مضامین ومقالات

سیمانچل ؛ سیاسی بصیرت کا امتحان

از: مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
بہار اسمبلی الیکشن مختلف مراحل سے گذرتے ہوئے اب رخت سفر باندھنے کو ہے ، چار مرحلوں کے انتخابات میں گرچہ ہر پارٹی اپنی اپنی جیت کا دعویٰ کر رہی ہے ، مگر سیاسی مبصرین کی مانیں تو حالات سیکولر اتحاد کے لیے امید افزا ہیں ۔ اب سب کی نگاہیں آخرین مرحلے کے انتخاب پر ٹکی ہیں ، اس مرحلہ میں متھلانچل اور سیمانچل کی ستاون سیٹوں پر ووٹ دالے جائیں گے ۔ سیمانچل کا حلقہ ہمیشہ سے سیاسی پارٹیوں کے لیے الیکشن کے زمانے میں توجہ کا مرکز رہا ہے ، اور اکثر یہاں کے نتائج کا بہار کے الیکشن پر گہرا اثر پڑتا ہے،بہار کے جن اضلاع میں مسلمانوں کی قابل ذکر آبادی ہے اور جو کثیر مسلم آبادی والے علاقے سمجھے جاتے ہیں ان میں سیمانچل کے کئی اضلاع ہیں ، یہاں ہمیشہ سے مسلمانوں کا ووٹ فیصلہ کن رہا ہے ، لیکن بد قسمتی ہی کہیں گے کہ گذشتہ انتخابوں میں مسلمانوں کے ووٹوں کے بکھراؤ کے نتیجے میں سیکولر پارٹیوں کو کئی مقامات پر شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔۲۰۱۰ء؁ کے اسمبلی انتخاب میں بھی سیمانچل کی تیرہ سیٹوں پر بی جے پی امیدواروں کو کامیابی ملی تھی ۔وہ الیکشن جنتادل یونائیٹڈ کی ساجھے داری میں نتیش کمار جی کی قیادت میں بی جے پی نے لڑا تھااور راشٹریہ جنتادل کا جوڑ رام بلاس پاسوان کی پارٹی لوک جن شکتی پارٹی سے تھا ، جبکہ کانگریس تنہا میدان میں تھی۔ اب حالانکہ سیاسی منظر نامہ بدل چکا ہے ۔ اب بی جے پی کی حلیف پارٹیوں میں رام بلاس پاسوان کی پارٹی لوجپا ہے، جنتا دل سے الگ ہوئے جیتن رام مانجھی کی پارٹی ہندوستانی عوام مورچہ ہ اور اوپیندر کشواہا کی پارٹی راشٹریہ لوک سمتا پارٹی بھی بی جے پی کے خیمہ میں ہے، جب کہ دوسری طرف راجد ، جد یو اور کانگریس پر مشتمل عظیم سیکولر اتحاد۔ سروے رپورٹ اور با خبر لوگوں کے تجزیے بتاتے ہیں کہ چار مرحلوں میں عظیم اتحاد نے بڑھت بنائی ہے اور پوری ریاست نے سیکولر قدروں کے تحفظ کے لیے تعلقات اور ذاتی مفادات سے بلند ہو کر ووٹ کیا ہے، اب جبکہ آخری مرحلہ کا انتخاب ۵؍ نومبر کو ہوگا اس پر پورے بہار کی نگاہیں لگی ہوں گی ۔ان دو بڑی پارٹیوں کے علاوہ نیشنل کانگریس پارٹی ، جن ادھیکار پارٹی ، سماجوادی پارٹی، اور اسد الدین اویسی کی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے بھی اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں ، مسلمانوں کی آبادی کے تناسب کو دیکھتے ہوئے سبھی پارٹیوں نے زیادہ تر مسلم امیدواروں کو ہی میدان میں اتارا ہے ۔چنانچہ مسلم ووٹوں کے زبردست انتشار اور بکھراؤ کا خطر ہ پیدا ہو گیا ہے ۔ اس بکھراؤ اور انتشار کا سیدھا سیدھا فائدہ بی جے پی کو پہونچے گا ۔ ان حالات میں سیمانچل کے مسلمانوں کی سیاسی بصیرت کا امتحان ہے کہ وہ کیا کرتے ہیں اور کس طرح اپنے ووٹوں کو منتشر ہونے سے بچاتے ہیں ، اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو بی جے پی اور حلیف پارٹیوں کا سیمانچل سے صفایا ہو سکتا ہے ۔ یہ ایک فیصلہ کن مرحلہ ہے اور فیصلہ کن مرحلے میں بعض تکلیف دہ فیصلے بھی لینے پڑتے ہیں ، لیکن قوموں کی فلاح و کامرانی کا راز اسی میں مضمر ہو تا ہے ، آپریشن میں تکلیف تو ہوتی ہے ، مگر کون عقلمند اس سے انکار کرے گا کہ پورے جسم کو فساد سے بچانے کے لیے کسی عضو کو الگ کر دیا جا ئے یا اسے جراحی کے عمل سے گذارا جائے ، کیوں کہ یہ مریض کی زندگی کی بقا کے لیے ضروری ہے ۔ ماضی میں سیمانچل کے لوگ جو کرتے آئے ہیں اگر اس بار وہ اس سے بچ سکے تو سیمانچل کے نتائج چونکا دینے والے ہوں گے اور پورے ملک پر ان کی سیاسی بصیرت کی دھاک جم جائے گی ، اس لیے بہت سوچ سمجھ کر ووت کیجئے اور ملت کے مفاد میں ووٹ کیجئے ، ریاست میں امن و سکون کی فضاکو برقرار رکھنے کے لیے ووٹ کیجئے ، جمہوریت اور سیکولر اقدار کی حفاظت کے لیے ووٹ کیجئے ، تا کہ بہار فرقہ پرست طاقتوں کی آماجگاہ نہ بن سکے ۔ ۲۰۱۰ء؁ کے انتخابات کا جائزہ لیں گے تو معلوم ہوگا کہ بیشتر سیٹوں پر بہت کم ووٹوں سے سیکولر امیدوار ہار گئے ،وجہ ووٹوں کی تقسیم تھی، ووٹ کٹوا امیدواروں میں ووٹ منتشر نہیں ہوتا تو آسانی سے فرقہ پرست طاقتوں کو شکست دی جا سکتی تھی ، لیکن بد قسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا اور ہماری اس ذہنیت کو پرکھ کر ہمارے میں سے ہی کچھ امیدواروں کو کھڑا کر کے فرقہ پرست طاقتوں نے آسانی سے اپنے ہدف کو پا لیا ، ہم یہ سوچتے رہے کہ یہ تو ہمارا بھائی ہے ، یہ ہمارا بھتیجہ ہے ، یہ فلاں رشتہ دار ہے ، اس سے ہمارے قدیم تعلقات رہے ہیں اگر ہم نے اس کی طرف توجہ نہیں دی تو ہماری سیاسی قیادت کھڑی نہیں ہو سکے گی اور انہیں بنیادوں پر ہم نے اپنیے ووٹ ضائع کیے، نتیجہ کیا ہوا اپنے رشتہ داروں کو بھائیوں ، بھتیجوں کو ہم جتا تو نہیں سکے ہاں اس عمل سے ایک اچھے امیدوار کی شکست کا سامان ضرور پیدا کر دیا۔ اس بار پھر ایسے چہرے میدان میں ہیں، ووٹ کٹوا امیدواروں کی اچھی خاصی تعداد ہمارے ووٹوں کی طرف گدھوں کی طرح آنکھ لگائے ہوئے ہے،ذیل کی فہرست سے اس کا بخوبی اندازہ ہو جائے گا ۔ خدا را جھانسے میں نہ آئیں ، سوچ سمجھ کر صحیح فیصلہ کریں اور جیتنے والے سیکولر امیدواروں کے حق میں متحد ہو کر ووٹ کریں ، اور ووٹ کٹوا امیدواروں کو سرے سے خارج کر دیں ۔ یہی وقت کی آ واز ہے ، ہمیں اس آواز کو سننا چاہئے اور سیاسی بیداری اور بصیرت کا ثبوت دینا چاہئے ، ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ بہار سے سیکولر اقداراورشفاف جمہوریت کے تابوت پر آخری کیل سیمانچل کے مسلمانوں کے ہاتھوں لگے، اگر ایسا ہوا تو بہار کے لیے یہ ایک سیاہ باب ہوگا ، اللہ ہم سب کو بصیرت عطا کرے ،ہماری ریاست کو امن و سکون کے ساتھ رکھے، اور اسے نقصان پہونچانے والے عناصر سے محفوظ رکھے (آمین)
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker