Baseerat Online News Portal

مودی کے ڈریم پروجیکٹ پر سوال اٹھا کر خاتون آئی اے ایس پھنسیں

بی جے پی ایم پی حمایت میں اترے
بھوپال،9؍اپریل:وزیر اعظم نریندر مودی کے ڈریم پروجیکٹ کھلے میں قضائے حاجت سے پاک ہندوستان (او ڈی ایف )مہم کو نوآبادیاتی ذہنیت سے متاثر بتانے والی مدھیہ پردیش کی خاتون آئی اے ایس دیپالی رستوگی پر ایک طرف جہاں کارروائی کئے جانے کی بحث ہے، وہیں بی جے پی ممبرپارلیمنٹ پرہلاد پٹیل ان کی حمایت میں اترگئے ہیں۔کھلے میں قضائے حاجب سے پاک ہندوستان مہم کو لے کر خاتون آئی اے ایس نے اپنے مضمون میں جن نکات کی نشاندہی کرکے سوال اٹھایا ہے ، اس کو ہلاد پٹیل صحیح مان رہے ہیں۔پرہلاد پٹیل نے کہاکہ آئی اے ایس دیپالی رستوگی نے اوڈی ایف کو لے کر عملی باتیں کہی ہیں۔آئی اے ایس سے پہلے میں اس مسئلہ کو پارلیمنٹ میں اٹھا چکا ہوں،جن علاقوں میں پینے کا پانی نہیں ہے، وہاں بھلا کوئی فلش میں پانچ لیٹر پانی کیوں بہائے گا؟ حکومت کو اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اس سے پہلے بی جے پی کی جانب سے جاری بیان میں خاتون آئی اے ایس کو صلاح دی گئی تھی کہ پبلک سرونٹ کے لیے مرکزی حکومت کی اسکیموں کی تئیں اس طرح کا منفی رویہ ٹھیک نہیں ہے۔دیپالی نے اوڈی ایف پر اپنی رائے مشہور انگریزی اخبار ’دی ہندو‘میں شائع اپنے مضمون میںکا اظہار کیا ہے۔مضمون میں دیپالی نے لکھاکہے یورپ کے لوگوں کے کہنے پر وزیر اعظم نریندر مودی نے کھلے میں قضائے حاجت سے پاک مہم چلائی ہے ، جن کی قضائے جاجب کی عادت ہندوستانیوں سے مختلف ہے۔دیپالی آگے لکھتی ہیں، گورے کہتے ہیں کہ کھلے میں قضائے حاجب کرنا گندہ ہے ،تو ہم اتنی بڑی مہم لے آئے،ہم مانتے ہیں کہ ٹوائلٹ میں پانی کی جگہ پیپر استعمال کرنا گندہ ہوتا ہے، تو کیا گورے بھی ٹوائلٹ میں کاغذ کی جگہ پانی کا استعمال کرنے لگیں گے؟۔

You might also like