Baseerat Online News Portal

گائے کی حفاظت کیلئےشیعہ گؤرکھشادل کاقیام

ملک بھرمیں گائے کے نام پرجاری غنڈہ گردی کو مزید تقویت ملنے کا خدشہ
لکھنؤ،۸اپریل :(روزنامہ ممبئی اردو نیوز)اتر پردیش میں شیعہ مسلم نوجوانوں کے ایک گروپ نے ’گئو رکھشادل‘ تشکیل دیا ہے۔ لکھنؤ کے پریس کلب میںجمعہ کے روز ایک پریس کانفرنس کرکے’شیعہ گئو رکھشادل‘ بنانے کا اعلان کیاگیااور شامل شمسی کو اس تنظیم کا سربراہ مقررکیاگیاہے۔ اس ٹیم نے کہا کہ وہ لوگ ریاست بھر میں لوگوں کو خاص طور پر مسلمانوں کو گؤهتيا کے خلاف آگاہ کریں گے۔ واضح ر ہے کہ دو دن پہلے ہی آل انڈیا شیعہ پرسنل لاء بورڈ نےگائے ذبیح پر لگی پابندی کو صحیح ٹھہرایاتھا۔ لکھنؤ میں بدھ کو آل انڈیا شیعہ پرسنل لاء بورڈ کی مجلس عاملہ کی میٹنگ میں شیعہ مذہبی رہنماؤں نے گؤكشي کو شیعہ فرقے کے لئے حرام قرار دیتے ہوئے اس پر روک لگانے کا مطالبہ کیاتھا۔میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ ہندوستان میں گائے کا گوشت کھانا اور گائےکاذبحہ کرنا حرام ہے۔ شیعہ پرسنل لاء بورڈ کے صدر مولانا مرزا محمد اشفاق کی صدارت میں مجلس عاملہ میٹنگ میں یوگی حکومت کے سلاٹر ہاؤسوں کو لے کر کئے گئے فیصلے کا خیر مقدم کیا گیا تھا۔آل انڈیا شیعہ پرسنل لاء بورڈ نے مرکزی حکومت سے طلاق ثلاثہ پرپابندی عائدکرنے کیلئےقانون بنانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ جمعہ کو منعقد ہ مذکورہ پریس کانفرنس میں ’شیعہ گئو رکھشادل‘کے ممبران بھگوارنگ کاگھمچہ پہنے ہوئے تھے ۔شامل شمسی نے کہاکہ آئندہ دومہینوں میں ہم نے اپنی تنظیم کو پوری ریاست میں پھیلائیں گے ۔یہ ہرمسلمان کا فرض ہے کہ وہ گائے کی حفاظت کرے ۔ہمارے کارکن علاقے میں ہونے والےکسی بھی گائے ذبیح کی اطلاع پولیس کو دیں گے۔جن ریاستوں میں گؤہتیاپر پابندی نہیں ہے ،ہمیں امیدہے کہ وہاں حکومت اس پر پابندی عائد کرے گی ۔ہم اس تعلق سے عوام میں بیداری پیداکریں گے ۔یہ ہر مسلمان کیلئے اچھاہوگاکہ وہ اپنے گھر کے باہر گائے کیلئے چارااور پانی کا انتظام کریں ‘‘۔ریاست میں بی جے پی حکومت بننے کے بعد شامل شمسی نے سابق وزیر اعظم خان پر وقف املاک میں گھپلے کرنے کا الزام لگایاتھا۔شامل شمسی نے کہاکہ پرانے لکھنؤمیں امام باڑہ زین العابدین میں منعقدہ شیعہ نوجوانوں کی میٹنگ میں ’شیعہ گئو رکھشادل‘ بنانے کا فیصلہ کیاگیاتھا ۔اس کےعلاوہ ایک دیگر شیعہ عالم علی ناصر سعیدعباقتی عرف مولاناآغاروحی نے بھی جمعہ کو گؤہتیاپر پابندی عائد کرنے کی حمایت کی تھی اور ایک پریس ریلیز جاری کرکے کہاتھاکہ ملک میں امن اور ترقی کیلئے وزیراعظم نریندرمودی کو چاہئے کہ تمام مسلم علماءسے گائے کے ذبیح پر پابندی عائد کرنے سے متعلق فتویٰ جاری کرنے کیلئے متحد ہونے کیلئے کہیں۔مولاناآغاروحی بی جے پی کے ایک فعال رکن بھی ہیں ۔انھوںنے دعویٰ کیاکہ شیعہ مسلمانوں نے ۱۹۶۰میں فتویٰ جاری ہونے کے بعد سے گائے کا گوشت کھانابندکردیاہے ۔واضح رہے کہ مرکز میں بی جے پی کی زیرقیادت حکومت بننے کے بعد سے ہی ملک بھر میں گائے کی حفاظت کے نام پر گؤرکھشادل کے اراکین کے ذریعےغنڈہ گردی کرنے کے کئی معاملات سامنے آچکے ہیں جن پر نہ صرف میڈیامیں کافی تنقید ہوئی ہے بلکہ سماجی کارکنان نے بھی گؤرکھشاکی آڑ میں جانوروں کے مسلم تاجروں پرکئے جانے والے حملوں کی سخت مذمت کی ہے ۔ایک ہفتے قبل ہی راجستھان کے الور میں جس طرح گؤرکھشادل کے غنڈوں نے ہریانہ سے تعلق رکھنے والے مسلم بزرگ شخص پہلوخان کو پیٹ پیٹ کر قتل کردیااور ان کے بیٹوں کو شدید زخمی کردیا،اس پر بھی انصاف پسند عوام نے سخت احتجاج کیاہے ۔اب ایسے میں شیعہ گؤرکھشادل کے قیام سے گؤرکھشادل کے اراکین کی غنڈہ گردی کو مزید تقویت ملنے کا خدشہ ہے ۔

You might also like