مصرف یہ ہے کہ اس کو غریب ضرورت مندوں پر خرچ کردیا جائے اور چوںکہ علاج بھی انسان کے لئے بہت بڑی ضرورت ہے ؛ اس لئے یہ رقم غریب شخص کے علاج کی مد میں بھی دی جاسکتی ہے ۔
غیر مسلم اسپتال کے غرباء فنڈ سے استفادہ
سوال:- اگر کوئی اسپتال غیر مسلم انتظامیہ کے تحت چلتا ہو اور اسپتال میں غریبوں کے لئے خصوصی فنڈ ہو ، جو بظاہر غیر مسلم حضرات کا دیا ہوا ہوگا تو کیا غریب مسلمان بھی اس سے استفادہ کرسکتے ہیں ؟ ( محمد شفیع حیدر ، آصف نگر)
جواب:- علاج بھی ایک انسانی مسئلہ ہے اور غربت بھی ایسی چیز ہے ، جو کسی بھی انسان کو پیش آسکتی ہے ؛ اس لئے اس میں انسانی نقطۂ نظر پیش نظر رکھنا چاہئے ، غریب مسلمان مریض ایسے فنڈ سے فائدہ اُٹھاسکتا ہے ، خاص کر اس بنیاد پر کہ جو بھائی ابھی تک ایمان کے دائرہ میں نہیں آئے ہیں ، وہ شریعت کے فروعی احکام و تفصیلات کے مخاطب نہیں ہیں اور ان کا پیسہ استعمال کرنا جائز ہے ، اسی طرح مسلم انتظامیہ کے تحت جلنے والے اسپتال میں اگر غریبوں کے لئے فنڈ ہو تو سوائے زکوٰۃ کے اس فنڈ سے غریب غیر مسلم مریض کی بھی مدد کرنی چاہئے ، رسول اللہ ا نے غیر مسلموں کا ہدیہ قبول کیا ہے ، ان کی دعوت میں شرکت کی ہے ، خود آپ انے بھی غیر مسلم حضرات کو تحفہ دیا ہے ، ان کی ضیافت کی ہے اورقدرتی آفات کے موقع پر ان کی مدد فرمائی ہے ۔
(بصیرت فیچرس)

You might also like