Baseerat Online News Portal

وزیر اعظم کابیان مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اجلاس کے موقف کوسبوتاژ کرنے کی کوشش

علماء دیوبند کے ذریعہ طلاق ثلاثہ کے عنوان سے شریعت اسلامیہ کے مخالف چلائی جانے والی تحریک کی پرزور مذمت
دیوبند،17؍ اپریل(سمیر چودھری اوررضوان سلمانی)گزشتہ روز مسلم پرسنل لاء بورڈ کے لکھنؤ میں منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں بورڈ نے طلاق ثلاثہ کو لیکر اپنے گزشتہ موقف کا اعادہ کرتے ہوئے تین طلاق دینے والوں کا سماجی بائیکاٹ کئے جانے کافارمولہ سامنے رکھا ہے وہیں بورڈ کی میٹنگ کے بعد اس معاملہ پر ایک مرتبہ پھر سیاست گرم ہوگئی ہے ۔ گزشتہ روز پھر وزیر اعظم نریندر مودی اور یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ذریعہ طلاق ثلاثہ پر دیا گیا بیان نہ صرف مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اجلاس کے بعد سامنے آئے بورڈ کے موقف کو کنڈم کرنے کی کوشش ہے بلکہ اس سے یہ بھی پوری طرح صاف کردیاگیا ہے کہ حکومت اپنے اسٹینڈ پر پوری طرح قائم ہے اور وہ طلاق ثلاثہ کو ہندوستانی قانون کے دائرہ میں لانے کی ہر ممکن اور آخری حد تک کوشش کریگی۔ اب یہاں سے دیکھنے والی بات یہ ہوگی آخر مسلم پرسنل لاء بورڈ اس شرعی حکم کے تحفظ کے لئے کیا راستہ اختیار کریگا؟۔11؍ مئی سے گرمی کی تعطیلات میں سپریم کورٹ نے اس کیس کی سماعت شروع کرنے کی ہدایت دے رکھی ہے،جہاں بورڈ کو نہ صرف مضبوط دلائل سے کورٹ کومطمئن کرنا ہے بلکہ حکومت اور میڈیا کے اسٹینڈ کو کمزورکرنے کے ساتھ پوری طرح کنڈم کرکے طلاق ثلاثہ کا شکار خواتین کو انصاف کی یقین دہانی کرانے کی ذمہ داری نبھانی ہے۔ طلاق ثلاثہ پر مرکزی و صوبائی حکومت کے اسٹینڈ اور وزیر اعظم نریندر مودی ووزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ذریعہ دیئے گئے بیانات پر علماء دیوبند نے سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ مرکزی وریاستی حکومتیں مسلمانوں نیز ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹا کر سارا زور اس بات پر صرف کررہی ہیں، جیسے مسلمانوں کے لئے کوئی اور مسئلہ ہی نہیں ہے اور ہر مسلمان تین طلاق کا استعمال ضروری سمجھتا ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی سفارشات اور حالیہ اجلاس میں منظور کی گئی قرار داد میں اس بات کو واضح کردیا گیا ہے کہ تین طلاق کسی بھی حالت میں کبھی بھی پسندیدہ نہیں رہی ہے جو مسلمان اس کا استعمال کرتے ہیں انہیں مسلم سماج میں پسندیدگی کی نظر سے نہ دیکھنا چاہئے، بلکہ ہم اس میں یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے افراد کے خلاف جو بہ یک نشست تین طلاق دے کر اپنے دل ودماغ کو سکون پہونچاتے ہیں وہ ملت اسلامیہ کے لئے ایک بدنما داغ ہیں اُن کا سماجی مقاطعہ بہت ضروری ہے، جہاں تک تین طلاق کے نفاذ کا تعلق ہے وہ تمام فقہی مکاتب میں نافذ ہوجاتی ہے اس لئے اس مسئلے پر ہمیں مزید رائے زنی سے اجتناب کرنا چاہئے، ویسے بھی مسلم سماج میں تین طلاق کا تناسب نہ ہونے کے برابر ہے۔