Baseerat Online News Portal

کشمیر کے تعلیمی اداروں میں کشیدگی

سیکورٹی فورسز کی کاروائی میں قریب 2 درجن طلباء زخمی
سری نگر، 17 اپریل (یو ا ین آئی) وادئ کشمیر کے قریب دو درجن تعلیمی اداروں بالخصوص ڈگری کالجوں میں پیر کے روز شدید احتجاجی مظاہرے بھڑک اٹھے جس کے دوران سیکورٹی فورسز نے دارالحکومت سری نگر میں واقع تاریخی سری پرتاب (ایس پی) کالج، شوپیان، بارہمولہ، سوپور، ہندواڑہ اور پلوامہ میں احتجاجی طلباء کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج، رنگین پانی کی بوچھاروں اور آنسو گیس کے گولوں کا شدید استعمال کیا۔طلباء اور سیکورٹی فورسز کے مابین ہونے والی ان جھڑپوں میں قریب دو درجن طالب علموں اور متعدد سیکورٹی فورس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے صورتحال کو انتہائی پریشان کن قرار دیا ہے۔ وادی میں طلباء کی جانب سے یہ احتجاجی مظاہرے سیکورٹی فورسز کی جانب سے 15 اپریل کو ڈگری کالج پلوامہ میں طالب علموں کے خلاف مبینہ طور پر طاقت کے بے تحاشا استعمال کے خلاف منظم کئے گئے۔ڈگری کالج پلوامہ میں 15 اپریل کو طلباء اور سیکورٹی فورسز کے مابین ہونے والی پُرتشدد جھڑپوں میں قریب 60 طالب علم زخمی جبکہ 20 طالبات بے ہوش ہوگئی تھیں۔صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر ضلع انتظامیہ نے ڈگری کالج پلوامہ کو پیر سے دو روز کے لئے بند رکھنے کے احکامات جاری کر رکھے ہیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق ڈگری کالج پلوامہ میں طاقت کے بے تحاشہ استعمال کے خلاف سری نگر کے مولانا آزاد روڑ پر واقع سری پرتاب (ایس پی) کالج کے سینکڑوں طلباء پیر کی صبح سیکورٹی فورس مخالف اور آزادی حامی نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔تاہم جب احتجاجی طلباء نے تاریخی لال چوک کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی، تو وہاں تعینات سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں نے انہیں منتشر کرنے کے لئے پہلے لاٹھی چارج اور بعد میں آنسو گیس کے شیلوں کا استعمال کیا۔اطلاعات کے مطابق اگرچہ سیکورٹی فورسز طلباء کو کالج احاطے کے اندر واپس دھکیلنے میں کامیاب ہوگئے، تاہم طلباء مشتعل ہوئے اور سیکورٹی فورسز پر شدید پتھراؤ کرنے لگے۔کالج احاطے کے اندر طلباء اور سیکورٹی فورسز کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔ غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق سیکورٹی فورسز نے طلباء کے خلاف سٹنٹ گرینیڈوں، پاوا شیلوں اور مبینہ طور پر چھرے والی بندوقوں کا بھی استعمال کیا۔اطلاعات کے مطابق جھڑپوں کے دوران کسی جانی نقصان کو ٹالنے کے لئے ایک مجسٹریٹ کو بھی کالج احاطے کے اندر تعینات رکھا گیا۔ جھڑپوں کے دوران پولیس تھانہ کوٹھی باغ کے ایس ایچ او کے علاوہ متعدد طالب علم زخمی ہوگئے ہیں۔کچھ ایک طالبات کے بے ہوش ہونے کی اطلاعات ہیں۔ جنوبی کشمیر کے شوپیان، کولگام و پلوامہ اور شمالی کشمیر کے بارہمولہ، ہندواڑہ و سوپور میں بھی طلباء اور سیکورٹی فورسز کے مابین پُرتشدد جھڑپیں ہوئی ہیں۔ان جھڑپوں میں بھی متعدد طلباء کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ڈگری کالج پلوامہ کے واقعہ کے خلاف امرسنگھ کالج سری نگر، وومنز کالج سری نگر، کشمیر یونیورسٹی، سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر، ڈگری کالج بڈگام، ڈگری کالج گاندربل و کنگن کے علاوہ پٹن ، اننت ناگ اور سمبل میں طلباء کی جانب سے طلباء کی جانب سے احتجاجی مظاہرے منظم کئے گئے۔دریں اثنا ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے کارگذار صدر عمر عبداللہ نے وادی کے تعلیمی اداروں میں بھڑک اٹھنے والے احتجاجی مظاہروں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پلوامہ واقعہ کے بعد تعلیمی اداروں کو کچھ دنوں کے لئے بند رکھا جانا چاہیے تھا۔انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا ہے کہ ‘کیا محبوبہ مفتی صورتحال سے آگاہ نہیں ہے۔ انہوں نے مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ری ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ‘پلوامہ جھڑپوں کے بعد تمام کالجوں اور یونیورسٹیوں کو کچھ دنوں کے لئے بند کیوں نہیں رکھا گیا؟کیا وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی صورتحال سے آگاہ نہیں ہے؟۔عمر عبداللہ نے ایک صحافی کے ٹویٹ پر ری ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ‘یہ انتہائی پریشان کن صورتحال ہے۔

You might also like