Baseerat Online News Portal

تب طلاق کی نوبت نہیں آئے گی!

اسدالرحمن تیمی
ازدواجی رشتہ ایک مقدس ،پاکیزہ اور مرد وخواتین کے لئے ایک ضروری رشتہ ہے۔ اس پاکیزہ رشتے ہیں زوجین کے درمیان محبت،حقیقی الفت، فطری خواہشات اور ضروریات کی تکمیل مضمر ہوتی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے لئے سکون، اطمینان اورزندگی کے سفر میں ایک دوسرے کے ہم سفر اور رفیق ہوتے ہیں۔ زندگی کی دھوپ ،چھائوں، خوشی وغم اور راحت ومصیبت کا دونوں سہارا اور ساتھی بنتے ہیں۔ یہ رشتہ نہ صرف انسانی اور سماجی رشتہ ہے بلکہ اس کا تعلق دین سے بھی ہے۔ حدیث میں : ’’اذا تزوج العبد فقد استکمل نصف الدین، فلیتق اللہ فی النصف الباقی ‘‘ صحیح الترغیب والترہیب للالبانی : ۱۹۱۶) [ایک بندہ جب شادی کرلیتا ہے تو وہ آدھا دین مکمل کرلیتا ہے، اس لئے اسے باقی آدھے دین کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا چاہئے]۔
لیکن اس عظیم اورمقدس رشتہ ،جس کے اندر بے انتہا دنیوی اور اخروی فوائد مضمر ہیں، کبھی کبھی اس میں تلخی اور کڑواہٹ آتی ہے۔شوہر اور بیوی اس رشتہ کا میابی سے ہمکنار کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں۔ ان کی زندگی اجیرن بن جاتی ہے اور جورشتہ ان کے درمیان سکون محبت اور راحت کے ذریعہ تھا ان کے لئے عذاب بن جاتا ہے اورہنستا بستا گھر برباد ہوجاتا ہے۔
آج کل ازدواجی رشتے کافی خراب ہورہے ہیں، لوگ معمولی باتوں پر رشتہ کو توڑ نے پر دیر نہیں کرتے اور یوں تو شوہربیوی کے درمیان نکاح کے رشتہ کے خاتمہ یعنی طلاق کا رواج دنیا کے ہر مذہب اور سماج میں ہے لیکن چونکہ میڈیا کی نظر زیادہ تر مسلم سماج پر مرکوز ہوتی ہے اس لئے مسلم سماج کے طلاق واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ میڈیا دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتا ہے کہ در اصل اسلام کا قانونِ طلاق خواتین پر ظلم کا قانون ہے حالانکہ یہ بات عقل کے خلاف ہے کہ اگر دوافراد کے بیچ ساری کوششوں کے باوجود بھی رشتہ استوار نہ ہوسکے پھر بھی جبراً انہیں اس رشتہ میں باندھ کر رکھا جائے۔
اسلام شوہر اور بیوی کے درمیان اختلاف کی حالت میں یکبارگی علیحدگی اور طلاق کی بات نہیں کرتا بلکہ مرحلہ وارا قدامات کے ذریعہ اس رشتہ کو بچانے کی حتی المقدور کوشش کی جاتی ہے۔سب سے پہلے افہام وتفہیم سے کام لیا جائے پھربھی اگر بات نہ بنیں تو صرف ایک طلاق دی جائے جس میں رجوع کیا جاسکتا ہے اور سب سے آخری صورت میں تین طلاق کے بعد اس رشتہ کے خاتمہ کا مرحلہ ہوتا ہے۔
آئیے ہم یہ جاننے کی کوشش کریں کہ آخر طلاق کے اسباب کیا ہیں اور کیوں طلاق کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں۔ یوں تو طلاق کی بہت ساری وجوہات ہوسکتی ہے، اس مختصر سے مضمون میں ان تمام وجوہات پر روشنی ڈالنا ممکن نہیں ۔ البتہ چند اسباب اور ان کا حل ذیل میں بتایا جارہا ہے:
ژشک : شوہراور بیوی کے درمیان باہمی تعلقات کو بگاڑنے میں شک اور بدگمانی کا بڑاکردار ہوتا ہے۔ کچھ لوگ فطری طور پر شک کے مریض ہوتے ہیں اور ہمیشہ بدگمانی میں مبتلا رہتے ہیں،بے بنیاد اور جھوٹی باتوں پر یقین کرکے ازدواجی رشتہ خراب کرلیتے ہیں اور پھر شوہربیوی کے درمیان اس قدر بد اعتمادی بڑھ جاتی ہے کہ شوہر طلاق کا ارادہ کرلیتا ہے یا بیوی خود طلاق کا مطالبہ کردیتی ہے۔ حالانکہ ایمان والوں کو بلا وجہ گمان سے منع کیا گیا ہے۔ قرآن میں ہے: ’’اے ایمان والو! تم زیادہ گمان سے بچوں کیوں کہ بعض گمان گناہ ہوتا ہے اور جاسوسی نہ کرو‘‘ (الحجرات: ۱۲)