ماہنامہ ترجمان دیوبند کے مدیر اعلی مولانا ندیم الواجدی ، اور یوپی رابطۂ کمیٹی کے سکریٹری ڈاکٹر عبید اقبال عاصم نے اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ ہم حکومت ہند کی طرف سے طلاق ثلاثہ کے عنوان سے شریعتِ اسلامیہ کے مخالف چلائی جانے والی تحریک کی پروزور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اول بات تو یہ ہے کہ اس گئے گذرے دور میں بھی مسلم سماج میں طلاق کا تناسب دوسرے مذاہب کے مقابلے بہت کم ہے اور جہاں کہیں مجبوری کی شکل میں اس صورت کو اختیار کرنا پڑتا ہے تو اس کے لئے طلاقِ ثلاثہ کوئی ضروری نہیں۔انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ مرکزی وریاستی حکومتیں مسلمانوں نیز ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹا کر سارا زور اس بات پر صرف کررہی ہیں، جیسے مسلمانوں کے لئے کوئی اور مسئلہ ہی نہیں ہے اور ہر مسلمان تین طلاق کا استعمال ضروری سمجھتا ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی سفارشات اور حالیہ اجلاس میں منظور کی گئی قرار داد میں اس بات کو واضح کردیا گیا ہے کہ تین طلاق کسی بھی حالت میں کبھی بھی پسندیدہ نہیں رہی ہے جو مسلمان اس کا استعمال کرتے ہیں انہیں مسلم سماج میں پسندیدگی کی نظر سے نہ دیکھنا چاہئے، بلکہ ہم اس میں یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے افراد کے خلاف جو بہ یک نشست تین طلاق دے کر اپنے دل ودماغ کو سکون پہونچاتے ہیں وہ ملت اسلامیہ کے لئے ایک بدنما داغ ہیں اُن کا سماجی مقاطعہ بہت ضروری ہے، جہاں تک تین طلاق کے نفاذ کا تعلق ہے وہ تمام فقہی مکاتب میں نافذ ہوجاتی ہے اس لئے اس مسئلے پر ہمیں مزید رائے زنی سے اجتناب کرنا چاہئے، ویسے بھی مسلم سماج میں تین طلاق کا تناسب نہ ہونے کے برابر ہے۔انہوں نے مسلمانوں سے بھی اپیل کی کہ وہ وقت اور حالات کے تقاضوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے عائلی مسائل کو شرعی عدالتوں کے ذریعہ حل کریں اور علمائے کرام حالات کے مطابق جو تصفیہ کردیں اُس کو تسلیم کریں تاکہ ملت اسلامیہ عدالتوں میں رسوا وبدنام نہ ہو، دونوں حضرات نے تمام مدارس سے یہ اپیل کی ہے کہ وہ اپنے اداروں میں دار القضاء بھی قائم کریں تاکہ مسلمان اپنے مسائل کے حل کے لئے عدالتوں میں نہ جائیں۔ انہوں نے مسلم پرسنل لاء بورڈ کی مجلس عاملہ کے فیصلوں کی مکمل تائید کرتے ہوئے کہا کہ طلاق کے تئیں مسلم معاشرے میں بیداری لانے کی ضرورت ہے اس سلسلے میں علماء کرام اور ائمہ مساجد مؤثر رول ادا کرسکتے ہیں انہیں چاہئے وہ اپنی تقریروں میں اور جمعہ کے خطبوں میں طلاق کو موضوع بنائیں اور مسلمانوں کو بتلائیں کہ طلاق کتنی بری چیز ہے اور اگرمیاں بیوی میں علیحدگی ناگزیر ہو تو قرآن کریم نے اس کا کیا طریقہ تجویز کیا گیا ہے ،مسلمانوں کو چاہئے کہ اس طریقے پر عمل کرکے زوجین میں علیحدگی کرائیں انہوں نے کہا کہ طلاق کے سلسلے میں برادران وطن کے دل ودماغ میں میڈیا کے ذریعہ جو غلط فہمیاں پیدا کردی گئی ہیں ان کے ازالہ کے لئے ہر بستی اور ہر شہر میں برادران وطن کے اجتماعات منعقد کئے جائیں اور ان کو صحیح صورت حال سے روشناس کرایا جائے دونوں علماء نے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اس فیصلے کی بھی بھرپور تائید کی کہ بابری مسجد کے سلسلے میں عدالت کا فیصلہ قابل قبول ہوگا اب جبکہ سالہا سال سے بابری مسجد کا کیس عدالت میں زیر غور ہے فیصلہ کا منتظر ہے ،ماورائے عدالت فریقین میں گفتگو کا شوشہ چھوڑنا بدنیتی پر مبنی ہے اس تنازع کا صحیح حل عدالت ہی کے ذریعہ ممکن ہے اور دونوں فریقوں کو عدالت کا فیصلہ تسلیم کرنے کا اعلان کرنا چاہئے ۔

You might also like