Baseerat Online News Portal

تین طلاق قرآن سے ثابت ہے!!!

فضل الرحمان قاسمی الہ آبادی
بددینی کا یہ عالم ہوگیا ہے کہ شریعت کامذاق اڑانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جارہی ہے، ایک زمانہ وہ تھا جب مسلمان شرعی مسئلہ میں کچھ بولنے سے ڈرتا تھا، بنا واقفیت کے شرعی احکام کے سلسلہ میں کوئی تبصرہ نہیں کرتاتھا، پر اس مارڈرن زمانے کے کچھ مسلمان اس قدر بددین اور جری ہوگئے ہیں کہ شریعت سے ناواقفیت کے باوجود شرعی احکام میں رائے زنی شروع کرکے اپنی آخرت کوتباہ وبرباد کرنے پر آمادہ ہیں۔میں صاف لفظوں میں کہنا چاہتاہوں اسلامی وضع وقطع سے عاری، مغربی تہذیب میں ملبوس شخص کومحمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے احکام میں تبصرہ کاکوئی اختیار نہیں، شرعی احکام کوئی کھیل کا میدان، یاسیاسی جنگ نہیں کہ ہر کس وناکس اس پر تبصرہ کرے، قرآن وحدیث میں بصیرت رکھنے والے معزز علماء کرام ہی طلاق ثلاثہ اور حلالہ وغیرہ پر قرآن وحدیث کی روشنی میں بحث ومباحثہ کے مجاز ہیں،شریعت کے احکام کامدار قرآن وحدیث پر ہے، شرعی احکام عقل سے ماوراء ہیں، رہا مسئلہ تین طلاق تو اسکا ذکر قرآن میں موجودہے، اولا قرآن میں سورہ بقرہ میں ہے:’’ الطلاق مرتان‘‘، یعنی طلاق دو ہے، پھر کچھ آگے اللہ تعالیٰ کاارشاد ھے:’’فان طلقھا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح‘‘ البقرۃ، ترجمہ: اگر شوہر نے تیسری طلاق دیا تو عورت کے لئے شوہر حلال نہیں، یہاں تک کہ دوسرے شوہر سے شادی کرے،’’او تسریح باحسان‘‘ سے بھی تیسری طلاق مراد ہے۔ ابوبکر جصاص نے اس پر اجماع نقل کیا ہے، اور آگے’’ فان طلقھا‘‘ اسی کا بیان ہے۔اس آیت سے پتہ چلا کہ تین طلاق کے بعد بیوی شوہر کے لئے حرام ہوگئی، تین طلاق کا ذکر تو خود قرآن میں ہے ۔اور رہا ایک مجلس میں تین طلاق کامسئلہ تو یہ امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل، اور جمہور علماء کایہی موقف ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاق تین ہے۔ مشہور محدث شارح بخاری حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے بخاری شریف کی شرح فتح الباری میں لکھاہے’’ وایقاع الثلاث للاجماع الذی انعقد فی عھد عمر علی ذلک ولایحفظ ان احدا فی عھد عمر خالفہ فی واحد منھا‘‘( فتح الباری:9؍365)یعنی اور ایک مجلس کی تین طلاق کا تین واقع ہونا حضرات صحابہ کرام کے اس اجماع کی وجہ سے ہے جو خلیفہ ثانی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں منعقد ہواا اور تمام صحابہ نے اس پر اتفاق کیا کسی کا کوئی اختلاف نہیں، اور اجماع کا حجت شرعیہ ہے،اجماع کا ثبوت قرآن سے ہے۔ فن تفسیر کے امام فخرالدین رازی علیہ الرحمہ نے قرآن کریم کی سب سے بڑی تفسیر میں متعدد آیات کے ذریعہ اجماع کو ثابت کیا ہے۔ لہٰذا اجماع سے جو چیز ثابت ہوئی اس کا تعلق بھی قرآن سے ہوا، اور تین طلاق تو صراحۃً قرآن سے ثابت ہوئی،میں شوشل میڈیا کے ذریعہ ان لوگوں کو صاف صاف کہناچاہتاہوں جوتین طلاق کو قرآن سے خارج مان رہے ہیں، اپنی جہالت اور شریعت سے نادانی کا ثبوت نہ دیں، قرآن کا بغور مطالعہ کریں ،تین طلاق کا تذکرہ قرآن ہی میں مل جائے گا،اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت یافتہ صحابہ کرام کاعمل بھی ایک مجلس کی تین طلاق میں تین ہی پرتھا، اور رہے ہمارے معزز علماء تووہ قرآن وحدیث کے احکام کو ہی بتاتے ہیں، اپنے گھر سے کوئی بات نہیں کہتے،میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر تک سوشل میڈیا اور اخبارات کے ذریعہ یہ پیغام پہونچانا چاہتاہوں، اپنی تحریک کو مزید قوت کے ساتھ آگے بڑھائیں اور مسلم نوجوانوں کو طلاق کے احکام سے آگاہ کریں، اللہ رب العزت مسلمانوں کو شریعت کاپابند بنائے۔آمین
(بصیرت فیچرس)

You might also like