Baseerat Online News Portal

مسلمانوں میں تین طلاق کی شرح ہندوئوں سے کم: اسماء زہر

جے پور کے اجلاس سے قبل اعدادوشمار کے حوالے سے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا دعویٰ
جے پور،۸اپریل:(ممبئی اردو نیوز)آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ(اے آئی ایم پی ایل بی) کی خواتین کی شاخ نے آج دعویٰ کیا ہے کہ دوسری قوموں کی بنسبت مسلمانوں میں طلاق کی شرح کم ہے اور طلاقِ ثلاثہ کے معاملے کو غلط تناظر میں پیش کیا جا رہا ہے۔شاخ کی اعلیٰ منتظمہ اسمیٰ زہرا نے پورے ملک کے بعض مسلم اکثریتی اضلاع میں فیملی کورٹس سے جمع کی گئی معلومات اور اعداد وشمار پیش کئے اور کہا کہ اسلام میں حقوقِ نسواں کا مکمل تحفظ موجود ہے جو اس امر سے ظاہر ہے کہ طلاق کی خواہاں مسلم خواتین کا فی صد کم ہے۔طلاقِ ثلاثہ پر بحث کے بعد یہ تبصرہ کیا گیا۔اس معاملے کو سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا گیا ہے جو اس عمل کے قانونی پہلوئوں کا جائزہ لے گا۔اسمیٰ زہرا نے بتایا کہ ہم نے اس سلسلہ میں دارالقضا سے بھی معلومات اور اعدادو شمار جمع کئے اور اس سے بھی یہی پتہ چلا کہ صرف ۳۔۲ فی صد کیسوں کا تعلق طلاق سے ہوتا ہے اور بیشتر خواتین ہی کی طرف سے اس کی خواہش ظاہر کی جاتی ہے۔انہوں نے یہاں ایک پریس کانفرنس میں یہ باتیں بتائیں۔واضح رہے کہ آج سے جے پور میں مسلم پرسنل لاءبورڈ کا اجلاس شروع ہواہے۔مسلم مہیلا ریسرچ کیندر اور خواتین سے متعلق شرعی کمیٹی کی تیار کردہ مشترکہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں میں طلاق کے ۱۳۰۷ کیس پائے گئے جبکہ ہندو فرقہ میں ۱۶۵۰۵ کیس تھے۔ان اضلاع میں عیسائیوں میں ۴۸۲۷ اور سکھوں میں طلاق کے ۸ کیس تھے۔انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ معلومات اور اعداد و شمار جمع کرنے کا کام ہنوز جاری ہے۔موصوفہ نے کہا کہ حالیہ برسوں میں تین طلاق کے معاملے نے زور پکڑا اور اس کو سیاسی رنگ دیا گیا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ معاملے کی مکمل تفہیم کی جائے اور اس کو صحیح تناظر میں پیش کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ دوسری قوموں میں جہیز،گ؍ریلو تشدد،بچوں کی شادی اور لڑکی کاحمل گرانا سنگین مسائل ہیں اور ہونا یہ چاہئیے کہ صرف مسلم فرقے پر نکتہ چینی کرنے کے بجائے ان مسائل کو حل کیا جائے۔ملازمت پیشہ مسلم عورتوں کے تحفظ اور عافیت پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
یہاں مسلمان عورتوں کے حقوق اور ان کے سامنے جو چیلنج ہیں ان پر دو روزہ کانفرنس ہوئی جس میں اسمیٰ زوہرا شریک ہوئیں۔کانفرنس میں اسلام میں شادی،طلاق،قران اور دستور میں عورتوں کے حقوق اور اے آئی ایم پی ایل بی کے رول پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔اس کے بعد خواتین کا عومی جلسہ ہوگا جس میں تقریباً ۳۰۰۰۰ عورتوں کی شرکت متوقع ہے۔راجستھان میں عورتوں کی شاخ کی نگراں اور بورڈ کی رکن یاسمین فاروقی نے یہ معلومات فراہم کی۔
عیاں رہے کہ سپریم کورٹ میں مرکزی سرکار نے طلاقِ ثلاثہ کے طریقے کو چیلنج کیا ہے جس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ یہ چیز صنفی مساوات اور سیکورازم کے اصول کے خلاف ہے۔اس سلسلہ میں بورڈ نے عدالتِ عظمیٰ کو بتایا ہے کہ اس سلسلہ میں جن مسلم افراد نے اس طریقے کو چیلنج کرنے کے لئے عدالت میں عرضیاں داخل کی ہیں ان پر پیش رفت نہیں ہو سکتی کیوں کہ یہ معاملہ عدلیہ کے اختیار کے باہر ہے۔بورڈ نے یہ بھی کہا ہے کہ اسلامی شریعت قران اور دوسرے متعلقہ وسائل پر مبنی ہے اور اس کی صحت کو آئین سے نہیں پرکھا جا سکتا۔

You might also like