مضامین ومقالات

کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے

موبائل نمبر:9984247500
الیکشن کمیشن کے چیف نسیم زیدی صاحب نے انتخابی اصلاحات پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کے ۳۳ ملکوں میں ووٹ دینا لازمی ہے۔ انھوں نے ان میں سے کئی ملکوں کے نام بھی لیے ہیں۔ ہمیں افسوس ہے کہ ان ممالک کے طریقۂ انتخاب کی تفصیل ہمیںمعلوم نہیں اور نہ زیدی صاحب نے اس پر روشنی ڈالی ہے۔ ہمارے ملک میں جو طریقہ ہے اس میں لمبی لمبی لائن لگانا اور سرکاری عملہ کی سست رفتاری ووٹ سے عدم دلچسپی کا سبب بھی ہے۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ ووٹ لینے اور دینے والے کا ایک دن کے بعد کوئی رشتہ نہیں رہتا۔ اگر ووٹ لینے والا جیت گیا اور حکومت بنا لی تو اسے فرصت نہیں رہتی اور اگر حزب مخالف میں ہے تو اس کے پاس عذ ر ہے کہ میں کیا خدمت کرسکتا ہوں؟
زیدی صاحب نے تسلیم کیا ہے اتنے قانون اور اتنی اصلاحات کے بعد بھی دولت اور طاقت کے بل پر انتخاب جیتے جاتے ہیں۔ دولت کا مظاہرہ بھی ہوتا ہے اور ووٹرکو لبھانے کے لیے پیسے کا بے دریغ استعمال بھی ہوتا ہے۔ مختلف سیاسی پارٹیاں ایسے ایشوز کو اٹھاتی ہیں جن سے فرقہ واریت کو بڑھاواملتا ہے اور ملک کی فضا مکدر ہوتی ہے اس کے علاوہ میڈیا خصوصیت کے ساتھ الکٹرانک میڈیا (ٹی وی) الیکشن کے دوران ایسے پروگرام دکھاتا ہے جس سے اکثریت کو فا ئدہ ہوتا ہے جو ایک جمہوری نظام کے لیے انتہائی مضر ہے۔
چیف الیکشن کمشنر ہونے کی وجہ سے زیدی صاحب کے پاس ہر پارٹی کی رپورٹیں ہوںگی۔ ہم ان سے معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ بی جے پی نے اترپردیش میں جو الیکشن لڑا اور جس طرح سے لڑا اور وزیر اعظم جو پارٹی کے نہیں ملک کے وزیر اعظم ہیں انھوں نے جو کہا اور جس طرح کہا کیا وہ جمہوریت کی کسوٹی پر پورا اترتا ہے؟ وزیر اعظم نے جس لہجہ میں رمضان اور دیوالی کا موازنہ کیا اور قبرستان اور شمشان کا موازنہ کیا، وہ ایسا نہیں تھا کہ نسیم زیدی صاحب بصد ادب ان سے درخواست کرتے کہ جب وہ الیکشن کو ہندو مسلم بنائے دے رہے ہیں تو مجھے کیا کرنا چاہیے؟ ہم بھی جانتے ہیں اور زیدی صاحب بھی جانتے ہوںگے کہ وزیر اعظم نے جیتنے کے لیے اپنی ہر عظمت کو طاق پر رکھ دیا تھا۔ وہ یہ تو دیکھ رہے تھے کہ ان کی حفاظت کے لیے وہ سب کیا جارہا ہے جو وزیر اعظم کے سرکاری دورہ پر کیا جاتا تھا لیکن وہ ان آداب کا لحاظ نہیں کرتے تھے جو سرکاری دورہ میں ایک وزیر اعظم کو کرنا پڑتے ہیں۔ ان کی ریلیوں میں اور ان کے روڈ شو میں جو کچھ ہورہا تھا ان میں ایک بات بھی ایسی نہیں تھی جسے جمہوریت کہا جائے۔ وہ وزیر اعظم تو کیا وزیر اعلیٰ کے مقام سے بھی نیچے اتر گئے تھے۔ اگر نسیم زیدی صاحب ان کو روکتے اور وہ نہ مانتے تو استعفیٰ دے کر یہ سب باتیں کہتے تب معلوم ہوتا کہ وہ جمہوریت کے محافظ ہیں۔ ان کا اب یہ کہنا صرف خود ستائی ہے کیوں کہ جو بگڑنا تھا وہ بگڑ گیا اور وہ ایک ناکام الیکشن کمشنر کہے جائیںگے۔
الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے بارے میں اب تک زیدی صاحب ہر ایک سے لڑ رہے تھے۔ ایک بار انھوں نے کہا تھا کہ اس میں چھیڑ چھاڑ کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ لیکن اب انھوں نے تسلیم کیا ہے کہ میں نے کئی ویڈیوز خود بھی دیکھی ہیں جن میںمشین سے غلطی ہوئی ہے(لیکن زیدی صاحب نے یہ کہنے کے بجائے کہ ہونا تو یہ چاہیے کہ اترپردیش کے الیکشن کینسل کراکے دوبارہ کرائے جائیں یہ کہہ دیا کہ( اس غلطی سے کس کو فائدہ ہوا یہ ذمہ داری کے ساتھ میں نہیں کہہ سکتا۔ اگر زیدی صاحب نے جوویڈیو دیکھے ہیں ان سب میں کمل کے پھول پر مہر لگ رہی ہے تو یہ کہنا کہ میں نہیںکہہ سکتا کہ کس کو فائدہ ہوا ہے صرف حکومت نوازی اور غلامی ہے۔ اگر یہ ہوتا کہ ایک ویڈیو میں کمل کو دبایا تو سائیکل پر مہر لگی اور ہاتھی پر لگایا تو ہاتھ سامنے آیا تب یہ بات کہنا چاہیے تھی۔ ان کے تسلیم کرنے کے بعد ماننا پڑے گا کہ مایاوتی اور اروند کجریوال کے الزامات سو فیصدی صحیح ہیں۔ اور اس سازش میں وزیر اعظم جو لیڈر بن کر سامنے آئے تھے۔ امت شاہ جو صدر ہیں ا ور نسیم زیدی شریک ہیں۔ اور اگر نسیم زیدی صاحب اپنے کو معصوم کہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس عہدہ کے لائق نہیں ہیں۔ کیوں کہ ان کا پورا کنٹرول نہیں ہے۔
زیدی صاحب نے مشین کی ایک ایسی کمی کی طرف اشارہ کیا ہے جس کے بعد تو اسے استعمال کرنے کا سوال ہی نہیں رہ جاتا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کی سب سے بڑی کمی یہ ہے کہ اس میں دوبارہ گنتی کرنے کی یا غلطی پکڑنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ حیرت ہے کہ یہ بات اس سے پہلے سامنے کیوں نہیں آئی۔ ہم نے ووٹ شماری کی ذمہ داری نہ جانے کتنی بار ادا کی ہے۔ لیکن مشین کے بارے میں اس لیے نہیں معلوم کہ 1990میں پیس میکر لگنے کے بعد ہم نے کسی الیکشن میں دلچسپی نہیں لی۔ ہم نہیں جانتے کہ اس کے ووٹ کیسے گنے جاتے ہیں؟ لیکن یہ مجبوری کہ ایک مرتبہ گنتی کے بعد ا گر اطمینان نہ ہو تو دوبارہ گنتی نہ کرپانا ہی اتنی بڑی کمزوری ہے کہ ان مشینوںکو فوراً بند کردینا چاہیے۔
ان دنوں میں جب سے مشینوںکے ذریعہ بے ا یمانی کا شور ہوا ہے، بار بار یہ کہا جارہا ہے کہ وہ مشین کس کمپنی کی ہے؟ جس کا مطلب یہ ہے کہ کئی کمپنیاں ہیںجہاںمشینیں بنی ہیں اور بن رہی ہیں۔ جب ایسا ہے تو ظاہر ہے کہ اگر باہر نہیں تو اندر فرق ہوگا، اور وہ فرق کیسا ہوگا یہ بات تو صرف وہ جان سکتے ہیں جو انجینئر ہوں۔ سیاسی اور صحافی لوگوں کا اس سے کیا تعلق؟ لیکن جب کبھی الیکشن پٹیشن ہوئے ہیں ان میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی بھی ہوئی ہے جو برسوں کے بعد ہوئی ہے اور اگر اب پٹیشن کوئی کرے تو وہ اس غلطی کو کیسے پکڑے گا جو کلرکوں ا ور آخری نتیجہ لکھنے والوں نے دانستہ یا نادانستہ کی ہوگی؟ نسیم زیدی صاحب کے س اعتراف کے بعد مشینوں کی حمایت کرنا بہت بڑی غلطی ہوگی۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker