Baseerat Online News Portal

تین طلاق پرپابندی سپریم کوٹ کے دائرئہ اختیارسے باہر

مذہب کو ختم کردیا جائے تو سماجی اور ثقافتی اقدار کو زوال آجائے گا
مذہب میں کسی طرح کی مداخلت غیرقانونی: معروف ماہرقانون فیضان مصطفیٰ
علی گڑھ17اپریل: نلسار لاء یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر فیضان مصطفیٰ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی طلبأ یونین کے زیرِ اہتمام منعقدہ کل ہند سرسید میموریل ڈبیٹ2017 کی اختتامی تقریب میں’’ مذہبی آزادی اور بھائی چارہ‘‘ موضوع پر خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کو تب تک سیکولر ملک نہیں بنایا جاسکتا جب تک یہاں کے سبھی اقلیتی فرقوں کو مساوی مواقع اور خوف سے پاک زندگی بسر کرنے کی آزادی حاصل نہیں ہوجاتی۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں سیکولرازم کو مذہبی لوگوں کی وجہ سے قوت حاصل نہیں ہوئی ہے بلکہ ان تکثیری عناصر کے سبب حاصل ہوئی ہے جو مختلف مذاہب کے درمیان رواداری کو تکثیری زندگی کا اہم عنصر تسلیم کرتے ہیں۔پروفیسر مصطفیٰ نے کہا کہ مہاتما گاندھی کاماننا تھا کہ کوئی بھی سچا مذہب یا اس کے اصول بنیادی انسانی اقدار اور سچائی کے خلاف نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ آج دکھ کی بات ہے کہ عالمی انسانی فروغ انڈیکس میں ہندوستان کا مقام کافی نیچے ہے ایسی صورتِ حال میں کسی بھی طرح کی معاشی خوش حالی یا ترقی خود ہی بے معنی ہوجاتے ہیں۔تین طلاق کے موضوع پر پروفیسر مصطفیٰ نے کہا کہ تین طلاق پر پابندی لگانا سپریم کورٹ کے دائرۂ اختیار کاموضوع نہیں ہے کیونکہ اس طرح کا کائی بھی حکم ہندوستان کے کرمنل لاء کے تناظر میں بین مخالف ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نئے جرائم کو پیدا نہیں کرسکتی۔ کسی بھی عمل کو جرائم پر مبنی قرار دینے کے لئے پارلیامنٹ کے ذریعہ قانون بنانا ہوگا۔پروفیسرمصطفیٰ نے کہا کہ مذہب زندگی کا حاصل ہے اور اگر مذہب کو ختم کردیا جائے تو سماجی اور ثقافتی اقدار کو زوال آجائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں لوگ مختلف مذہبی اور ثقافتی اقدار کے ساتھ جیتے ہیں اور اس موضوع پر کسی بھی قسم کی باہری دخل اندازی ان کی ذاتی آزادی کے خلاف ہوگی۔پروفیسر مصطفیٰ نے کہا کہ ایک مذہبی انسان کی اصل خصوصیت ہی یہ ہے کہ وہ دوسرے طبقات کے خلاف کسی بھی طرح کی مخالفت کو پنپنے نہیں دیتا ۔ حالانکہ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ آج سماج میں کچھ اقدار کے مخالف لوگ مذہب کے نام پر ہی ایک دوسرے کا خون بہا رہے ہیں۔مذکرہ پروگرام کے فاتحین کو ڈاکٹر محب الحق، مسٹر عمر سلیم پیرزادہ، اے ایم یو طلبأ یونین کے صدر مسٹر فیض الحسن نے انعامات سے سرفراز کیا۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ٹیم نے اردو ڈبیٹ میں اول انعام حاصل کیا جبکہ اسی ٹیم کے محمد دانش کو بیسٹ اسپیکر کا انعام دیاگیا۔محمد علی جوہر یونیورسٹی اور جامعہ ہمدرد کی ٹیموں نے دوئم و سوئم انعامات حاصل کئے۔انگریزی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ٹیم نے اول انعام حاصل کیا جبکہ چنڈی گڑھ یونیورسٹی کے سراج علی نے بیسٹ اسپیکر کاانعام حاصل کیا۔ اس زمرے میں لاء کالج دہرہ دون اور لولی پروفیشنل یونیورسٹی کی ٹیم نے ٹرافی حاصل کی ۔ ایس آر کالج دہرہ دون کے آشوتوش جوشی کو بیسٹ اسپیکر قرار دیاگیا۔ اس زمرے میں جامعہ ملیہ اسلامیہ اور آر بی ایس کالج، آگرہ کو بالترتیب دوئم وسوئم انعام دیاگیا۔

You might also like