مضامین ومقالات

چور و قطب

تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
[email protected]
03004352956
گناہوں سے پاک اور معصومیت خاصہ پیغمبری ہے، پیغمبروں کے علاوہ کوئی معصوم نہیں ‘دنیا میںآنا اور دوران زندگی کبھی کبھی چھوٹا بڑا گناہ ہونا تقاضہ بشری ہے ‘ہر انسان جب دنیا میں آتا ہے تو وہ بہت ساری خوبیوں اور کمزوریوں کا مرقع ہوتا ہے ‘زندگی میں بہت دفعہ ایسی مشکلات یا کمزور لمحات آتے ہیں جب اُس سے غلطی یا گناہ ہو جاتا ہے، فطری طور پر انسان سے گناہ بھی ہوتا ہے اور اُس کا ازالہ بھی ممکن ہے ‘اسلام نے نہ تو انسان کو پیدائشی گناہ گار قرار دیا ہے اور نہ ہی ہمیشہ گناہوں کے ساتھ چپکا رہنے والا قرار دیا ہے کیونکہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اِس لیے گناہ کو بشری کمزوری اور گناہوں سے پاک ہونے کی مختلف صورتیں بھی بتادی ہیں۔اسلام میں سزا اور جزا کا تصور بھی اِسی لیے دیا گیا ہے ‘سزائوں اور دعائوں کے مختلف طریقے بتائے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر کوئی بھی انسان گناہوں کے بعد نیک اور پاک زندگی گذار سکتا ہے، اِن میںتوبہ ایک معروف ذریعہ ہے توبہ کیا ہے سرور کائنات کا ارشاد پاک ہے ’’الندم التوبۃ ‘‘ یعنی ندامت ہی توبہ ہے، گناہ ہو جائے اور پھر گناہ کے بعد شرمندگی اور ندامت نہ ہو تو یہ کسی بھی گناہ گار کے لیے دنیا اور آخرت میں تباہی اور بربادی کے سوا کچھ بھی نہیں ہوگا لیکن اگر گناہ سرزد ہونے کے بعد آدمی کو احساس ندامت ہوجائے ‘اپنی غلطی اور گناہ کا شدت سے احساس ہو تو اِس کا مطلب ہے انسان گناہ کے بارے میں بے باک نہیں بلکہ اُس سے یہ گناہ وقتی فوری منفی جذبے کے تحت ہوا ہے دوسرا اُس کا احساس ندامت اُس لیے حسن نیت کا اشارہ اور اظہار ہے ‘تبھی اُس نے دل میںخلش اور ندامت محسوس کی اور بندہ جب خدا کے سامنے اظہار ندامت کرتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اُس کی توبہ کو شرف قبولیت بخشا ہے۔تاریخ انسانی کے اوراق ایسے بے شمار واقعات سے چمک رہے ہیں جب کسی نے بہت عرصہ گناہوں اور نافرمانیوںکی بستی میں گزاری اور پھر جب اُس کی زندگی میں لمحہ قبولیت یا لمحہ توبہ آیا تو اُس نے اِس عاجزی اور احساس ندامت کو اتنا پسند کیا گیا کہ وہ پھر اولیا اﷲ میں شامل ہوا اور تاریخ کے سینے پر قیامت تک ثبت ہوگیا، ایسے ہی خوش قسمت ترین انسانوں میں ایک نام فضیل بن عیاض کا بھی ہے فضیل بن عیاض منصب رشد و ہدایت اور مرتبہ ولایت پر فائز ہونے سے پہلے ایک راہزن اور چوتھائی عمر کا زیادہ حصہ چوری راہزنی میں گزرا اِس دوران کئی بار پکڑے بھی گئے مگر اس دھندے سے توبہ نہ کی، لیکن پھر خوش قسمت ترین انسانوں کی زندگی میں وہ لمحہ آتا ہے جب صدیوں کی منزل ایک آہ میں طے ہوجاتی ہے اور انسان چور سے قطب بن جاتا ہے۔ایسا ہی ایک لمحہ فضیل بن عیاض کی زندگی میں بھی آیا جس نے آپ کی گناہ آلود زندگی کو نیکی اور اطاعت الٰہی کی زندگی میں بدل دیا، ایک رات جنگل میں کسی قافلے نے آکر پڑائو ڈالااِس قافلے میں ایک شخص قرآن مجید کی اِس آیت مبارکہ کی تلاوت کررہاتھا ’’کیا ایمان والوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے قلوب اﷲ کے ذکر سے خوف زدہ ہو جائیں‘‘ اِس آیت قرآنی کا فضیل بن عیاض پر اِس قدر اثر ہوا کہ جیسے کسی نے آپ کے دل میں کوئی نشتر اُتار دیا ہو آپ کے دل و دماغ کی دنیا ہی بدل گئی آپ کی آنکھوں سے اشکوں کی برسات جاری ہوگئی، انتہائی رقت آمیز لہجے میںخود سے کہا فضیل تم کب تک یہ چوری راہزانی لوٹ مار جاری رکھوگے ‘اب وہ لمحہ آگیا ہے جب یہ سب گناہ آلود دھندہ چھوڑ کر اﷲ کے بتائے سیدھے راستے پر آجا ‘اِس کے بعد آپ بہت دیر تک اشک ریزی کرتے رہے ‘اپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہے اور پھر اُس رات کے بعد عبادت و ریاضت میں پوری یکسوئی کے ساتھ مصروف ہو گئے، عبادت و ریاضت کے لیے ایک ویران ریگستان میں جا پہنچے جہاں ایک قافلہ پڑاو ڈالے ہوئے تھا جب آپ پڑائو کے قریب پہنچے تو آپ کے کانوں میںقافلے کے کسی مرد کی آواز پڑی اِس راستے میں ٖفضیل ڈاکے ڈالتا ہے اِس لیے ہمیں اب راستہ تبدیل کر دینا چاہیے ‘فضیل بن عیاض نے یہ سنا تو اُس شخص کے پاس گئے اور کہا لوگوں اب آپ بے فکر ہو جائیں کیونکہ میں نے چوری ڈکیتی سے پکی توبہ کرلی ہے۔