ژشوہرکی بدسلوکی: کچھ مرد گھر سے باہر دوستوں اور رشتہ داروں کے درمیان بہت خوش گوار مزاج کے حامل ہوتے ہیں لیکن گھر میں بیوی کے سامنے ان کا رویہ بالکل الگ ہوتاہے وہ اپنی بیوی کو کمتر ،حقیر ، ذلیل اور بیوقوف سمجھتے ہیں، ان کا انداز گفتگو توہین آمیز ہوتا ہے۔اولاد کے سامنے بھی وہ اپنی بیوی کی بے عزتی کرنے سے باز نہیں رہتے،اور پھر اس کے نتیجے میں طلاق کی نوبت آجاتی ہے جبکہ اسلام نے مردوں کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ اپنی بیویوں کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی بسر کریں۔ (النساء: ۱۹) اور رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی کے حق میں بہتر ہو‘‘ (ترمذی: ۱۱۶۲)
ژگناہ: اللہ تعالیٰ فرماتاہے: ’’ اور تمہیں جو مصیبت آتی ہے وہ تمہارے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے آتی ہے ‘‘ (الشوریٰ : ۳۰) اس لئے اگر شوہر اور بیوی گناہوں میں ملوث ہوں، دینی فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی کرتے ہوں، محرمات کا ارتکاب کررہے ہوںتو ان گناہوں کی پاداش میں اللہ تعالیٰ دونوں کی باہمی محبت ختم کرڈالتا ہے اوردونوں میں ناچاقی ، نفرت اور دشمنی پیدا ہوجاتی ہے نتیجۃً طلاق کے ساتھ رشتہ ختم ہوجاتا ہے۔ اس لئے ازدواجی رشتہ کے بقاء اور پُرمسرت ہونے کے لئے ضروری ہے کہ شوہر اور بیوی گناہ سے دور رہیں۔
ژرشتہ کے انتخاب میں دولت کو ترجیح: ہم میں سے بیشتر لوگ بیٹا یا بیٹی کے لئے رشتہ کے انتخاب کے وقت دولت کو ہی سب سے بڑا معیار سمجھتے ہیں لڑکا یا لڑکی کی دینداری ، اخلاق وکردار، شرافت وعزت،ہماری نظر میں کچھ بھی اہمیت نہیں رکھتے ہیں ظاہر ہے کہ جب رشتہ کا معیار ہی دولت ہو تو پھر ایسی صورت میں کامیاب ازدواجی رشتہ کی امید کیسے کی جاسکتی ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں خرچ کم ہو‘‘ (مشکاۃ المصابیح)
ژبیوی کی زبان درازی، بدکلامی اور نافرمانی: بعض بیویاں از حد بد زبان ہوتی ہیں، شوہر اور سسرال والوں کو ہمیشہ برا بھلا کہتی ہیں، ان کے ساتھ بدکلامی کرتی ہیں، ہر کام میں منمانی کرتی ہیں ، شوہر جس بات کا حکم دے اسکا الٹا کرتی ہیں، کبھی اپنے شوہر کو یہ چیلنج کرتی ہیں کہ اگر ہمت ہے تو طلاق دے کر دکھائو۔ ایک بیوی کی اس قسم کی حرکت سماجی ہی نہیں بلکہ دینی اعتبار سے بھی قطعا ممنوع ہے اس کے نتیجے میں رشتے کا بگاڑ اور طلاق خلاف توقع نہیں ۔
ژحرص وہوس ، مادہ پرستی اور آخرت فراموشی: کچھ مرد حضرات حرص وہوس اور مادہ پرستی کے شکار ہوتے ہیں وہ اپنی بیوی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ میکہ سے فلاں سامان لائو،نہیں تو تمہیں طلاق دے دوں گا۔ ایسے مرد حضرات کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ عمل سراسر ناجائز ہے۔ڈیمانڈ پر مبنی جہیز باتفاق علمائے کرام حرام ہے۔
ژنکاح سے قبل کفو کا عدم اعتبار: اسلام نے رشتہ طے کرتے ہیں وقت لڑکا یا لڑکی کی معیار زندگی اخلاق وکردار، گھریلو، سماجی، اقتصادی اور تعلیمی معیار میں مساوات کا خیال رکھنے کی تاکید کی ہے۔ اگر نکاح میں اسلام کے اس اصول کا پاس ولحاظ نہ رکھا جائے اور بے میل کی شادی ہو تو طلاق بعید از قیاس نہیں۔
معلوم ہوا کہ اگر ہم رشتہ ازدواج میں اسلامی اصول وضابطوں کے پابند ہوں تو طلاق کی نوبت شاید وباید ہی آئے۔ (یواین این)

You might also like