پھر آپ اُن تمام لوگوں کے پاس گئے جو آپ کے ہاتھوں لٹ چکے تھے آپ نے سب سے معافی مانگی تمام لوگوں نے معاف کردیا مگر ایک یہودی نے آپ کو معافی دینے سے انکار کر دیا اور شرط لگائی کہ اگر تم سامنے والی پہاڑی کو یہاں سے ہٹا دو تو میں تمھیں معاف کر دوں گا، فضیل بن عیاض نے یہودی کی شرط قبول کرتے ہو ئے جاکر مٹی کو ہٹانا شروع کر دیا کیونکہ فضیل بن عیاض کی معافی اور توبہ بار گاہ الٰہی میں شرف قبولیت پا چکی تھی اور خدا کے برگزیدہ بندوں میں بلند مقام پا چکے تھے اﷲتعالیٰ کی غیبی مدد آئی ‘تیز آندھی چلی کہ دیکھتے دہی یکھتے تمام پہاڑی صفحہ ہستی سے اِس طرح مٹ گئی کہ جیسے وہاں تھی ہی نہیں، یہودی نے جب یہ کرامت دیکھی تو بہت زیادہ متاثر ہو کر آپ کو معاف کردیا اور کہا میں نے یہ سوچ رکھا تھا کہ جب تک تم میرا لوٹا ہوا مال واپس نہیں کرو گے میں تمھیں معاف نہیں کروں گا لہٰذا اِس وقت میرے تکیے کے نیچے اشرفیوں کی تھیلی رکھی ہوئی ہے آپ وہ اٹھا کر مجھے دیدیں تا کہ میری قسم کا کفارہ ہوسکے، چنانچہ آپ نے یہودی کے تکیے سے تھیلی اٹھا کر اس کے ہاتھ دی تو یہودی نے دوسری شرط پیش کردی کہ پہلے آپ مجھے مسلمان کریں پھر میں آپ کو معاف کروں گا تو آپ نے یہودی کو کلمہ طیبہ پڑھا کر مسلمان کردیا۔یہودی نے مسلمان ہونے کے بعد آپ سے کہا میرے مسلمان ہونے کی اصل وجہ یہ ہے کہ میں نے ایک دفعہ تورات میں پڑھا تھا کہ اگر سچے دل سے توبہ کرنے والا خاک کو بھی چھولے تو وہ سونا بن جاتی ہے، لیکن مجھے اِس بات کا یقین نہیں تھا اِس حقیقت کو جاننے کے لیے آج جب کہ میری تھیلی میں مٹی بھری ہوئی تھی لیکن کیونکہ آپ نے سچی توبہ کی ہوئی تھی اِس لیے جب آپ نے مٹی والی تھیلی پکڑ کر مجھے دی تھی تو وہ سونا بن چکی تھی، اب مجھے یقین ہوگیا ہے کہ اسلام سچا مذہب ہے یہودی زار و قطار رورہا تھا اور فضیل بن عیاض سے بار بار معافی مانگ رہا تھا ‘یوں فضیل بن عیاض نے ایسی توبہ کی کہ حق پر آنے کے بعد سب سے پہلے ایک یہودی کو مسلمان کر کے اپنے سچے ولی اﷲ ہونے کا ثبوت فراہم کیا، پھر توبہ کے بعد بازار میں کھڑے ہو کر باآواز کہا لوگوں میں نے بہت زیادہ جرائم کئے ہیں ‘میرا ضمیر مجھے ملامت کر رہا ہے مجھے ابھی حاکم کے پاس لے چلو تاکہ وہ مجھے سزا دے سکے، لوگ بہت حیران ہوئے کہ یہ کیسا شخص ہے جو اپنے گناہوں کا خود اقرارکر رہا ہے ، لوگ آپ کو حاکم کے پاس لے گئے۔لیکن حاکم وقت نے آپ کو باعزت بری کردیا، گھر جا کر بیوی کو آواز دی ‘بیوی نے جلدی سے دروازہ کھولا کہ شاید آپ زخمی ہو گئے ہیں وہ بولی میں تو ڈر گئی تھی کہ آپ زخمی ہیں تو آپ بولے نیک بخت میں قلبی طور پر زخمی ہو گیا ہوں ‘حاکم وقت نے مجھے سزا دینے سے انکار کر دیا ہے ‘اب میں حج پر جانا چاہتا ہوں اگر تم چاہو تو تم کو طلاق دے سکتا ہوں ، تو بیوی بولی تو کیا ہوا میں خادمہ بن کر آپ کی خدمت کروں گی، چنانچہ آپ بیوی کے ساتھ حج کے لیے روانہ ہوئے اور پھر مکہ معظمہ جا کر خانہ کعبہ کی مجاوری اختیار کر لی، اِس طرح آپ حقیقی توبہ اور احساس ندامت سے چور سے قطب کے عظیم مقام پر فائز ہوئے اور قیامت تک خود کو تاریخ کے اوراق میں امر کرلیا۔
(بصیرت فیچرس)

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker